بھارتی ٹیم فیصلہ تبدیل ہونے پر برہم، نشریاتی ادارے پر ٹیکنالوجی بدلنے کے الزامات

کھیل، کھلاڑیوں اور تنازعات کا چولی دامن کا ساتھ ہے اور اسی لیے آئے دن نت نئے تنازعات سامنے آتے رہتے ہیں جس کی سب سے بڑی مثال نوواک جوکووچ کا واقعہ ہے۔

تاہم ایسا ہی ایک واقعہ کرکٹ کے میدان پر کیپ ٹاؤن میں بھارت اور جنوبی افریقہ کے درمیان کھیلے گئے ٹیسٹ میچ میں پیش آیا جب افریقی کپتان ڈین ایلگر کے خلاف ایل بی ڈبلیو کا فیصلہ میزبان ٹیم کے حق میں تبدیل ہونے پر بھارتی کپتان اور کھلاڑیوں نے شدید برہمی اور فیصلے پر شکوک کا اظہار کیا۔

میچ کے تیسرے بھارت کی جانب سے دیے گئے 212 رنز کے ہدف کے تعاقب میں جنوبی افریقہ کا اسکور ایک وکٹ پر 60 رنز تھا کہ اسی دوران روی چندرن کی ایشون کی گیند پر ایلگر کے خلاف ایل بی ڈبلیو اپیل پر امپائر نے انہیں آؤٹ قرار دے دیا۔

گیند وکٹوں کے عین سامنے پیڈ پر لگی تھی اسی لیے ایلگر نے قدرے ہچکچاتے ہوئے ریویو لیا جو ان کے حق میں گیا اور ریویو میں واضح تھا کہ گیند لیگ اسٹمپ کے اوپر سے گزر رہی تھی کیونکہ بلے باز کا پیر وکٹ سے کافی آگے تھا۔

اس موقع پر فیصلے پر حیرت کا شکار بھارتی کھلاڑی اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور انہیں اسٹمپ میں اسپورٹس مین اسپرٹ کے منافی الفاظ بولتے ہوئے سنا گیا۔

بھارتی کھلاڑی اسٹمپ مائیک کے اردگرد کھڑے ہو کر فیصلے پر احتجاج اور شکایت کرتے دیکھے گئے کیونکہ ان کا ماننا تھا کہ ایلگر واضح طور پر ایل بی ڈبلیو تھے۔

بھارتی کپتان ویرات کوہلی اوور کے اختتام پر اسٹمپ مائیک کے قریب گئے اور بظاہر سپر اسپورٹس کو مخاطب کرتے ہوئے زور سے بولے صرف مخالفین ہی نہیں بلکہ اپنی ٹیم کو بھی گیند چمکاتے ہوئے نظر رکھا کریں، ہرقت اپوزیشن کو پکڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔

کوہلی آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ کے درمیان 12018 میں کھیلے گئے کیپ ٹاؤن ٹیسٹ میں سیڈپیپر گیٹ تنازع کا حوالہ دے رہے تھے جس میں آسٹریلین کھلاڑی کیمرون بین کرافٹ کو سینڈپیپر سے گیند چمکاتے ہوئے کیمرہ نے پکڑ لیا تھا۔

اس کے بعد ٹیم کے نائب کپتان لوکیش راہل اور ایشون نے بھی میزبان براڈکاسٹر پر بال ٹریکنگ ٹیکنالوجی پر اثرانداز ہونے کا الزام عائد کیا۔

راہل کو مائیک میں یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ پورا ملک 11 کھلاڑیوں کے خلاف کھیل رہا ہے۔

ایشون نے بھی فیصلے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 'سپراسپورٹس کو جیتنے کے لیے بہتر راستے تلاش کرنے چاہئیں۔

صرف بھارتی کھلاڑی ہی نہیں بلکہ آؤٹ قرار دینے والے امپائر میراس ایراسمس بھی فیصلے پر حیران ہوئے بغیر نہ رہ سکے اور انہیں 'یہ ناممکن ہے' کے الفاظ بڑبڑاتے ہوئے سنا گیا۔

ایلگر اس کے بعد اپنے اسکور میں صرف 10رنز کا اضافہ کرنے کے بعد پویلین لوٹ گئے لیکن اس وقت جنوبی افریقہ کا مجموعی 101 رنز تک پہنچ چکا تھا اور انہیں فتح کے لیے محض 111رنز درکار تھے۔

جب اس بارے میں گزشتہ روز بھارتی باؤلنگ کوچ پارس ممبرے سے پریس کانفرنس میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ جو ہوا وہ ہم سب نے دیکھا، میں یہ معاملہ میچ ریفری پر چھوڑتا ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہر فرد اپنی مکمل کوشش کررہا تھا، کبھی کبھار اس طرح کے حالات میں لوگ کچھ چیزیں کر جاتے ہیں۔

جنوبی افریقی فاسٹ باؤلر لنگی نگیدی نے کہا کہ ہمیں ٹیکنالوجی پر پورا بھروسہ ہے، ہم نے ہم دنیا بھر میں اسے استعمال کرتے ہوئے دیکھتے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس طرح کا ردعمل مایوسی کی عکاسی کرتا ہے، وہ بہت جذباتی تھے اور شاید کچھ دباؤ محسوس کررہے تھے۔

ابھی تک میچ ریفری اینڈیپائی کرافٹ یا انٹرنیشنل کرکت کونسل کی جانب سے بھارتی کھلاڑیوں کے اس ردعمل کے خلاف کوئی ڈسپلنری ایکشن لینے کا عندیا نہیں دیا گیا۔

دوسری جانب براڈ کاسٹر سپر اسپورٹس نے کہا کہ ان کا سیریز میں استعمال ہونے والے ڈی آر ایس پر کوئی کنٹرول نہیں ہے۔

اے ایف پی کو جاری اپنے مختصر بیان میں سپراسپورٹس نے کہا کہ ہم نے بھارتی کھلاڑیوں کے کمنٹس کو نوٹ کر لیا ہے لیکن ہم آئی سی سی کی منظور شدہ ٹیکنالوجی کی سروسز فراہم کرتے ہیں جو کئی سالوں سے استعمال ہو رہی ہے۔

آج جنوبی افریقہ نے تیسرے ٹیسٹ میچ میں بھارت کو 7 وکٹوں سے شکست دے کر سیریز بھی 1-2 سے جیت لی۔

error: