بچوں کی ناک انہیں کووڈ سے لڑنے میں مدد فراہم کرتی ہے، تحقیق

بالغ افراد کے مقابلے میں بچے کووڈ سے زیادہ متاثر کیوں نہیں ہوتے یا بیمار ہونے پر بیماری کی شدت معمولی کیوں ہوتی ہے۔

اس معمے کے بارے میں جاننے کے لیے طبی ماہرین کورونا وائرس کی وبا کے آغاز سے کام کررہے ہیں اور اب ممکنہ جواب سامنے آیا ہے۔

بچوں کی ناک بالغ افراد کے مقابلے میں کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کے خلاف دفاع کے لیے زیادہ بہتر ہوتی ہے۔

یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ بچوں کی ناک میں کورونا وائرس کے خلاف پہلے سے امیونٹی متحرک ہوتی ہے۔

اس تحقیق میں کووڈ کے 18 بچوں سمیت 45 مریضوں کے نیسل سواب ٹیسٹ کیے گئے تھے اور ان کے نتائج کا موازنہ 18 بچوں سمیت 42 صحت مند افراد کے نمونوں سے کیا گیا۔

بچوں کے نمونوں میں نتھنے کے خلیات اور مدافعتی خلیات میں ایسے جینیاتی مواد کی سطح کو زیادہ دریافت کیا گیا جو وائرس کی موجودگی کو محسوس کرکے مدافعتی نظام کو دفاع کے لیے متحرک کرتا ہے۔

اس جینیاتی مواد کی زیادہ مقدار کے باعث بالغ افراد کے مقابلے میں بچوں کا بیماری کے خلاف ابتدائی مدافعتی ردعمل زیادہ مضبوط ہوتا ہے۔

طبی جریدے نیچر بائیوٹیکنالوجی میں شائع تحقیق بتایا گیا کہ بچوں کے نمونوں میں بالغ افراد کے نمونوں کے مقابلے میں مخصوص مدافعتی خلیات ٹی سیلز کی موجودگی کو زیادہ دریافت کیا گیا۔

ٹی سیلز بیماریوں سے لڑنے سے طویل المعیاد مدافعت پیدا کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔

محققین نے کہا کہ اسی وجہ سے بچوں کے خلاف وائرس کی صلاحٰت گھٹ جاتی ہے اور بچوں کو اپنے جسم میں ان کی صفائی تیزی سے کرنے میں مدد ملتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ متعدد تحقیقی رپورٹس سے یہ پہلے ہہی ثابت ہوچکا ہے کہ بالغ افراد کے مقابلے میں بچے زیادہ تیزی سے اپنے جسم کے اندر سے کورونا وائرس کو کلیئر کرتے ہیں۔

اس سے پہلے اگست 2021 کے وسط میں امریکا کے یالے اسکول آف میڈیکل ہیلتھ کی تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ کووڈ کے شکار اکثر بچوں میں اس بیماری کی علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔

یالے اسکول آف میڈیکل ہیلتھ کی اس تحقیق میں اپریل 2021 تک شائع ہونے والی 350 سے زیادہ تحقیقی رپورٹس کے ڈیٹا کا منظم تجزیہ کرکے یہ نتیجہ نکالا گیا۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ معمر افراد یا پہلے سے کسی بیماری سے متاثر لوگوں کے مقابلے میں بچوں میں کووڈ کی بغیر علامات والی بیماری زیادہ عام ہوتی ہے۔

تحقیقی ٹیم کے تخمینے کے مطابق 46.7 فیصد مریض بچوں میں کسی قسم کی علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔

error: