بلیک پونڈ: پاکستان سے غیرقانونی طور پر سمگل ہونے والے قیمتی کچھوے کہاں اور کتنے میں فروخت کیے جاتے ہیں

صوبہ سندھ کے محکمہ جنگلی حیات کا کہنا ہے کہ انھوں نے 42 قیمتی کچھوؤں کی سمگلنگ کی کوشش کو ناکام بناتے ہوئے ان کچھوؤں کو اُن کی قدرتی آمجگاہ میں واپس چھوڑ دیا ہے۔

برآمد ہونے والے کچھوئے ’بلیک پونڈ‘ نسل کے ہیں۔

محکمہ وائلڈ لائف سندھ کے اہلکار نعیم خان کے مطابق بین الاقوامی سمگلر بلیک پونڈ نسل کے ایک کچھوے کی قیمت مقامی سمگلرز کو 80 ہزار پاکستانی روپے تک ادا کرتے ہیں اور اگر اس حساب سے دیکھا جائے تو پکڑے جانے والے 42 کچھوؤں کی مجموعی قیمت 33 لاکھ سے زیادہ ہو سکتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں اُس نسل کے کچھوؤں کی قیمت اس سے بھی زیادہ ہے۔

انھوں نے بتایا کہ اس نسل کے کچھوؤں کا رنگ کالا ہوتا ہے اور جسامت بہت چھوٹی۔ اُن کے مطابق ان کچھوؤں کا سائز زیادہ سے زیادہ چار انچ اور کم سے کم ڈیڑھ انچ تک ہوتا ہے۔ ’ہمارا خیال ہے کہ ان کو کچھ شوقین مزاج لوگ پالتو جانور کے طور پر رکھتے ہیں۔ یہ شوق چین، یورپ اور امریکہ میں بہت زیادہ ہے۔‘

نعیم محمد خان کا کہنا تھا کہ ان کچھوؤں کی سمگلنگ میں ملوث دو ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔ گرفتار ملزمان غیر قانونی طور پر پکڑے گے کچھووں کو اپنی شناخت چھپا کر سوشل میڈیا پر فروخت کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ’جب ہمیں اس کی اطلاع ملی تو ہمارے سٹاف نے ان لوگوں کے ساتھ گاہگ بن کر رابطہ کیا اور ان سے نمونے دکھانے کا مطالبہ کیا۔‘

’گرفتار ملزماں انتہائی تیز طرار تھے۔ انھوں نے ہماری ٹیم کو مختلف اوقات میں کراچی کے چار مختلف مقامات پر بلایا۔ غالبا وہ تسلی کرنا چاہتے تھے کہ ہم گاہگ ہی ہیں۔ جب ان کو تسلی ہوئی تو وہ ہمیں ملے اور نمونے کے طور پر بلیک پونڈ دکھایا تو ٹیم نے ان کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا۔‘

بلیک پونڈ کہاں پایا جاتا ہے؟

کچھوا
،تصویر کا کیپشنبرآمد کیے گئے کچھوے

ماہرین کے مطابق پاکستان میں کچھوے کی مجموعی طور پر 11 انواع پائی جاتی ہیں۔ جن میں آٹھ میٹھے یا تازہ پانی اور تین سمندری (نمکین پانی) میں پائی جاتی ہیں۔ میٹھے یا تازہ پانی کا کچھوا دریائے سندھ، پنجاب اس سے منسلک دریاؤں، ملحقہ ندی نالوں، چشموں، تالابوں میں پایا جاتا ہے۔

نعیم محمد خان کا کہنا تھا کہ بلیک پونڈ دیگر کچھووں کی طرح سندھ اور پنجاب کے تازہ پانیوں میں پایا جاتا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ عموماً جب بارشوں کے بعد دریاؤں یا نہروں میں پانی کم ہو جاتا ہے تو بننے والے چھوٹے تالابوں یا گڑھوں میں کچھوئے رہ جاتے ہیں، اسی لیے اس کا نام پونڈ اور رنگ کی وجہ سے بلیک پونڈ کہا جاتا ہے۔

ماحولیات کے لیے کام کرنے والے قانون دان ظفر اقبال ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ چند سال پہلے تک بلیک پونڈ سمیت کچھوے کی دیگر انواع ہمارے پانیوں میں عام ہوتی تھیں مگر اب تو ان کو باقاعدہ تلاش کرنا پڑتا ہے۔

کچھوؤں کی غیر قانونی خرید و فروخت

سرکاری اور غیر سرکاری ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ کچھوے کی غیر قانونی تجارت میں پاکستان کے علاوہ نیپال، ہانگ کانگ، انڈونیشیا، سنگاپور، جنوبی کوریا اور ویتنام سر فہرست ہیں۔ ماہرین کے مطابق پینگولین کے بعد سے سے زیادہ غیر قانونی خرید و فروخت کچھوے کی ہوئی ہے۔

چند ماہ پہلے تک کچھووں کے حفاظتی یونٹ کے انچارج رہنے والے اور اب وائلڈ لائف سندھ ڈپٹی کنزویٹر کے مطابق موسمی اور ماحولیاتی عوامل کی تبدیلیوں کے علاوہ کچھوؤں کے غیر قانونی کاروبار کے سبب سے اس کی تعداد میں ریکارڈ کمی پیدا ہوئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ2019 میں لگائے گے ایک اندازے کے مطابق پچھلے پندرہ، بیس سال کے مقابلے میں کچھوؤں کی تعداد میں ستر فیصد کمی پیدا ہوچکی ہے۔

عدنان حامد خان کا دعویٰ تھا کہ حکومت کچھوؤں کی سمگنگ اور غیر قانونی خرید و فروخت روکنے کے لیے بھرپور کوشش کر رہی ہے۔

2014 سے لے کر 2019 تک آٹھ ہزار کچھوؤں کی سمگلنگ کی کوشش ناکام بنائی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’بین الاقوامی مارکیٹ میں مختلف اقسام کے ایک کچھوے کی قیمت گیارہ سو ڈالر سے لے کر پندرہ سو ڈالر ہے۔ مقامی طور پر کچھوے کی خرید و فروخت اور سمگل کرنے کے لیے رشوت تک کے مراحل ایک سو پچاس ڈالر سے لے کر ایک سو پچپن ڈالر میں طے ہوتے ہیں۔

عدنان حامد خان کا خیال ہے کہ دنیا میں کچھوؤں کی بڑی مارکیٹ چین ہیں۔ یہ انتہائی منافع بخش کاروبار ہے جس کے لیے سمگلرز نئے نئے روٹ تلاش کرتے رہتے ہیں۔

کچھوئے
،تصویر کا کیپشنبرآمد کیے گئے کچھوے

نعیم محمد خان کا کہنا تھا کہ چند ماہ قبل کراچی میں چین کے کچھ لوگوں کی رہائش گاہ پر سے بھی بڑی تعداد میں کچھوے اور ان کے خول بر آمد ہوئے تھے۔ چین میں کچھوا کا خول سوپ کے لیے جب گوشت کھانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

ظفر اقبال ایڈووکیٹ کے مطابق چین میں کچھوے کو مقامی ادوایات کے علاوہ دیگر مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس میں اس کے خول کو پاوڈر بنا کر جنسی طاقت کی دوا کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

پانیوں میں زہر کا استعمال

ظفر اقبال ایڈووکیٹ کے مطابق سندھ میں مچھلی کے شکار پر کوئی خاص پابندیاں نہیں ہیں۔ عائد کردہ پابندیاں کچھ سال پہلے عدالتی حکم پر ختم کر دی گئی تھیں یا کم کردی گئی تھیں جس بنا پر سندھ کے اندر مچھلی کے شکار کے لیے سینکڑوں نہیں ہزاروں لوگوں کے پاس لائسنس ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اسی طرح شکار کے طریقہ کار پر بھی کوئی خاص پابندیاں نہیں ہیں۔ مچھلی کے شکار کے لیے بڑے جال استعمال کیئے جارہے ہیں جن پر پابندی ہونا چاہیے کیونکہ یہ بڑے جال مچھلیوں کے علاوہ کچھووں کے لیے بھی موت کا پیغام لاتے ہیں۔ بڑے جال کے استعمال کی وجہ سے اکثر اوقات چھوٹے کچھوے پھنس جاتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ مچھلی کا جلد شکار کرنے کے لیئے پانی میں زہر استعمال کرنے کا رواج اب عام ہو چکا ہے۔ جس سے نہ صرف یہ کہ پانی اور مچھلی کو نقصاں پہنچتا ہے بلکہ کچھوے سمیت دیگر آبی مخلوق بھی متاثر ہو رہی ہے۔

کچھوؤں کی کمی سے ماحولیاتی مسائل

جاوید احمد مہر چیف کنزویٹر وائلڈ لائف صوبہ سندھ کا کہنا ہے کہ ہماری ایک تحقیق میں پتہ چلا ہے کہ پانی میں بڑھتی ہوئی آلودگی کی ایک بڑی وجہ کچھوؤں کی کمی بھی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’کچھوے ماحولیاتی نظام میں انتہائی اہمیت کے حامل ہیں، قدرت نے کچھوے کو آبی ماحولیاتی نظام کے خاکروب کا کردار سونپا ہے۔ یہ اپنی خوراک مردہ اجسام، بیمار مچھلیوں و آبی جانور، انسانی صحت کے لیے خطرناک کیڑے مکوڑے اور جراثیم کھا کر حاصل کرتے ہیں۔ اس طرح یہ پانی کے ذخائر کو آلودگی سے پاک رکھنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’دریائے سندھ کے میدانی علاقوں میں یہ صورتحال انتہائی سنگین ہوتی جا رہی ہے۔ ان علاقوں میں پانی سے پیدا ہونے والے امراض بڑھ چکے ہیں بلکہ ہر گھر میں ایک مریض موجود ہے۔‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: