بنگلہ دیش کی کامیابی کی کہانی

"عشرت حسین"

بنگلہ دیش اپنی پچاسویں سالگرہ منا رہا ہے جسے کبھی ہنری کسنجر نے قائم ہونے والی ایک ناکام ریاست قرار دیا تھا۔اب اسے دوسرے ممالک کے لئے ایک روشن مثال سمجھا جاتا ہے۔ان برسوں میں بنگلہ دیش کی قومی آمدنی پچاس گنا، فی کس آمدنی پچیس گنا (بھارت اور پاکستان سے زیادہ) اور خوراک کی پیداوار چار گنا بڑھ گئی ہے۔ آبادی میں اضافہ ڈھائی گنا پر محدود کیا گیا جس سے فی کس خوراک کی دستیابی میں اضافہ ہوا۔ اس دوران برآمدات میں سو گنا اضافہ ہوا ہے اور غربت، جو 1990 میں 60 فیصدتھی، اب کم ہو کر 20 فیصد رہ گئی ہے۔ اوسط عمر بڑھ کر بہترسال ہو گئی ہے۔ سری لنکا کو نکال کر باقی علاقائی ممالک کے مقابلے میں اس کے زیادہ تر سماجی اشاریے بہتر ہیں۔ ہیومن ڈویلپمنٹ انڈیکس پر اس کے درجے میں ساٹھ فیصد اضافہ ہوا ہے۔
زیادہ تر ترقی گزشتہ تین دہائیوں میں دیکھنے میں آئی کیونکہ پہلی دودہائیوں میں معاشی مشکلات اور سیاسی انتشار کا سامنا رہا۔ ان کی ترقی کو پاکستان کے تناظر میں دیکھا جائے تو 1990 میں پاکستان کی فی کس آمدنی بنگلہ دیش کی نسبت دوگنی تھی لیکن آج کم ہو کر دس کے مقابلے میں سات رہ گئی ہے۔ 2011 اور 2019 کے درمیان، کروناوائرس کے آنے سے پہلے بنگلہ دیش کے جی ڈی پی کی اوسط شرح نمو سات سے آٹھ فیصد کے درمیان تھی جو پاکستان سے تقریباً دوگنا تھی۔
بنگلہ دیش کی کہانی نہایت پرکشش ہے۔قدرتی آفات کاسامنا کرنے والاایک کمزور ملک خود سے بڑے اور بہتر ہمسایہ ممالک یعنی انڈیا اور پاکستان کو زیادہ تر سماجی اقتصادی اشاریوں میں کیسے پیچھے چھوڑ سکتا ہے؟ بنگلہ دیش کو بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جن میں ملکی انتظامیہ کی از سرِ نو تشکیل، بے گھر افراد کی بحالی، اس کے بانی سمیت اعلیٰ سیاسی قیادت کے قتل اور متعدد ناکام اور کامیاب فوجی بغاوتوں سے نمٹنا شامل ہے۔ فوج 1991 تک اقتدار میں رہی جب جنرل ارشاد نے پارلیمانی جمہوریت کو بحال کرنے کا فیصلہ کیا۔ تب سے جمہوری حکومت قائم ہے اگرچہ2007 میں جب ایک نگراں حکومت نے دو سال حکومت کی تو اسے ایک مختصر وقفہ قرار دیا جا سکتا ہے۔
بنگلہ دیش میں دو بڑی سیاسی جماعتیں ہیں، شیخ حسینہ کی زیرِ قیادت عوامی لیگ اور خالدہ ضیا کی بی این پی، جو 1991 سے باری باری اقتدار میں رہی ہیں۔ 2009 سے اب تک عوامی لیگ نے مسلسل تین انتخابات جیت کر حکومت کی ہے۔ دونوں بیگمات کی سیاسی لڑائی شدید اور تلخ رہی ہے۔ خالدہ ضیانے انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا اور وہ اپنی پارٹی کے کئی رہنماوں کے ساتھ کافی عرصے سے جیل میں رہیں۔ لہٰذایہ جائزہ لینا دلچسپ ہے کہ اس طرح کی شدید سیاسی دشمنی اورعدم استحکام کا شکار سمجھا جانے والا ملک کس طرح خاطر خواہ معاشی اور سماجی ترقی کر سکتا ہے؟
سب سے پہلے، انڈیا اور پاکستان کے برعکس بنگلہ دیش ثقافتی طور پر ایک ہی زبان، نسل اور مشترکہ تاریخ رکھنے والی قوم پر مشتمل ہے۔ وہاں کوئی نمایاں مذہبی، فرقہ وارانہ، قبائلی اور جاگیردارانہ تقسیم بھی نہیں۔ دیہی اور شہری تقسیم البتہ ضرور ہے لیکن تیز رفتار ترقی نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ عدم اطمینان کم سے کم ہو۔ بہتری کی جستجو ایک مضبوط معاشرتی قدر بن گئی ہے۔ بنگلہ دیش کو سنگین بیرونی خطرات کا سامنا بھی نہیں۔اس کے علاوہ صوبوں کے بغیر مملکت کا نظام،جس میں مرکزی حکومت کو تمام انتظامی، سیاسی، قانونی اور مالیاتی معاملات پر مکمل کنٹرول ہے۔ وفاق اور صوبوں کے درمیان تنازعات کو ختم کرتے ہوئے پالیسیوں اور احکامات پر عمل درآمدکو ایک مربوط نظام کے تحت یقینی بناتا ہے۔ ایک کمزور اپوزیشن اور مضبوط حکومتی قیادت کے پیش نظر (جس پر کبھی کبھی نیم آمرانہ ہونے کا الزام لگایا جاتا ہے)، جیتنے والی پارٹی تمام معاملات پر مکمل کنٹرول رکھتی ہے، جس سے اس کے فیصلوں پر عملدرآمدکی راہ میں رکاوٹ نہیں ہوتی، اور بیوروکریسی حکومت کو جوابدہ رہتی ہے۔
تیسرے نمبر پر خواتین کو بااختیار بناناہے۔اس عمل کو 1971 سے پہلے بھی شروع کیا جا چکا تھالیکن بعد میں خاندانی منصوبہ بندی، خواتین کی تعلیم، صحت کی سہولیات اورہر سطح پر مائیکرو کریڈٹ کے حصول کے لئے جاری مہم کو یکے بعد دیگرے حکومتوں نے این جی اوز کے ساتھ مل کر بھرپور طریقے سے چلایا۔ بی آر اے سی، گرامین، اے ایس اے وغیرہ نے تعلیم اور صحت کی سہولیات کو پھیلانے اور خواتین کو مائیکرو کریڈٹ تک رسائی فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اپنی خامیوں سے آگاہ، حکومت نے سول سوسائٹی کی تنظیموں کی مکمل حمایت کی ہے اور این جی اوز کو آزادانہ کام کرنے کی اجازت دی ہے۔ تعلیم یافتہ، صحت مند،کم بچوں والی خواتین کی مالی وسائل تک رسائی نے خواتین کی پیداواری شعبے میں شرکت کی شرح میں اضافہ کیا، اور صنفی فرق کو کم کیا ہے۔ پرائمری درجے میں خواتین کے داخلے کی شرح سو فیصد ہے۔
چوتھایہ کہ تلخ سیاسی رقابتوں کے باوجود اقتصادی پالیسیوں اور منصوبوں میں تسلسل برقرار رہاہے۔کسی حکومت نے بنیادی اصولوں سے انحراف نہیں کیا جن میں معیشت میں استحکام اور سمجھدارانہ فیصلے، تجارت کے لیے کشادگی، نجی شعبے کی حوصلہ افزائی اور سماجی ترقی کاعزم شامل ہے۔ پالیسیوں کا تسلسل یہ یقین دہانی کراتا ہے کہ حکومت کی تبدیلی معیشت پر اثر اندازنہیں ہوگی جس سے سرمایہ کار اپنے منصوبوں کو بلا تعطل جاری رکھ سکتے ہیں، جس سے وقت کے ساتھ معاشی فوائد حاصل ہوتے ہیں۔
پانچویں نمبر پر تجارت میں آزادی دینے، اپنی معیشت کو کھولنے، غیر ملکی مہارتوں کو اختیار کرنے، برآمد کنندگان کومراعات فراہم کرنے کی بنگلہ دیش کی کوششوں کا نہایت مثبت نتیجہ نکلا ہے۔ بنگالہ دیش نے ریڈی میڈ ملبوسات کی برآمدات میں چین کے بعد دوسرے نمبر پر نہایت شاندار کارکردگی دکھائی ہے جس نے اس کی معیشت پر بہت سے فائدہ مند اثرات مرتب کیے ہیں۔ زیادہ تر عالمی برانڈز اپنی پیداوار کے لئے بنگلہ دیش کی صنعتوں پر انحصار کر رہے ہیں ؎۔ایسی صنعتوں میں خواتین کی ملازمت نے ان کی سماجی حیثیت اور خاندانی اہمیت کو بڑھا یا ہے۔ نوجوانوں کی لغت میں انٹرپرینیورشپ جیسے الفاظ داخل ہو گئے ہیں۔ اعلیٰ تعلیم اور ہنر کی مانگ بڑھ رہی ہے۔
یہ پائدار معاشی ترقی اسی صورت ممکن ہوئی جب ملکی بچت اور سرمایہ کاری کی شرحیں 15 فیصد سے بڑھ کر30 فیصدیعنی دگنی ہو گئیں۔ پیداواری شعبوں میں اتنی بڑی پرائیویٹ سرمایہ کاری، انفراسٹرکچر پر سرکاری توجہ اور کارکنان کی بہتر تربیت کے نتیجے میں ملک نے تیزی سے ترقی کی۔جس کے ثمرات وسیع البنیاد تھے۔ بڑھتی ہوئی مجموعی طلب کی وجہ سے درآمدات میں بڑھ گئیں لیکن ساتھ ہی برآمدات اور ترسیلات زر کو بڑھا یا گیا اور اس وجہ سے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ قابو میں رہا۔
اس سے ہمارے سیکھنے کے لئے بہت سے اسباق ہیں۔بنگلہ دیش کی دونوں جماعتوں کی قیادت اس بات پر قائل تھی کہ صرف اشرافیہ کی سرپرستی کی بجائے طویل المدت ترقی سے زیادہ سیاسی فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ انتخابات کسی امیدوار کی ذاتی حیثیت کی بجائے کارکردگی، مقبولیت اور پارٹیوں کے ریکارڈ کی بنیاد پر لڑے گئے۔ نجی شعبے، سیاست دانوں اور سرکاری افسروں کے درمیان تعلقات میں ایک مستحکم توازن قائم تھا۔ سیاست دانوں نے اپنی انتخابی مہم کے لیے کاروباری اداروں سے پیسے وصول کیے، بیوروکریٹس نے اپنی کم تنخواہوں کو تحائف اور معاوضوں سے پورا کیا جب کہ تاجروں نے مزدوروں اور ماحول کی قیمت پراپنے کاروبار کو بڑھایا۔ لیکن وہ رقوم بیرون ملک جانے کی بجائے ملک میں ہی رہیں۔
ٹیکس کی وصولی جی ڈی پی کی شرح آٹھ سے نو فیصد رہی ہے۔اس کے پیچھے غالباََ یہ خیال کار فرماہے کہ تاجر کے ہاتھ میں ایک ڈالر حکومت کے پاس ایک ڈالر سے زیادہ نفع بخش ہے۔اس کے نتیجے میں حکومت کو اقتصادی معاملات میں احتیاط سے کام لینا پڑتا ہے۔ نقصانات کی شرح پانچ فیصدرہی ہے اور ملکی قرضوں میں کمی واقع ہوئی ہے۔معاشی استحکام، پالیسیوں کا تسلسل، برآمدات کا فروغ، انسانوں (خاص طور پر خواتین)پر سرمایہ کار ی اور سرکاری اور نجی شعبے کی ہم آہنگی۔ یہ وہ عوامل ہیں جو بنگلہ دیش کی کامیابی کی روح رواں ہیں۔

error: