بڑی تعداد میں درآمدات کے باوجود غذائی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ کا سلسلہ نہ رک سکا

کراچی: غذائی اشیا کی زیادہ درآمدات نے رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں مجموعی درآمدی بل 52 فیصد تک اضافے سے 3 ارب 90 کروڑ ڈالر تک پہنچا دیا۔

 رپورٹ کے مطابق مالی سال 2021 میں آسمان کو چھوتی اجناس کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے لے لیے گندم اور چینی کی درآمد نے مجموعی درآمد بل کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا، تاہم گندم، چینی اور پام آئل کی درآمدات میں اضافہ بھی عوام کو قیمتوں میں کسی قسم کا ریلیف فراہم کرنے میں ناکام ہوگیا۔

مالی سال 2020 میں حکومت کے درآمدات کم کرنے کے منصوبے کے مجموعی غذائی درآمدی بل 4.32 فیصد کم ہوکر 5 ارب 42 کروڑ 30 اب ڈالر رہا جبکہ مالی سال 2020 میں گندم کی کوئی درآمد نہیں کی گئی، اس کے علاوہ اسی عرصے میں چینی کا درآمدی حجم بھی معمولی دیکھا گیا تھا۔

پاکستان ادارہ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں 66 کروڑ 10 لاکھ ڈالر مالیت کی 24 لاکھ 89 ہزار ٹنز گندم درآمد ہوئی جبکہ گندم کی فی ٹن اوسط قیمت 265 ڈالر رہی۔

تاہم ملرز نے صرف ایک مرتبہ صارفین کو ریلیف دیا تھا اور اکتوبر کے تیسرے ہفتے میں آٹے کی قیمت 7 روپے فی کلو تک کم کردی گئی تھی اور ڈھائی نمبر آٹے کی قیمت کم ہوکر 52 روپے جبکہ فائن اور سوپر فائن آٹا 64 روپے کلو تک پہنچ گیا تھا۔

جس کے بعد گندم کی مسلسل درآمدات سمیت نئی فصل کے آنے اور صوبائی محکمہ فوڈ سے باقاعدہ فراہمی کے باوجود ملرز نے دوبارہ قیمتوں میں اضافہ شروع کردیا اور اس وقت برانڈڈ فلور ملز کا 5 کلو کا تھیلا 330 کے بجائے 360 روپے جبکہ 10 کلو کا تھیلا 680 کے بجائے 700 سے 720 روپے میں فروخت ہورہا ہے۔

اسی طرح دالوں کی درآمدات مقدار میں 13 فیصد تک بڑھ کر 5 لاکھ 68 ہزار 206 ٹن تک پہنچ گئی جبکہ مالیت میں 17 فیصد بڑھ کر 28 کروڑ 70 لاکھ ڈالر رہی، دالوں کی فی ٹن اوسط قیمت 487 ڈالر سے بڑھ کر 506 ڈالر ہوگئی۔

یوں حال ہی میں ہول سیل مارکیٹ میں دالوں کی قیمتیں 20 روپے فی کلو گرام تک بڑھ گئیں اور اس وقت ہول سیل قیمت میں چنے کی دال 140 روپے، مونگ 240 روپے، مسور 130 روپے اور ماش 240 روپے فی کلو میں فروخت ہورہی ہے۔

مزید برآں رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں پام آئل کا درآمدی بل ایک ارب 11 کروڑ 10 لاکھ ڈالر رہا جو مالی سال 20 کی پہلی ششماہی کے مقابلے میں 32 فیصد تک زیادہ تھا جبکہ درآمد کا حجم 7.49 فیصد تک بڑھ کر 16 لاکھ 29 ہزار ٹن دیکھا گیا۔

فی ٹن اوسطا قیمت 555 ڈالر سے بڑھ کر 682 ڈالر تک پہنچ گئی جس کا نتیجہ گھی اور کھانے پکانے کے تیل کی قیمتیں میں 40 سے 50 روپے فی لیٹر/کلو اضافے کی صورت میں سامنے آیا۔

اس کے علاوہ سویابین آئل کی درآمد بھی مقدات میں 23 فیصد تک بڑھ کر 72 ہزار 756 ٹن جبکہ مالیت میں 18 فیصد بڑھ کر 4 کروڑ 80 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی، مزید یہ کہ اوسط فی ٹن قیمت 668 ڈالر سے کم ہوکر 663 ڈالر ہوگئی۔

ادھر جنرل سیکریٹری کراچی ریلیٹر گروسرز گروپ (کے آر جی جی) فرید قریشی کا کہنا تھا کہ گھی اور کھانے پکانے کے تیل کی قیمیں بلندیوں پر ہیں، اسی کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 14 جنوری کو 5 لیٹر برانڈڈ کوکنگ آئل کا پیک 1480 روپے کا تھا جو پیر کو 1625 روپے کی نئی قیمت کو پہنچ گیا تھا۔

اسی طرح اوسط درجے کے تیل کی قیمت 250 روپے فی لیٹر ہے جو 14 جنوری کو 200 روپے تھی جبکہ اعلیٰ درجے کا تیل 250 روپے کے مقابلے اب 300 روپے فی لیٹر ہوچکا ہے۔

علاوہ ازیں چینی کی قیمت میں بھی اضافہ دیکھا گیا اور یہ ہول سیل قیمتوں میں مسلسل اضافے کے بعد دسمبر کے آخری ہفتے کی 85 روپے فی کلو کی قیمت سے بڑھ کر 90 سے 95 روپے کلو ہوگئی ہے۔

مزید برآں ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتیں 2.95 روپے اضافے سے 113 روپے 19 پیسے فی لیٹر ہونے سے ٹرانسپورٹیشن (نقل و حرکت) کی لاگت مزید بڑھ گئی ہے۔

تاہم گزشتہ کچھ ماہ میں ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں بہتری کے تناظر میں درآمدی اشیا کی لاگت ضرور کم ہوئی۔

error: