بن کباب: ’عام آدمی کا برگر‘ جو کراچی والوں کی شناخت ہے

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں جب اکثر افراد خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہوتے ہیں تو ایسے میں عبد الامین ہر صبح طلوع آفتاب سے قبل اٹھ کر ایک سرنگ کے پاس سے ریلوے کی پرانی پٹڑی سے گزرتے ہوئے شہر کے خوشحال علاقے تک پہنچ جاتے ہیں جہاں مارکیٹ میں مسجد کے قریب ان کی ریڑھی ان کا انتظار کر رہی ہوتی ہے۔

ایک بلب کی روشنی میں وہ ریڑھی پر نصب شیشے کے پیچھے کھڑے ہو کر گھر سے لائے شامی کبابوں کو ایک دوسرے کے اوپر ترتیب سے رکھنا شروع کر دیتے ہیں۔

یہ سب کرنے کے بعد عبدالامین نے پیاز کو ایک خاص انداز میں سجایا اور اس پر سلاد کے پتے بکھیر دیے اور موٹے موٹے ٹماٹر کے ٹکڑے اس پر سجا دیے۔

عبدالامین گذشتہ تین دہائیوں سے اسی شان کے ساتھ یہ کام کر رہے ہیں۔ فجر کی اذان کے وقت وہ اپنے 16 کلو کینولا آئل کا کنستر کھولتے ہیں اور اس دوران اپنے لوہے کے بڑے سے توے کو بھی گرم کر لیتے ہیں۔

اگلے چند گھنٹوں میں عبدالامین کے پاس گدھا گاڑی والے، گھریلو ملازم، نیند سے بھرے ہوئے دفتری ملازم اور مسلح ذاتی محافظوں کے غول امین برگرز پر آ کر بھورے رنگ کے کاغذ میں اپنا تیل سے بھرا ہوا آرڈر وصول کرتے ہیں۔

مگر اپنے سٹال کے نام کے برعکس امین برگر فروخت نہیں کر رہے۔

پاکستان میں بن کباب نہایت مقبول سٹریٹ فوڈ سمجھے جاتے ہیں۔ ان پتلے شامی کبابوں یا آلو کے قتلوں کو دودھ سے تیار کیے گئے بن میں رکھ کر بنایا جاتا ہے اور کراری سبزیاں اور مصالحے دار چٹنی اس کا ذائقہ دوبالا کر دیتی ہے۔

اگر آپ اس میں تلا ہوا انڈہ ڈلوانا چاہیں تو پروٹین مزید بڑھ جاتا ہے۔

کراچی
،تصویر کا کیپشنعبدالامین گذشتہ تین دہائیوں سے یہ کام کر رہے ہیں

آپ چاہیں تو یہ گوشت کے بغیر بھی ہو سکتا ہے اور یوں چٹپٹے جنوبی ایشیائی ذائقے اور چٹنی سے لبریز بن اسے برگر سے بھی نہایت منفرد بنا دیتے ہیں۔ کراچی میں اس کے سٹال، چھوٹی دکانیں اور ٹھیلے آپ کو جگہ جگہ نظر آئیں گے۔ اس کی قیمت 50 سے 120 روپے تک ہوتی ہے۔ قیمت کا انحصار اس بات پر ہے کہ آپ بن کباب کس علاقے سے خرید رہے ہیں۔

آلو کے بن کباب طویل عرصے سے سکول کی کینٹینز پر سب سے پسندیدہ چیز رہے ہیں اور پاکستان میں خواتین کو پُرہجوم بازاروں میں لکڑی کی بینچز پر بیٹھ کر یہ کھاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ فوری بھوک مٹانے کے لیے آسانی سے دستیاب ہوتے ہیں اور معدے اور جیب پر زیادہ بھاری بھی نہیں ہوتے۔

’گرل گوٹا ایٹ‘ نامی فوڈ بلاگ کے لیے لکھنے والی رفعت راشد کا کہنا ہے کہ ’ایک اچھا بن کباب کھانے کے لیے کوئی ماہانہ بچت کرنے کی یا کوئی بکنگ کروانے کی بھی ضرورت نہیں ہوتی۔‘

کئی پاکستانی افراد کی بن کباب کے ساتھ خوشگوار اور خاندانی یادیں وابستہ ہیں جو اکثر ان کے اس سے ماضی کے تعلق کو ظاہر کرتی ہیں کہ کیسے پہلی بار انھوں نے یہ سٹال پر کھایا تھا یا ساتھ گھر لے گئے تھے۔

سنہ 2013 میں کراچی فوڈ گائیڈ کی بنیاد رکھنے والے اسامہ ناصر کو یاد ہے کہ بچپن میں جب وہ نانی کے گھر جاتے تھے تو لوڈشیڈنگ کے دوران وہ اور ان کے درجن بھر کزنز مل کر بن کباب کھایا کرتے۔

وہ بتاتے ہیں کہ وہ سو روپے سے بھی کم میں یہ بن کباب سیر ہو کر کھا لیتے تھے۔

یہ پتا لگانا مشکل ہے کہ اس بن کباب کی بنیاد عین کس وقت پڑی۔ کچھ کے نزدیک یہ برگرز کو پاکستان کا ایک سستا (اور ذائقے دار) جواب ہے بالخصوص اس منفرد مشاہدے کی وجہ سے کہ فاسٹ فوڈ کی فرنچائزوں کے سامنے بن کباب کے سٹال اکثر نظر آتے ہیں۔

بن کباب

حاجی عدنان کراچی کی فوڈ سٹریٹ برنس روڈ پر بن کباب کا ایک بے نام سٹال چلاتے ہیں۔ اُن کا خاندان تین نسلوں سے اس کام سے وابستہ ہے۔ اُن کے خیال میں بن کباب کو 1950 کی دہائی میں مقبولیت حاصل ہوئی۔

حاجی عدنان کا خیال ہے کہ ان کے دادا حاجی عبدالرزاق نے پاکستان کے مختلف شہروں میں فاسٹ فوڈ کے کاروبار کے پھیلاؤ سے قبل ہی سنہ 1953 میں بن کباب کو شہر کے مرکز میں مصروف لوگوں کے لیے ایک آسان آپشن کے طور پر متعارف کروایا تھا۔

مرد حضرات کی دلچسپی کے مواد کے میگزین ’اے لسٹر مسٹر‘ کے بانی فہد بھٹی کے مطابق بن کباب کی تاریخ تقسیمِ برصغیر کے وقت شروع ہوئی جب یہ دونوں ممالک میں یکساں مقبولیت کا درجہ رکھتا تھا۔

’یہ وڑا پاؤ (بریڈ بن میں چٹنی کے ساتھ مصالحے دار آلو کے قتلے) کے طور پر وجود میں آئے۔ اس کے بعد سے اس میں تبدیلیاں رونما ہوتی رہیں، جس میں سبزیوں کے علاوہ گوشت خور قوم کے لیے گوشت جیسا آپشن بھی شامل ہوا۔ ‘

آج کے دور میں بن کباب فروخت کرنے والے اپنے تجربات کے حساب سے اس میں نئی تبدیلیاں بھی متعارف کروا رہے ہیں، جس میں ہنٹر بیف اور چقندر وغیرہ شامل کی جاتی ہیں۔ کچھ بن کباب والے آپ کو اجزا خود منتخب کرنے دیتے ہیں۔

سڑک کنارے ملنے والے اس مقبول کھابے میں مصالحے دار آلو یا شامی کباب پیٹی کے طور پر سب سے زیادہ پسند کیے جاتے ہیں مگر صرف پیٹی ہی اس کھانے کی اہم چیز نہیں ہے۔

کراچی
،تصویر کا کیپشنمیکڈونلڈز نے سنہ 2019 میں ہر دل عزیز ’انڈے والا برگر‘ اپنے برانڈ کے ذریعے متعارف کروایا

پاکستان کا پہلا برگر جوائنٹ ’مسٹر برگر‘ سنہ 1980 میں شروع ہوا تھا جب میکڈونلڈز اور برگر کنگ کے مطابق اس ملک کے لوگ برگر کے لیے ابھی تیار نہیں تھے۔

بن کباب سے فرق بنائے رکھنے کی خاطر یہ نیا برگر متعارف کروانے والوں نے سبزیوں اور مصالحوں کو غیر ضروری سمجھتے ہوئے اپنا وقت بیف کی پیٹی کا ذائقہ لاجواب بنانے میں صرف کیا اور اسی طرح چٹنی کے بجائے ’سیکرٹ ساس‘ کا استعمال شروع کیا۔

مگر امین جیسے بن کباب فروخت کرنے والوں کے لیے یہ غیر ضروری چیزیں ہی ضروری ہیں جو کہیں کم قیمت پر ذائقہ فراہم کرتی ہیں۔

گوشت کی رسیلی بوٹیوں کے بجائے ذائقہ عام طور پر دھنیے، زیرے، ہری مرچ کے امتزاج سے پیٹی میں یا املی کی چٹنی میں ملایا جاتا ہے۔

یہ فخریہ طور پر غریب آدمی کا برگر ہے۔

بن کباب سب کو متحد کرنے میں بھی کام آتے ہیں، یہاں تک کہ شہر کے سب سے متضاد علاقوں کے لوگوں کو بھی۔

اسامہ ناصر عمومی اردو محاورے ’پل کے اِس پار، پُل کے اُس پار‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’کراچی میں کلفٹن کا پل طویل عرصے سے ایک معاشرتی اور ثقافتی تقسیم کی بدنما علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔‘

’پل کی ایک جانب امیر حصہ ہے جہاں سب سے مہنگے ریستوران ہیں مگر بن کباب ہر جگہ یکساں مقبول ہے۔‘

یہ شاید ان آخری مقامی سٹریٹ فوڈز میں سے ہے جسے کسی اعلیٰ درجے کے برانڈ نے نہیں اپنایا۔ (جیسے ’آرٹیسنل‘ چائے، نیوٹیلا سے لتھڑے ہوئے پراٹھے، یا انتہائی مہنگی چنا چاٹ، جو سب پاکستانی سٹریٹ فوڈ کی مہنگی اور زیادہ خوش نما صورتیں ہیں۔)

تاہم سنہ 2019 میں میکڈونلڈز نے ہر دل عزیز ’انڈے والا برگر‘ (یعنی انڈے والا بن کباب) اپنے برانڈ کے ذریعے متعارف کروایا۔ اسے دیسی ذائقوں کا ’ایگسیلینٹ‘ امتزاج‘ قرار دیتے ہوئے میکڈونلڈز نے انڈے والے برگر کی مقامی جڑوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اسے اخبار جیسی پیکنگ میں لپیٹ کر پیش کرنا شروع کیا جیسے بن کباب عام طور پر بیچے جاتے ہیں۔

یہ بالکل مکافاتِ کی ایک اعلیٰ مثال کی طرح تھا کہ جس برگر جوائنٹ نے کہا تھا یہ قوم ابھی برگرز کے لیے تیار نہیں اس نے مقامی ذائقوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اپنا مینیو تبدیل کر دیا۔

تاہم ’بن کباب میل‘ جس کی قیمت 250 روپے رکھی گئی تھی کسی بھی سڑک کنارے ملنے والے برگر سے تین گنا مہنگی تھی اور اس سے اکثر پاکستانی خاصے برہم دکھائی دیے۔ کچھ افراد نے اسے دو سٹارز کا فیڈبیک دیا اور ان میں سے زیادہ تر ڈھابے میں بیٹھ کر کھانے کے تجربے کی کمی محسوس کر رہے تھے۔

مجھے اس حوالے سے تجسس تھا کہ مقامی افراد کو کیوں لگتا ہے کہ انڈے والا برگر اسی شکل اور ذائقے میں کوئی اور تیار نہیں کر سکتا۔ اس بارے میں میں نے بن کباب کی ایک پرانی دکان نرسری سپر برگرز کے مالکان کی دوسری نسل میں سے قلندر علی سے بات کی۔

یہ دکان کراچی میں 1977 سے قائم ہے اور یہاں روزانہ 300 سے 400 کے قریب بن کباب فروخت ہوتے ہیں اور مقامی افراد اور شہر کے دوسرے علاقوں سے آنے والے ان کی متوازن مرچوں والی کھٹی چٹنی کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں۔

قلندر علی کے مطابق اس پکوان کو وسیع پیمانے پر بنانا اس لیے مشکل ہے کیونکہ اسے بنانے میں انتہائی محنت طلب مراحل سے گزرنا پڑتا ہے (جیسے چپچپی ٹکی کی اپنے ہاتھوں سے شکل سنوارنا، اسے تلنے سے پہلے پھینٹے ہوئے انڈے میں ڈبونا، انڈے کی زردی کا ملیدا بنانا، بن کی دونوں اطراف کو تیل لگانا اور بن کو دو ٹکڑوں میں تقسیم کرنا کیونکہ اکثر یہ ایسی حالت میں نہیں آتے)۔ یہ سب مراحل بن کباب بنانا انتہائی کٹھن کر دیتے ہیں۔

اور اگر مکڈونلڈز بن کباب کا ذائقہ برقرار رکھنے میں کامیاب ہو بھی جائے تو سڑک کنارے ملنے والا بن کباب کھانے کا تجربہ اچھوتا ہے اور اسے ایک ہی معیار پر نہیں لایا جا سکتا۔ ناصر نے نے بتایا کہ ’جب میں نے اپنے پسندیدہ مقامی بن کباب کو مکڈونلڈز کی جانب سے بناتے دیکھا تو مجھے صرف غصہ نہیں آیا، بلکہ میں جذباتی ہو گیا۔

’بن کباب کی خاص بات ہی یہ ہے کہ اس کا ذائقہ محسوس کیا جائے، اس کی خوشبو کا احساس آپ کی بھوک بڑھائے اور بن کباب بنانے والے فنکار کو اس میں مزید اشیا کا اضافہ کرتے دیکھا جائے۔‘

اکثر افراد کے لیے یہ خاصی غیر انسانی حرکت تھی کہ اپنی شخصیت کے اظہار کے اس طریقے کو وسیع پیمانے پر اسمبلی لائن میں بننے والی چیز میں بدلتا دیکھا۔ یہ ثقافتی حدود کی خلاف ورزی بھی محسوس ہوتا تھا۔ ناصر نے کہا کہ ’میں آپ سے اپنی میک فلریز اور ہیپی میلز لیتا ہوں۔ بن کباب نہ بنائیں۔‘

رفعت راشد بھی خاصی پریشان ہو گئیں۔ ’میں نے کہا نہیں، خدارا نہیں۔ میں عام طور پر برانڈز کی جانب سے کھانوں کے عجیب و غریب امتزاج کے بارے میں پرجوش ہوتی ہوں۔ لیکن اگر آپ مشہور سٹریٹ فوڈ کو استعمال کریں جو ہر کوئی پہلے ہی آپ سے بہتر بنا لیتا ہے اور اس میں کچھ اضافہ بھی نہ کریں، صرف اس کی قیمت بڑھا دیں تو اس میں دلچسپی کی کوئی بات نہیں رہتی۔‘

کراچی

اس ہر دل عزیز پکوان کو تجارتی حیثیت دینے پر شدید ردِ عمل شاید اس لیے بھی سامنے آیا ہو کیونکہ پاکستان میں برگر اور بن کباب کی اصطلاحات صرف کھانے کے لیے ہی استعمال نہیں کی جاتیں بلکہ یہ شناخت کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔

’برگر‘ شہر کی امیر آبادی کے لیے استعمال ہونے والی غیر رسمی اصطلاح ہے جس کا تصور پاکستان کے ’مزاح کے بادشاہ‘ عمر شریف نے پیش کیا اور اسے مقبول کیا۔ یہ سمجھا جاتا ہے کہ امپورٹڈ کھانے کھانے والے ان ’برگرز‘ کی اقدار اپنے ملک سے زیادہ مغرب سے مطابقت رکھتی ہیں اور یہ معاشرے کے ایک ایسے حصے سے تعلق رکھتے ہیں جو اچھی انگریزی بولنا جانتا ہے، ملک سے باہر بھی جا چکا ہے اور وسائل تک زیادہ دسترس رکھتا ہے۔ کبھی کبھار ’برگر‘ کی اصطلاح ناپسندیدگی سے بھی استعمال کی جاتی ہے اور اس کا مطلب ’بگڑا ہوا‘ یا ’لاڈلا‘ تصور کیا جاتا ہے۔

تاہم برگرز کی مقبولیت میں ہوشربا اضافے کے ساتھ ملک میں بنے بن کباب کی شناخت دراصل اس کے مقابل کے طور پر کی جانے لگی۔ بن کباب میں وہ ہے جو برگر میں نہیں۔ اس کی بنیاد حقیقت سے منسلک ہے اس سے جدا نہیں ہے اور اسے اپنایا جاتا ہے اس پر طنز ہرگز نہیں کیا جاتا، جیسے کہ ایک پاکستانی لکھاری نے اخبار ایکسپریس ٹریبیون کے ایک مضمون میں لکھا کہ ’پیارے برگرز، میں ایک بن کباب ہوں، اور مجھے اس پر فخر ہے۔‘

تاہم وقت کے ساتھ ساتھ زبان کی حد تک ہی سہی، برگر اور بن کباب کے درمیان فرق دھندلا گیا ہے۔ جیسے ایک پاکستانی لکھاری نے کہا کہ کسی بھی قوم کی شناخت بریڈ کے دو ٹکڑوں کے درمیان رکھنا خاصی حیرت انگیز اور عجیب سی بات ہے۔ خاص طور پر جب آپ یہی اصطلاحات دونوں کھانوں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

سٹریٹ فوڈ کے بارے میں استعمال ہونے والی زبان بھی خاصی بحث کو جنم دیتی ہے۔ مثال کے طور پر، بن کباب کے ساتھ ’والا‘ کا استعمال کرنا اس سے واقفیت بھی دکھاتا ہے اور پراسراریت بھی۔

رفعت راشد کہتی ہیں کہ ’آپ یہ پہلے سے ہی فرض کر لیتے ہیں کہ آپ کو معلوم نہیں کہ بن کباب کے اندر کیا ہے۔ یہی اس کی خوبصورتی ہے۔‘

ایک چکن یا بیف برگر میں مرغی یا گائے کا گوشت ہی ہوتا ہے لیکن بن کباب کھانے والوں کو اس میں موجود تمام ورائٹیز کا علم ہے اور وہ اکثر ایک مخصوص مسکراہٹ کے ساتھ انڈے والے، دال والے، یا آلو والے بن کباب کا آرڈر دیتے ہیں۔ جب بن کباب کے آرڈر میں ورائٹی شامل کرنے کے لیے کہا جاتا ہے تو پاکستانیوں کو صرف تھوڑی دیر کے لیے پیٹ پوجا کرنے کے لیے ایک سنیک درکار نہیں ہوتا بلکہ یہ ان کے لیے ایک منفرد تجربہ ہوتا ہے، پاکستانی والا۔

تیل سے بھرے کاغذ میں پیش کیے جانے کے باعث یہ پچک سکتے ہیں، انھیں وسیع پیمانے پر تیار نہیں کیا جا سکتا اور انھیں خوشنما فوڈ فوٹوگرافی کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

مگر بن کباب میں دکھاوا ہے بھی نہیں۔ یہ اس سرزمین کی پیداوار ہیں۔

error: