بٹ کوائن میں تاوان وصولی کا ’پہلا‘ کیس: ملزمان نے غیرملکیوں سے کرپٹو کرنسی میں تاوان کیسے وصول کیا؟

10 فروری رات کے تقریباً ساڑھے نو بجے لاہور کے ایک معروف ہوٹل سے ایک کار نکلتی ہے جس میں میگرون ماریا سپاری اور سٹیفین نامی ایک سوئس اور ایک جرمن شخص سوار تھے۔

اس کار میں ان غیرملکیوں کے مقامی میزبان رانا عرفان محمود بھی تھے جو اپنے دونوں غیر ملکی مہمانوں کو کھانا کھلانے اور کچھ دوستوں سے ملوانے کی غرض سے باہر لے جا رہا ہے۔

یہ گاڑی اس ہوٹل سے رینٹ پر لی گئی تھی جبکہ اس کا ڈرائیو بھی اسی ہوٹل کی جانب سے فراہم کیا گیا تھا۔

دونوں غیر ملکی مہمان اپنے پاکستانی میزبان، جنھیں وہ گذشتہ ڈیڑھ سال سے جانتے تھے، کے کہنے پر اسی روز سرمایہ کاری کی غرض سے پاکستان پہنچے تھے۔

واردات کے لیے جعلی پولیس اور جعلی میڈیا اس کا استعمال

کچھ سفر طے کرنے کے بعد ہوٹل کی گاڑی ایک جگہ رُک جاتی ہے جہاں تھوڑی دیر بعد دو اور گاڑیاں بھی آ کر رکتی ہیں۔ ایک گاڑی میں رانا عرفان خود بیٹھ جاتے ہیں جبکہ دوسری گاڑی میں مہمانوں کو بیٹھا دیا جاتا ہے اور یہ گاڑیاں دوبارہ سے چل پڑتی ہیں جبکہ ہوٹل کی گاڑی واپس بھیج دی جاتی ہے۔

تقریباً ایک، ڈیڑھ گھنٹے کے سفر کے بعد غیر ملکیوں کی گاڑی ایک سنسان راستے پر چل پڑتی ہے اور تھوڑی دیر بعد ایک اور گاڑی عین سڑک کے بیچوں بیچ آ کر رکتی ہے اور غیر ملکیوں کی گاڑی کو رکنے کا اشارہ کرتی ہے۔ کچھ نامعلوم مسلح افراد جن میں کچھ بظاہر پولیس اہلکار لگ رہے تھے (کیونکہ ایک نے پولیس کی ٹی شرٹ پہن رکھی تھی اور ان کی گاڑی میں ایک نیلی بتی بھی تھی)، وہ آ کر دونوں غیر ملکیوں کی اور ان کی گاڑی کی تلاشی لینا شروع کر دیتے ہیں۔

دونوں غیر ملکی اپنے پیچھے آنے والے میزبان رانا عرفان کی گاڑی کی طرف دیکھتے ہیں لیکن وہ گاڑی انھیں کہیں نظر نہیں آتی۔ دونوں غیر ملکی اب اس سنسان جگہ اور رات کی اس تاریکی میں گھبرا جاتے ہیں کہ آخر ان کے ساتھ ہو کیا رہا ہے اور ان کا میزبان کہاں رہ گیا ہے؟

لاہور سول لائنز تھانہ

تلاشی کے دوران جیسے ہی مسلح افراد کی گاڑی سے منشیات کا ایک پیکٹ ’برآمد‘ کیا جاتا ہے تو وہ مزید پریشان ہو جاتے ہیں۔ اسی دوران ان کی جیب میں موجود ملکی اور غیر ملکی کرنسی بھی قبضے میں لے لی جاتی ہے۔

مسلح افراد اب دونوں غیر ملکی باشندوں کی آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر ایک نامعلوم مقام پر لے جاتے ہیں اور ان کے ہاتھ کھڑے کروا کر رسیوں سے باندھ دیا جاتا ہے اور دونوں کو زد و کوب بھی کیا جاتا ہے۔

دونوں غیر ملکیوں کو جب زبردستی باندھ دیا جاتا ہے تو ان میں سے ایک کے کپڑوں پر برآمد شدہ منشیات چپکا دی جاتی ہے اور پریس کی شرٹ پہننے ایک شخص ان کی ویڈیو بھی بناتا ہے۔

تاوان بٹ کوائن میں!

مسلح افراد اب دونوں غیر ملکیوں کو بتاتے ہیں کہ چونکہ ان کے قبضے سے منشیات برآمد ہوئی ہیں جس کی پاکستان میں سزا موت ہے اس لیے اگر ان کے لیے مزید رقم کا انتظام نہ کیا گیا تو وہ یہ ویڈیو مقامی میڈیا پر جاری کروا دیں گے کہ یہ دونوں غیر ملکی باشندے پاکستان میں منشیات کے غیر قانونی کاروبار میں ملوث ہیں۔

ایک سینیئر پولیس افسر نے بی بی سی کو اس واقعے کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ مسلح افراد کے مسلسل ڈرانے اور دھمکانے پر سٹیفن کو مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے گھر والوں سے رقم منگوائیں۔ سٹیفن جرمنی میں موجود اپنے بیٹے کو فون کرتا ہے اور رقم منگوا لیتا ہے جس کے بعد وہ 1.8 بٹ کوائن، جس کی مالیت پاکستانی روپوں میں تقریباً ایک کروڑ اکتالیس لاکھ روپے بنتی ہے، وہیں بیٹھے بیٹھے اپنے لیپ ٹاپ سے بتائے گئے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کر دیتا ہے۔

مسلح افراد رقم کی منتقلی کی تسلی کر لینے کے بعد ان دونوں کو دوبارہ ایک گاڑی میں بیٹھا کر ریس کورس پارک کے پاس چھوڑ دیتے ہیں جہاں ایک ٹیکسی کے ذریعے انھیں پی سی ہوٹل بھجوا دیا جاتا ہے اور ساتھ ہی یہ تنبیہ کی جاتی ہے کہ اگر انھوں نے کسی کو بتایا تو ان کی ویڈیو میڈیا کو ریلیز ک ردی جائے گی۔

پولیس کی تفتیش

پولیس

پریشان حال دونوں غیر ملکی باشندے اس غم اور صدمے کی حالت میں ہوٹل پہنچتے ہیں اور اگلا پورا دن ہوٹل سے باہر نہیں نکلتے۔ لیکن پھر جب ان کا رابطہ اپنے سفارت خانوں سے ہوتا ہے تو اسلام آباد سے یو جی ایس نامی کمپنی کا ایک شخص عطا النور ثاقب لاہور پہنچتا ہے اور ان دونوں غیر ملکیوں سے ملاقات کرتا ہے جس کے بعد اس سارے معاملے کو پولیس کے پاس لے جانے کے متعلق فیصلہ ہوتا ہے۔

12 فروری کو تقریباً دن ایک بجے ایک ڈی آئی جی کے ساتھ دونوں متاثرہ غیر ملکی اور ان کے مترجم عطا النور ثاقب ریس کورس تھانہ پہنچے جہاں عطا النور ثاقب کی مدعیت میں ملزم رانا عرفان اور دیگر کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 395 کے تحت ایک ایف آئی آر درج کرلی گئی جس کے تحت عمر قید یا 10سال قید بامشقت کی سزا ہے۔

سینیئر پولیس افسر کے مطابق اب تک کی تفتیش میں سامنے آنے والے پہلوؤں کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ ملزم رانا عرفان نے بڑی چالاکی سے اس ساری واردات کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی جس کے لیے اس نے نہ صرف گاڑیوں کا بھی بندوبست کر رکھا تھا بلکہ ان میں منشیات بھی رکھوا دیں تھیں تاکہ بعد میں اپنے غیر ملکی مہمانوں کو ڈرا، دھمکا کر تاوان وصول کیا جا سکے۔

پولیس افسر کے مطابق بظاہر اس ساری واردات میں جعلی پولیس اور جعلی میڈیا کو بھی شامل کیا گیا ہے تاکہ نہ صرف غیر ملکیوں کو ڈرایا جاسکے بلکہ تفتیش کو بھی بھٹکایا جا سکے۔

اس کیس کے مدعی اور جی ایس کمپنی کے ملازم عطا النور ثاقب نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں سوئٹرزلینڈ میں موجود ان کے ایک دوست کی کال آئی کہ اس طرح ایک ناخوشگوار واقعہ پیش آیا ہے تو میں ان کی مدد کروں۔ انھوں نے بتایا کہ جب ان کا رابطہ سٹیفین اور میگرون ماریاسپاری سے ہوا تو اپنے ساتھ پیش آئے اس حادثے کی وجہ سے دونوں بہت پریشان تھے۔

انھوں نے بتایا کہ ان سے رابطے کے بعد وہ فوری طور پر اسلام آباد سے لاہور آئے اور دونوں غیر ملکی باشندوں سے ملے اور جس کے بعد وہ دونوں غیر ملکی باشندوں کے مترجم کے طور پر پولیس کے پاس گئے اور کیس درج کروایا۔

رانا عرفان اور ان دونوں غیر ملکی باشندوں کا آپس میں رابطہ تقریباً پچھلے ایک، ڈیڑھ سال سے تھا اور وہ جرمنی میں ان سے ملا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ نہیں جانتے کہ دونوں غیر ملکیوں کا رابطہ رانا عرفان کے ساتھ کوئی کاروباری لین دین کی وجہ سے تھا یا کسی اور وجہ سے۔

عطا النور ثاقب کے بقول، ملزمان نے دونوں غیر ملکیوں سے لاکھوں روپے نقدی کے علاوہ لیپ ٹاپ کے ذریعے کروڑوں روپے کے بٹ کوائن بھی ایک اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کروا لیے۔ انھوں نے مزید بتایا کہ ملزم رانا عرفان کے کہنے پر ہی سٹیفین اپنا لیپ ٹاپ ساتھ لے کر گئے تھے کہ جس جگہ میٹینگ کے لیے جا رہے ہیں وہاں کچھ اہم عہداداروں کو ایک پریزنٹیشن دینی ہے۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ ملزم رانا عرفان جانتا تھا کہ ان کے پاس بٹ کوائن کرنسی ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں عطا النور ثاقب نے بتایا کہ یہ دونوں غیر ملکی باشندے پاکستان میں دو ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کا منصوبہ بنا رہے تھے کیونکہ یہ دونوں لوگ ایک بہت بڑی غیر ملکی کمپنی کے سرکردہ نمائندے تھے لیکن وہ مزید نہیں بتا سکتے کہ وہ سرمایہ کاری کس سیکٹر میں ہونی تھی یا اس کمپنی کا نام کیا ہے۔

عطا النور کے مطابق پولیس سمیت پاکستان کے دیگر اہم ادارے بھی اس کیس کو دیکھ رہے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ جرمن اور سوئس سفارت خانے بھی اس کیس کی نگرانی کر رہے ہیں اور متعلقہ پاکستانی حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔

Abdul Ghaffar Qaisarani
،تصویر کا کیپشنعبد الغفار قیصرانی: بظاہر یہ ایک ڈکیٹی کا کیس ہے جس میں ملزم دونوں غیر ملکیوں کو اپنے جال میں پھانس کر پاکستان بلایا اور بعد میں دیگر ملزمان کی مدد سے انھیں اسلحے کے زور پہ لوٹ لیا

ایس ایس پی انویسٹیگیشن لاہور عبد الغفار قیصرانی نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس ابھی تک مرکزی ملزم رانا عرفان کو ٹریس نہیں کر سکی لیکن ان کی ٹیمیں اس کیس پر لگی ہوئی ہیں اور بہت جلد ملزم رانا عرفان ان کی گرفت میں ہو گا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک سیدھا سیدھا ڈکیٹی کا کیس ہے جس میں ملزم دونوں غیر ملکیوں کو اپنے جال میں پھانس کر پاکستان بلایا اور بعد میں دیگر ملزمان کی مدد سے انھیں اسلحے کے زور پہ لوٹ لیا۔

‘ہمارے پاس ملزم رانا عرفان کا مکمل ڈیٹا موجود ہے اور وہ فی الحال کسی لوکل نمبر کی بجائے واٹس ایپ ہی استعمال کر رہا ہے لیکن بہت جلد وہ ہماری گرفت میں ہو گا۔‘

ایس ایس پی انویسٹیگیشن لاہورکے مطابق تفتیش کار اس پہلو کی بھی تفتیش کر رہے ہیں کہ کیا اس واردات میں کوئی پولیس کا حاضر سروس یا کوئی سابق اہلکار بھی ملوث ہے یا نہیں۔

دوسری طرف ڈی آئی جی آپریشنز لاہور ساجد کیانی نے بی بی سی کو بتایا کہ پاکستان میں یہ شاید اپنی نوعیت کا پہلا کیس ہے جس میں کسی متاثرہ شخص سے بٹ کوائن کرنسی میں تاوان لیا گیا ہے۔ ‘میں کراچی کا کچھ نہیں کہہ سکتا لیکن اس کے علاوہ ایسا کیس پہلے کبھی نہیں سنا جس میں کسی سے بٹ کوائن کرنسی چھینی گئی ہو۔'

ساجد کیانی کے مطابق انھیں ایک ڈی آئی جی نے اس سارے واقعہ کے متعلق بتایا تھا جس کے بعد فوری طور پر انھوں نے ایکشن لینے کا کہا۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس کو یقین نہیں تھا کہ یہ واقعہ لاہور میں ہی ہوا ہے لیکن اس کے باوجود ہم نے فوری طور پر ایف آئی آر کا اندراج کر کے ملزمان کی تلاش شروع کر دی۔

ساجد کیانی نے مزید بتایا کہ بٹ کوائن سے متعلقہ تفتیش کے معاملات بڑا پچیدہ ہیں اور بڑی مہارت درکار ہوتی ہے لیکن اس کیس میں انھیں زیادہ مسئلہ نہیں ہو گا کیونکہ نہ صرف ملزم کا پتا ہے بلکہ جس اکاؤنٹ میں بٹ کوائن ٹرانسفر ہوئے ہیں اس کا بھی سراغ باآسانی مل جائے گا جس سے ریکوری ممکن ہو سکے گی۔

مگر کیا ایسا ممکن ہے؟

آئی ٹی کے شعبے سے وابسطہ اور کرپٹو کرنسی معاملات کے ماہر ظہیر رسول بتاتے ہیں کہ ‘بٹ کوائن کے اکاؤنٹس کو عام اصطلاح میں بٹ کوائن والٹ کہا جاتا ہے۔ اور بٹ کوائن کرنسی ایک ڈسٹربیوٹڈ لیجر کے نظام پر چلتی ہے یعنی اس میں یہ معلومات عام ہوتی ہیں کہ کس والٹ میں کتنے پیسے ہیں۔ مگر کون سا والٹ کس کا ہے، یہ کسی کو معلوم نہیں ہوتا۔ اس لیے ملزمان نے کس اکاؤنٹ میں بٹ کوائن ٹرانسفر کروائے ہیں، یہ معلومات تو شاید متاثرین آپ کو دے دیں۔ مگر یہ اکاؤنٹ کس کا ہے، یہ جاننا مشکل ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ‘کوئی بھی شخص جس کے پاس بٹ کوائن ہیں وہ چاہے تو اس رقم کو کسی اور کرپٹو کرنسی میں منتقل کر سکتے ہیں اور اگر کسی ایسی کرنسی میں منتقل کر دیے جائیں جو کہ پرائیویسی کوائن ہو، تو پھر رقم کہاں سے کہاں جاتی ہے، اس کا سراخ لگانا ناممکن ہوتا ہے۔‘

’دنیا میں ایسی بہت سی کمپنیاں ہیں جو یہ سروس فراہم کرتی ہیں کہ آپ ان کے پاس بٹ کوائن یا کوئی اور کرپٹو کرنسی لے کر جائیں تو وہ آپ کو نئی کرپٹو کرنسی یا روایتی کرنسی جیسے ڈالر یا روپے دے دیں۔ چنانچہ یہ کہنا درست ہو گا کہ اس معاملے کی تہہ تک پہنچنے کے لیے حکام کو بلاک چین کے فارنزک ماہرین کی ضرورت پڑے گی اور یہ کرنا اتنا آسان کام نہیں ہے۔‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *