بلوچستان ہائی کورٹ کا وراثت میں خواتین کے حق سے متعلق تاریخی فیصلہ: ’اگر جائیداد خواتین شیئر ہولڈرز کا نام نکال کر منتقل کی تو یہ عمل کالعدم ہو گا‘

پاکستان کے صوبے بلوچستان کی ہائی کورٹ نے وراثت میں خواتین کے حق سے متعلق فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ وراثت پہلے تمام شیئر ہولڈرز بشمول خواتین کے نام منتقل کی جائے اور پھر اس کے بعد اس کے انتقال کی کارروائی کی جائے گی۔

عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ’اگر کوئی بھی جائیداد خواتین شیئر ہولڈرز کا نام چھپا کر یا نکال کر منتقل کی گئی تو انتقال کا سارا عمل کالعدم ہو جائے گا اور سول عدالت سے رجوع کیے بغیر یہ سارا عمل پلٹا دیا جائے۔‘

بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس کامران ملا خیل پر مشتمل بینچ نے کہا ہے کہ ’خواتین کے حقوق کا تحفظ قرآن مجید میں کیا گیا ہے جس سے انکار کسی صورت نہیں کیا جاسکتا لہذا خواتین اپنے متوفی کی میراث میں حقدار ہیں۔‘

بی بی سی کے نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق عدالت نے یہ حکم بلوچستان کے سینیئر وکیل اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنما ساجد ترین ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر کردہ درخواست پر صادر کیا۔

اس درخواست میں یہ کہا گیا تھا کہ وراثت میں خواتین کو ان کے حق سے محروم کیا جاتا ہے۔ درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ سرکاری مدعا علیہان کو یہ حکم جاری کیا جائے کہ مووایبل اور ام مووایبل جائیداد میں خواتین کے حصے کو یقینی بنائیں۔

عدالت کا کہنا تھا کہ ’فیصلے کی طرف جانے سے پہلے یہ بات ہمیں نوٹ کر لینی چاہیے کہ ہم اکیسویں صدی کا حصہ اور تعلیم یافتہ ہونے کا دعوی کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود بھی خواتین شیئر ہولڈرز کو ان کے حق وراثت سے محروم رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔‘

خواتین

عدالت نے کہا کہ ’اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ہر فرد کے حقوق کا تحفظ کرتے ہوئے اس عمل کی حوصلہ شکنی کریں اور اسے روکیں۔‘

عدالت کا کہنا تھا کہ ’کسی بھی خاتون حصہ دار کو اس کے حق سے دستبرداری نامہ، تحفے، دلہن کا تحفہ، نگہداشت الاؤنس، جبر یا کسی بھی ذریعے سے اس کے متوفی وارث کی جائیداد سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔‘

عدالت نے قرار دیا کہ اگر ان وجوہات یا کسی بھی طرح خاتون وارث کو وراثت سے محروم کیا گیا تو اس کے انتقال کا سارا عمل کالعدم ہو جائے گا۔‘

عدالت نے حکم دیا کہ بلوچستان بھر میں کہیں بھی سیٹلمنٹ کا عمل اس وقت تک نہیں کیا جائے گا جب تک یہ یقینی نہ بنایا جائے کہ خاتون وارثوں کے نام اس میں شامل کر لیے گئے ہیں۔ عدالتی فیصلے کے مطابق اگر کسی خاندان میں کوئی خاتون نہیں ہے تو ریونیو حکام متعلقہ تفصیلات میں خاص طور پر اس کا ذکر کریں گے۔

بلوچستان ہائی کورٹ کے بینچ نے کہا کہ سیکریٹری یا سینیئر ممبر بورڈ آف ریونیو اس ضمن میں یہ بات نہ صرف یقینی بنائیں گے بلکہ اپنے ماتحت ریونیو یا سیٹلمنٹ اہل کاروں کو بھی اس کی ہدایت کریں گے کہ کسی بھی علاقے میں سیٹلمنٹ آپریشن شروع کرنے سے قبل مطلوبہ علاقے کی مقامی زبان اور اردو میں کتابچے تقسیم کیے جائیں۔

ہائی کورٹ

عدالت نے کہا کہ یہ کتابچے اور ہینڈ بلزگرلز سکولوں، کالجز، ہسپتالوں میں لیڈی کانسٹیبل، لیڈی ٹیچر یا متعلقہ بنیادی صحت مرکز ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کی نرس یا میڈ وائف کے ذریعے تقسیم کرائے جائیں۔

عدالت کا کہنا ہے کہ سیٹلمنٹ والے علاقوں کے متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کو پابند بنایا جائے کہ وہ ان علاقوں کی نہ صرف مساجد اور مدارس میں لاؤڈ اسپیکرز کے ذریعے اعلان کروائیں بلکہ سیٹلمنٹ آپریشن والے مقررہ علاقوں کی حدود میں نقاروں کے ذریعے علاقے میں بھی اعلانات کروائیں۔

عدالت نے ڈی جی نادرا کو حکم دیا کہ وہ متعلقہ ضلع و تحصیل کے ریونیو آفس میں رجوع کرنے یا درخواست دینے والوں کے لیے خصوصی ڈیسک قائم کریں جو اس متوفی مورث کا شجرہ نسب فراہم کرے گا جس کی جائیداد تقسیم ہونی ہے، یا پھر سیٹلمنٹ آپریشن کے دوران مرحوم اور اس کی جائیداد میں تمام قانونی وارثین چاہے مرد ہوں یا خواتین، ان کے ناموں کی شمولیت یقینی بنائی جائے گی۔

ڈی جی نادرا کو یہ بھی حکم دیا گیا کہ وہ رجسٹریشن ٹریک سسٹم (RTS) کے ذریعے قانونی وارث خاتون کی شادی کے بعد اس کے شوہر کے شجرہ نسب میں نام کی شمولیت یقینی بنائے اور خواتین کو ان کے قانونی حق سے کسی بھی طرح محروم رکھنے سے بچانے کے لیے والد کی طرف سے بھی شجرہ نسب معلوم کرے۔

عدالت نے سیکرٹری اور ممبر بورڈ آف ریونیوکو حکم دیا کہ وہ ریونیو آفس میں خصوصی ڈیسک کے قیام تک شجرہ نسب کی فراہمی میں غیر ضروری تاخیر سے بچنے کے لیے ڈی جی نادرا کے مکمل میکنزم کی تشکیل کے لیے اجلاس بلوائیں اور میکنیزم کی تشکیل تک اس فیصلے پر عملدرآمد کے لیے عبوری طریقہ کار وضع کریں۔

عدالت کی جانب سے سکریٹری اور ممبر بورڈ آف ریونیو کو مزید حکم دیا گیا کہ وہ ایک شکایت سیل ایڈیشنل سیکرٹری رینک کے افسر کی نگرانی میں ریونیو آفس میں قائم کریں گے تاکہ سیٹلمنٹ آپریشن و وراثت کے عمل میں غیر ضروری تاخیر سے بچا جا سکے اور اس کے ذریعے غیر قانونی مراعت کے امکان کو بھی رد کیا جا سکے۔

عدالت نے بورڈ آف ریونیو اور اس کے ماتحت عملے کو سختی سے حکم دیا کہ قانونی وارث کو محروم رکھنے کی شکایت موصول ہوئی تو ایسے غلط کام کرنے والوں کے خلاف تعزایرت پاکستان کے 498A کے تحت کیس درج کر کے قانونی کارروائی شروع کی جائے۔

خواتین

فیصلے میں سول عدالتوں کو بھی ہدایت کی گئی کہ وراثت سے متعلق دائر مقدمات جو کہ زیرالتوا ہیں ان کا فیصلہ اس حکم کے موصول ہونے کے تین ماہ کے اندر اندر کر دیا جائے یا پھر التوا کیسز کے لیے یہ مدت چھ ماہ سے زائد نہیں ہونی چاہیے۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ اگر کوئی نیا مقدمہ قائم ہوتا ہے تو اسے بطور وراثت کا مقدمہ/اپیل/ رویژن/ پٹیشن درج کیا جائے اور اس کا فیصلہ تین ماہ میں بغیر مزید وقت دیے کر دیا جائے۔

عدالتی فیصلے کے مطابق اسی طرح ایپلٹ کورٹ اور ری ویژن کورٹ میں زیر التوا تمام درخواستوں کو ترجیحاً ایک ماہ میں نمٹا دیا جائے لیکن تاخیر کی صورت میں درخواست کو دو ماہ سے زیادہ التوا میں نہ رکھا جائے۔ عدالت عالیہ کی انسپکشن ٹیم کا ممبر ان احکامات پر من و عن عمل درآمد کے لیے سرکلر جاری کریں۔

فیصلے میں بلوچستان ہائی کورٹ کے رجسٹرار کو بھی حکم دیا گیا ہے کہ اگر کوئی بھی شکایت متاثرہ شخص کی جانب سے کسی ریونیو سیٹلمنٹ اہلکار یا کسی بھی غیر سرکاری فرد کی بابت موصول ہوتی ہے کہ اس نے وراثت یا سیٹلمنٹ میں قانونی خاتون وارث کو محروم رکھا ہے تو درخواست ہائی کورٹ میں غور کے لیے پیش کی جائے۔ اور اس پر مناسب حکم دیے جانے کے بعد اسے فورا سینیئر ممبر بورڈ آف ریونیو کی اطلاع اور عملدرآمد کے لیے بھجوایا جائے۔

error: