بنگلہ دیش نے بھارتی دباؤ کے سبب دورہ پاکستان سے انکار کیا، وزیر خارجہ

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے دورہ پاکستان پر سری لنکن ٹیم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ بنگلہ دیشی ٹیم نے بھارت کے دباؤ کے سبب پاکستان آنے سے انکار کیا۔

اتوار کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اہم قومی امور پر روشنی ڈالنے کے ساتھ ساتھ حال ہی ٹیسٹ کے لیے پاکستان آنے والی سری لنکن ٹیم کا شکریہ بھی ادا کیا۔

یاد رہے کہ مارچ 2009 میں سری لنکن ٹیم پر دہشت گرد حملے کے بعد سے پاکستان پر انٹرنیشنل کرکٹ کے دروازے بند ہو گئے تھے اور اس کے بعد پاکستان کو اپنی تمام ہوم سیریز متحدہ عرب امارات کی سرزمین پر کھیلنی پڑیں۔

اس دوران پاکستان سپر لیگ کی بدولت ملک میں بتدریج محدود اوورز کی کرکٹ بحال ہوتی رہی لیکن ٹیسٹ کرکٹ کی بحالی میں پاکستان کرکٹ بورڈ کو مسلسل ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔

بالآخر 10سال کے طویل وقفے کے بعد حملے کا نشانہ بننے والے سری لنکن ٹیم نے ایک مرتبہ پھر جرات مندانہ قدم اٹھاتے ہوئے ٹیسٹ سیریز کے لیے پاکستان کا دورہ کیا اور پاکستان کے میدانوں کو ٹیسٹ کرکٹ سے آباد کردیا۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سری لنکن کرکٹ ٹیم کے دورہ پاکستان پر شکر گزار ہیں، ہم نے انہیں بھرپور سیکیورٹی دی۔

ان کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش کی ٹیم پاکستان آنے کو تیار تھی لیکن شاید بھارتی دباؤ کی وجہ سے انہوں سے انکار کیا لیکن بنگلہ دیش کو اپنے موقف پر قائم رہتے ہوئے کسی کے بھی دباؤ میں نہیں آنا چاہیے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ اگر بنگلہ دیش کی ٹیم پاکستان کا دورہ کرتی تو ہم انہیں بھی بھرپور سیکیورٹی فراہم کرتے۔

یاد رہے کہ بنگلہ دیش کی ٹیم کو آئندہ سال کے پہلے مہینے میں پاکستان میں ٹیسٹ اور ٹی20 سیریز کھیلنی ہے۔

بنگلہ دیشی ٹیم ٹی20 سیریز کے لیے تو دورہ پاکستان پر رضامند ہے لیکن ٹیسٹ میچ کے لیے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ ٹیم پاکستان بھیجنے پر رضامند نہیں۔

بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو نظام الدین چوہدری نے کہا ہے کہ ہم اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں، ہم پاکستان میں صرف ٹی20 میچز کھیلنا چاہتے ہیں، بنگلہ دیش طویل دورہ پاکستان کے حوالے سے شکوک و شبہات کا شکار ہے۔

تاہم پاکستان کرکٹ بورڈ نے بھی اس معاملے پر دوٹوک موقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اپنے میچز اب ہوم گراؤنڈ پر ہی کھیلے گا اور بغیر کسی ٹھوس وجہ کے میچز پاکستان سے کہیں اور منتقل نہیں کیے جائیں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: