بندرگاہوں پر برتھنگ کے تنازع میں سندھ ہائی کورٹ کی مداخلت

کراچی: سندھ ہائی کورٹ نے پورٹ حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ بندرگاہوں کے قواعد اور پالیسی کے مطابق 23 دسمبر تک سیمنٹ/کلینکر ایکسپورٹ کرنے والی فرم اور تیل کے بیج درآمد کنندگان کے لیے جہاز کی برتھنگ کی اجازت دے۔

 رپورٹ کے مطابق سید ظفر احمد راجپوت کی سربراہی میں سندھ ہائی کورٹ کے سنگل بینچ نے پورٹ اور دیگر متعلقہ حکام کو اس معاملے میں مدعا علیہ کے نام سے منسوب نوٹسز جاری کرتے ہوئے ہدایت کی کہ وہ آئندہ سماعت تک اپنے جواب داخل کریں۔

اٹک سیمنٹ پاکستان لمیٹڈ اور دیگر نے کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) اور پورٹ قاسم حکام کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں مقدمہ دائر کیا تھا جس میں ان کے جہازوں کو برتھنگ کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا کیونکہ گندم اور چینی کے سامان کو ترجیح دیے جانے کی وجہ سے ان کے جہازوں کو روک دیا جاتا ہے، بینچ نے نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا کہ دریں اثنا مدعا علیہان 2 اور 3 کو اگلی سماعت تک 'محکمہ ٹریفک کے لیے کراچی پورٹ کے مینوئیل اور 'فوجی اکبر پورٹیا میرین ٹرمینلز کی برتھنگ پالیسی کے تحت مدعی کے جہازوں کی برتھنگ کی اجازت دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔‎

حکومت نے بندرگاہ کے حکام سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ گندم اور چینی لیے جانے والے جہازوں کو اولین ترجیحی دیں تاکہ مقامی منڈیوں میں ان اشیا کی آمد کو تیز کیا جا سکے تاکہ ان کی قیمتوں میں اضافے کو کنٹرول کیا جاسکے، اس کے نتیجے میں برآمدات اور مختلف اشیا کی درآمد سے متعلق سرگرمیاں شدید رکاوٹ کا شکار ہو گئیں جس کے نتیجے میں برآمدات کے لیے کلنکر لے جانے والے جہازوں کو صاف کرنے میں طویل تاخیر ہوئی جبکہ تیل کے بیج کے درآمد کنندگان اور کھاد سازوں نے بھی اپنی درآمدی جہازوں کی صفائی میں تاخیر کی شکایت کی۔

چیئرمین پاکستان شپ ایجینٹس ایسوسی ایشن محمد اے راجپر نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔

ڈان سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کے پی ٹی میں ٹرانسپورٹ، مناسب سامان اور مزدوری کی دستیابی کا پتہ لگانے کے بعد کسی بھی وقت گندم کے تین سے زیادہ جہازوں کو برتھ نہیں دینی چاہیے، فی الحال گندم کے سات جہازوں کو جگہ دے دی گئی ہے لہٰذا ہر ایک کے اخراجات کا اخراج ناممکن ہے، معاملات کو سمجھنے کے لیے کے پی ٹی کی جانب سے ایک گیئر لیس گندم کے جہاز کی مدد کی گئی ہے جو خارج ہونے والے اوسط کی شرح کو مزید کم کردے گی۔

انہوں نے کہا کہ گندم، چاہے وہ سرکاری یا نجی شعبے سے درآمد کی جائے، پاکستان کا کارگو ہے اور پہلے آئیے پہلے پائیے کی پالیسی (گندم کے جہازوں) پر لاگو کی جانی چاہیے، جیسے ہی موجودہ گندم کا بحران ختم ہوگا، ترجیحی برتھنگ کے موجودہ عمل کو روکا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ 9 دسمبر 2020 تک 17لاکھ ٹن گندم درآمد کی جا چکی تھی اور اس میں برتھنگ کے سلسلے میں مزید ترجیح کی ضرورت نہیں ہے۔

ظفر احمد راجپر نے کہا کہ پورٹ قاسم میں MW-1 اور MW-2 انتہائی دباؤ کا شکار ہے، پورٹ قاسم اتھارٹی کو ضروری انتظامات کرنے کے بعد کارگو ہینڈلنگ کے لیے MW-3 اور MW-4 کا استعمال کرنا چاہیے اور چینی آپریٹر کے ساتھ ساتھ یہ بھی یقینی بنانا چاہیے کہ صرف خصوصی ٹرمینلز صرف خصوصی کارگوز کو ہی سنبھال لیں۔

انہوں نے کہا کہ 29 نومبر 2018 سے آئل پیئر 3 کی غیر معینہ مدت بندش سے آئل ٹینکروں کے لیے کراچی پورٹ ٹرسٹ میں بندرگاہ کی صورتحال 'خوفناک' ہے اور آئل پیئر 1 کی صورتحال اس حد تک خراب ہے کہ پائلٹوں نے برتھنگ سے انکار کردیا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.