بلی سے انسان میں کورونا وائرس کی منتقلی کا پہلا کیس رپورٹ

تھائی لینڈ میں سائنسدانوں نے ایک پالتو بلی کے ذریعے ایک ویٹرنری سرجن میں کورونا وائرس کی منتقلی کے پہلے ٹھوس ثبوت کی اطلاع دی ہے۔

تاہم  رپورٹ کے مطابق محققین کا کہنا ہے کہ بلی سے انسان میں وائرس کی منتقلی کے ایسے واقعات شاذ و نادر ہی ہوتے ہیں۔

سائنسی جریدے ‘نیچر’ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق محققین نے کہا کہ نتائج قابل یقین ہیں لیکن حیران ہیں کہ اس منتقلی کو سامنے آنے میں اتنا وقت لگا۔

یو ایس سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونشن کے ابھرتے ہوئے متعدی امراض کے جریدے کے شریک مصنف سارونیو چسری کے مطابق 6 جون کو جریدے میں شائع ہونے والی یہ دریافت حادثاتی طور پر سامنے آئی۔

اگست 2021 میں کورونا وائرس سے متاثر ایک باپ اور بیٹے کو یونیورسٹی کے اسپتال کے آئسولیشن وارڈ میں منتقل کیا گیا، ان کی 10 سالہ بلی کا بھی ٹیسٹ کیا گیا جو مثبت آیا۔

لہذا اب ٹیسٹ کے دوران بلی نے خاتون ویٹرنری سرجن کے چہرے پر چھینک دیا تھا جس نے ماسک اور دستانے پہن رکھے تھے لیکن آنکھوں کی حفاظت کا انتظام نہیں کیا تھا۔

تین روز بعد ویٹرنری ڈاکٹر نے بخار اور کھانسی محسوس کی اور بعد میں ان کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا لیکن ان کے قریبی رابطوں میں آنے والوں میں سے کسی میں بھی یہ بیماری نہیں پھیلی، جس سے یہ ظاہر ہوا کہ وہ کورونا سے بلی کے ذریعے متاثر ہوئیں۔

ہانگ کانگ یونیورسٹی کے ماہر وائرولوجسٹ لیو پون کا کہنا ہے کہ تجرباتی مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ کورونا سے متاثرہ بلیاں زیادہ وائرس نہیں پھیلاتیں اور یہ صرف چند روز کے لیے وائرس کے پھیلاؤ کا سبب بنتی ہیں۔

سارونیو چسری نے کہا کہ ایسے معاملات میں لوگوں کو اپنی بلیوں کو چھوڑ نہیں دینا چاہیے بلکہ مزید خیال رکھنا چاہیے۔

error: