بٹ کوائن اپنی قدر کی بلند ترین سطح پر، مالیت 20 ہزار ڈالر کے قریب

کرپٹو کرنسی بٹ کوائن کی قدر منگل کو پہلی مرتبہ بیس ہزار ڈالر تک پہنچنے کے قریب ہے۔ کرپٹو کرنسی کی خرید و فروخت کرنے والے ادارے کوائن ڈیسک کے اعداد و شمار کے مطابق ایک بٹ کوائن کی مالیت 19920 ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔

دوہزار سترہ میں بٹ کوائن اپنی قدر کی بلند ترین سطح پر پہنچا تھا جب اس کی مالیت 19 ہزار تک پہنچ گئی تھی

رواں برس بٹ کوائن کی مالیت میں 170 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

بعض ماہرین کا خیال ہے کہ دنیا میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے بعد پیدا ہونے والی صو رتحال میں سرمایہ کار بٹ کوائن کو اپنے اثاثوں کے لیے محفوظ مقام سمجھتے ہیں۔ لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ اس بٹ کوائن کی قدر میں اتار چڑھاؤ جاری رہے گا.

2017 میں بٹ کوائن کی قدر بلند ترین سطح پر پہنچنے کے بعد اس میں گراؤٹ آ گئی تھی اور وہ 19 ہزار ڈالر سے گھٹ کر 3300 ڈالر تک پہنچ گئی تھی۔

تبدیلی محسوس ہو رہی ہے

بٹ کوائن کی قدر میں اضافے کی کئی وجوہات ہیں۔ حال ہی میں پےپال (paypal) نے اپنے پلیٹ فارم سے کرپٹو کرنسی خریدنے کی اجازت دی ہے۔

اس کے علاوہ کئی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں نے ایسے فنڈز کی خریدای میں دلچسپی ظاہر کی ہے جو کرپٹو کرنسی سے جڑے ہوئے ہیں۔ ان ادارہ جاتی سرمایہ کاروں میں وال سٹریٹ کی فرم گگنہیم پارٹنر بھی ہیں جنہوں نے گذشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ وہ اپنے پانچ سو تیس ملین ڈالر بٹ کوائن سے متعلقہ انویسٹمنٹ ٹرسٹ میں رکھنے کا سوچ رہے ہیں۔

کرپٹو کرنسی ریولوشن کتاب کے مصنف ریان لیوس کہتے ہیں: ’اب کوئی دن نہیں گزرتا جب یہ ہیڈلائن دیکھنے کو نہ ملے کہ فلاں فنڈ یا کمپنی اپنے اثاثوں کو بٹ کوائن میں تبدیل کر رہی ہے۔‘

ماضی میں کرپٹو کرنسی کی قدر کے حوالے سے کی گئی پیشنگوائیاں کئی بار غلط ثابت ہو چکی ہیں اور یہ ممکن ہے کہ کرنسی کی قدر میں اتار چڑھاؤ جاری رہے گا۔

ان کا کہنا ہے 2017 کی نسبت اس بار کرپٹو کرنسی کی طلب بہت زیادہ ہے اور اس کی شاید وجہ یہ ہے کہ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ کووڈ نائنٹین کی وجہ سے پیدا ہونے والی مالی مشکلات کی وجہ سے ملکوں کے مرکزی بینک ایسے اقدامات اٹھائیں گے جس سے مہنگائی میں اضافہ ہو گا

ماضی میں ایسے خدشات کی بنا پر سرمایہ کار سونے اور دھاتوں میں سرمایہ کرتے تھے۔

ایک خیال پایا جاتا ہے کہ صرف اکیس ملین بٹ کوائن ہی تخلیق کیے جا سکتے ہیں اور ابھی تک اٹھارہ ملین بٹ کوائن تخلیق ہو چکے ہیں تو کچھ سرمایہ کار اسے ایک بہتر متبادل سمجھ رہے ہیں۔

اگر بٹ کوائن کی قدر میں مزید اضافہ ہوتا ہے تو اس کی قدر میں اچانک گراوٹ بھی آ سکتی ہے کیونکہ کئی سرمایہ کاروں نے اسے بیس ہزار کی حد چھونے پر خود کار نظام کو اسے بیچنے کی ہدایت جاری کر رکھی ہوں گیں۔

ماہرین نے لوگوں کو محتاط رہنے کی تلقین کی ہے۔

معاشی معاملات پر لکھنے والے فرانیسس کوپولا نے لکھا کہ کرپٹو کرنسی میں ایسی سرمایہ نہ کریں جسے آپ کھو نے کی سکت نہ رکھتے ہوں۔

بٹ کوائن ایک ایسا اثاثہ ہے جس کی قدر میں اتار چڑھاؤ آتا رہتا ہےاور قرضہ لے کر اس میں سرمایہ کاری کرنا اچھا آئیڈیا نہیں ہے۔

بٹ کوائن کیسے کام کرتی ہے

بٹ کوائن کو اکثر ایک نئی کرنسی کہا جاتا ہے۔ وہ عام کرنسی نوٹوں کے برعکس ایک ورچوئل ٹوکن ہے۔

البتہ دوسری کرنسیوں کی طرح اس کی مالیت بھی اس سے طے ہوتی ہےکہ کوئی اس کے بدلے کتنا دینے کو تیار ہے۔ چاہے یہ بینک آف انگلینڈ کے جاری کردہ کرنسی نوٹ اور سِکّے ہوں، قیمتی پتھر ہوں یا اس قسم کی کوئی اور چیز۔ کوئی بھی کرنسی اسی وقت کام کرتی ہے جب ہر کوئی اسے تسلیم کرتا ہے۔

بٹ کوائن کو تیار کرنے کے لیے اس کمپیوٹر کے ایک پیچیدہ نظام کےذریعے ریاضی کے کچھ مسئلے حل کیے جاتے ہیں جسے مائننگ کا نام دیا جاتا ہے۔

ایک مسئلہ حل کرنے پر ایک بٹ کوائن بنتا ہے اور جو اسے تیار کرتا ہے اسے انعام کے طور مزید بٹ کوائن بنانے کی اجازت ملتی ہے۔

بٹ کوائن حاصل کرنے کے لیے صارف کے پاس 24 سے 34 ہندسوں کا ایک ایڈریس ہونا ضروری ہے جو ایک ورچوئل پوسٹ باکس کی طرح کام کرتا ہےجس سے بٹ کوائن بھیجے اور وصول کیے جا سکتے ہیں۔

چونکہ بٹ کوائن کا کوئی رجسٹر موجود نہیں ہے تو اس کے بھیجنے اور وصول کرنے کا نام صیغیہ راز میں رہتا ہے۔

بعض لوگ اسے ایسی ڈیجیٹل کرنسی سمجھتے ہیں جو سرحدوں کی محتاج نہیں اور اس کا انحصار کسی خاص ملک کی کرنسی پر نہیں ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *