بن برکھا برسات اور پت جھڑ کی تاویل آرائی

برادر مکرم نے دیار افرنگ سے فون کر کے احوال دریافت کیا۔ انہیں کیا معلوم تھا کہ آمدہ خزاں کے منتظر نیم زرد پتے کی نوک پر ایک قطرہ آب لرز رہا ہے ’کہ اس نے حال بھی پوچھا تو آنکھ بھر آئی‘۔ سجاد باقر کا ٹکڑا دہرا دیا، ’پوچھتے کیا ہو باقر کے شام و سحر‘۔ ہمارے تپتے ہوئے موسمی نقشے پر سال میں دو مختصر وقفے ہی خوشگوار ہوتے ہیں۔ فروری کا نصف اول اور پھر اواخر جولائی کی شامیں اور اولیں اگست کی راتیں۔ اس دفعہ برسات پر بھی ایسا بجوگ پڑا کہ’نیناں نیند نہ سہائے، گھنشام نہیں آئے‘۔ مقامی موسمیاتی مرکز نے اعداد و شمار سے بتایا ہے کہ اس برس کشمیر اور پنجاب میں معمول سے بہت کم بارش ہوئی۔ اگست کے پورے مہینے میں میانوالی، سرگودھا، شورکوٹ، بہاولنگر، ڈیرہ غازی خان، ملتان، رحیم یار خان، خانپور، لیہ اور خانیوال جیسے مقامات پر چھینٹا ہی نہیں پڑا۔ دلوں کے بھیتر البتہ نمک گھلتا رہا۔ راج نیتی کے دیوتا مگر یہ کب دیکھتے ہیں کہ ان کے دماغ عالی اور نگہ بے بصر کی ایک تجلی سے کتنے گھر جل جاتے ہیں، بچوں کی آنکھ میں خوف ڈیرے ڈال لیتا ہے، جوانوں کے خواب جھوٹے پڑ جاتے ہیں اور جمی جمائی بستیوں میں آباد نسلیں کئی قرن پیچھے چلی جاتی ہیں۔

پچھلے دنوں مغرب کے کسی رجائیت پسند ذہن کی لکھی ایک کتاب دیکھنے کا موقع ملا۔ مصنف نے بہت عرق ریزی سے بتایا کہ گزشتہ سو برس میں جنگوں میں مرنے والوں کی شرح فیصد بہت کم ہوئی ہے اور آج کا انسان ماضی کے مقابلے میں جنگ اور قحط جیسے خطرات سے کہیں زیادہ محفوظ ہو چکا ہے۔ امید کی جوت انسانی اثاثوں میں سے ایک ہے۔ تاہم حالیہ تاریخ کو دیکھتے ہوئے رجائیت کے غیر مشروط بیان سے کچھ دفتری کارروائی جیسا احساس ہوتا ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد اس پیمانے پر جنگی تصادم نہیں ہوا لیکن مشرق بعید اور مشرق وسطیٰ سے لے کر لاطینی امریکا، افریقہ اور جنوبی ایشیا تک درجنوں جنگوں میں کروڑوں انسانوں کی بے مقصد موت کا مشاہدہ کرنے والوں کو شرح فیصد کے ہندسوں سے کیا تسکین مل سکتی ہے۔ ریاستوں کا داخلی استبداد اپنی جگہ ایک بلائے بے درماں ہے۔ قومی آزادیوں کا حصول ایک بڑی جست تھی لیکن یہ نصب العین پیوستہ مفادات کی بھینٹ چڑھ گیا۔ ہم نے بتدریج طاقت کو آدرش اور سرمائے کو انصاف پر غالب آتے دیکھا۔ گزشتہ نصف صدی میں انسانیت کی بالائی پرت نے علم اور معیشت میں ترقی کے نئے معیار قائم کیے لیکن پچھڑے ہوئے خطوں میں جہالت، غربت، محرومی، نا انصافی اور استحصال کے ہوتے ہوئے منتخب منطقوں میں ترقی کو استحکام نصیب نہیں ہو سکتا۔

یہ جاننا اس لئے ضروری ہے کہ خود ترقی یافتہ ریاستوں کی غلام گردشوں میں بہت سے استخوانی ڈھانچے ابھی گردش میں ہیں۔ یہ محض اسلحے، منشیات اور دوسرے علانیہ جرائم کا معاملہ نہیں بلکہ ریاستوں میں ادارہ جاتی سطح پر اخفا کے پردے میں بہت کچھ ایسا ہے جس کا دفاع نہیں کیا جا سکتا۔ سرمائے، آزادی، اختیار اور انصاف میں توازن، یہی آج کا سیاسی سوال ہے۔

جرمن ادیب تھامس مان نے گزشتہ صدی میں ایک پتے کی بات کہی، 'In our time, the destiny of man presents its meanings in political terms'۔ (ہمارے عہد میں انسانی تقدیر سیاسی اصطلاحات میں اپنا معنی ظاہر کرتی ہے۔) سوال یہ ہے کہ کیا سیاست کسی ریاستی منصب کی خواہش ہے؟ کیا سیاست کسی سیاسی رہنما یا جماعت کی حمایت یا مخالفت کا قصہ ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ سیاست عورت اور مرد کی خلوت پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ کمرہ جماعت میں استاد اور طالب علم کا رشتہ بھی سیاست سے متعین ہوتا ہے۔ سیاست وہ نقطہ ہے جہاں کھڑے ہو کر ہم اس زمین کو دیکھتے ہیں اور اپنی زندگی کا زاویہ طے کرتے ہیں۔ سیاست اپنے خالص ذاتی مفاد کو اجتماعی مفاد سے ہم آہنگ کرنے کی سعی ہے۔ اسی نقطے کی سولی پر پیمبر بات کرتے ہیں۔ اسی سے ہماری سیاسی اور معاشرتی اقدار طے پاتی ہیں۔ اقدار کا سوال آیا تو کراچی میں پی ڈی ایم کا جلسہ دیکھ لیجیے۔ جلسے سے ایک روز قبل جے یو آئی (ف) سندھ کے جنرل سیکرٹری مولانا راشد سومرو نے خواتین کو جلسے میں شریک ہونے سے منع کر دیا۔ فرمایا کہ ’ہم خواتین کی مخالفت نہیں کر رہے بلکہ ان کے احترام میں انہیں جلسے میں شریک ہونے سے روک رہے ہیں۔‘ تاہم دوسرے روز مولانا فضل الرحمن نے خواتین کے احترام کی ایک مختلف تشریح کرتے ہوئے انہیں شرکت کی اجازت دے دی۔ کل ملا کے نتیجہ یہ نکلا کہ دو کروڑ کی آبادی کے شہر کراچی سے درجن بھر خواتین جلسے میں شریک ہوئیں۔ جمہوریت کی بنیاد عقیدے، صنف اور زبان کے کسی فرق سے قطع نظر مکمل انسانی مساوات ہے۔

جمہوریت کا مقصد پنیالہ خورد نزد ڈیرہ اسماعیل خان سے اسمبلی کی نشست جیتنا نہیں بلکہ اجتماعی زندگی کے تمام معاملات بالخصوص وسائل کی تقسیم پر فیصلہ سازی میں تمام شہریوں کی شرکت کا مساوی حق ہے۔ اگر خود کو جمہوری تحریک کہلانے والا سیاسی اتحاد ملک کی آدھی آبادی کو اس مساوات کا اہل نہیں سمجھتا تو اسے جمہوری تحریک نہیں کہا جا سکتا۔ عورت اور مرد میں جسمانی فرق موجود ہے لیکن ہمارے دستور کی شق 25 دونوں اصناف کے رتبے، حقوق، صلاحیت اور اہلیت میں امتیاز کو تسلیم نہیں کرتی۔ اگر کسی خاص معاشرتی سانچے یا سیاسی نظام کے پیروکار عورت اور مرد کے لئے الگ الگ معاشرتی، معاشی اور سیاسی کردار میں یقین رکھتے ہیں تو انہیں اپنی رائے کا حق ہے لیکن ایسی رائے جمہوریت تو ایک طرف، انسانیت کی توہین کے مترادف ہے۔ ستمبر 2020 میں پی ڈی ایم نے اپنے اساسی اعلامیے میں شفاف جمہوریت کے نصب العین کا اعلان کیا تھا۔ یہ کیسی جمہوریت ہے جو عورت اور مرد میں تفریق روا رکھتی ہے۔ لیجئے احمد مشتاق یاد آ گئے

یہ جو بھی ہو، بہار نہیں ہے جناب من

کس وہم میں ہیں دیکھنے والے پڑے ہوئے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *