بیجنگ سرمائی اولمپکس 2022: گرم آب و ہوا والے ممالک کے کھلاڑی سرمائی اولمپکس مقابلوں میں کیا کر رہے ہیں؟

ٹراپیکل ممالک (یعنی وہ ممالک جو خطِ استوا کے نزدیک پائے جاتے ہیں) کا موسم سارا سال مرطوب اور گرم ہوتا ہے اور ایسے ممالک میں سے آج تک کوئی بھی سرمائی اولمکپس کھیلوں میں تمغہ حاصل نہیں کر سکا ہے۔

تو کیا وجہ ہے کہ گذشتہ کئی اولمکپس سے ایسے ممالک کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے جو سرمائی کھیلوں کے سب سے بڑے مقابلوں میں اپنے کھلاڑیوں کو نہ صرف بھیج رہے ہیں اور ساتھ ساتھ ان سے تمغے جیتنے کی امید بھی لگائے بیٹھے ہیں۔

اس مضمون میں ہم چند ایسے ممالک کے بارے میں بتائیں گے جن کے کھلاڑی 'سونے کی تلاش' میں سرمائی اولمکپس میں شرکت کے لیے چین کے دارالحکومت بیجنگ میں موجود ہیں۔

ان میں الپائن مقابلوں میں شرکت کرنے والے ایک سعودی کھلاڑی ہیں، جزائر غرب الہند یعنی کریبین جزیروں میں سے ایک، جمیکا کے کھلاڑی 'بوب سلیڈ' ریس کے لیے کوالی فائی کر گئے ہیں اور تھائی لینڈ سے تعلق رکھنے والی ایک کراس کنٹر سکیر بھی ہیں۔

سعودی عرب کے ریتیلے صحراؤں سے برفانی ڈھلوانوں تک کا سفر

Saudi skier Fayik Abdi
،تصویر کا کیپشنسعودی عرب کے فائق عابدی ان کھیلوں میں اپنے ملک کی نمائندگی کرنے والے واحد شخص ہوں گے

آپ کو اس بات پر حیران ہونے کی پوری طرح اجازت ہے کہ سرمائی کھیلوں کے برفیلے مقابلوں میں ایک مرطوب آب و ہوا والے ملک سعودی عرب کا کھلاڑی کیا کر رہا ہے۔

لیکن 24 سالہ فائق عابدی نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اس مقابلے کے لیے بھرپور تیاری کر رہے ہیں اور وہ ان کھیلوں میں اپنے ملک کی نمائندگی کرنے والے واحد شخص ہوں گے جہاں وہ الپائن سکیینگ کے مقابلوں میں شرکت کریں گے۔

'میں یہ جانتا ہوں کے بطور سعودی میرا سرمائی کھیلوں میں شرکت کرنا لوگوں کے لیے تعجب کی بات ہے لیکن میرے لیے یہ بہت فخریہ لمحہ ہے اور نہ صرف میرے ملک کے لیے بلکہ پورے خلیج کے خطے کے لیے بھی ہے۔'

چار فروری سے چین میں شروع ہونے والے سرمائی اولمپکس مقابلوں میں پہلی بار سعودی عرب کا کوئی کھلاڑی شرکت کرے گا۔

تو فائق عابدی یہاں تک پہنچے کیسے؟ اس سوال کا جواب بڑا دلچسپ ہے۔

سعودی عرب میں سرمائی کھیلوں کی تنظیم نے اولمکپس ٹیم کی تیاری کے لیے ایک اشتہار دیا تاکہ ممکنہ کھلاڑیوں کو جمع کیا جا سکے جس کے جواب میں 100 سے زیادہ افراد نے درخواست دی۔

فائق عابدی ان میں سے ایک تھے۔ انھوں نے صرف چار برس کی عمر میں سکینگ کرنا سیکھی تھی اور امریکہ میں دوران تعلیم انھوں نے یہ سلسلہ جاری رکھا۔

سنہ 1924 میں ہونے والے پہلے سرمائی کھیلوں میں امریکہ، کینیڈا اور 14 یورپی ممالک نے شرکت کی تھی تاہم وقت کے ساتھ ساتھ شرکت کرنے والے ممالک کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا اور 2018 میں جنوبی کوریا میں ہونے والے آخری سرمائی اولمپکس میں ریکارڈ 92 ممالک نے شرکت کی تھی۔

بیجنگ میں اس سال 91 ممالک مختلف کھیلوں میں شرکت کریں گے جس میں سعودی عرب اور ہیٹی پہلی بار شرکت کریں گے جبکہ چند اور ممالک جیسے برازیل، مشرقی تمور، گھانا اور تائیوان بھی ان میں شامل ہوں گے جنھیں عمومی طور پر گرم ممالک سمجھا جاتا ہے۔

اور پھر بات آتی ہے جمیکا کی۔

جمیکا کی بوب سلیڈ ٹیم جسے ہالی ووڈ کی فلم کُول رننگز نے تاریخ میں امر کر دیا

Jamaica's 4-man bobsleigh team in the 1988 Winter Games
،تصویر کا کیپشنسنہ 1993 میں ریلیز کی گئی ہالی ووڈ کی فلم 'کوُل رننگز' حقیقی واقعات پر مبنی ہے جو 1988 میں کینیڈا میں منعقد ہونے والے کیلگری اولمپکس میں ہونے والے واقعات کی عکاسی کرتی ہے جہاں چار افراد پر مشتمل جمیکا کی 'بوب سلیڈ' ٹیم نے ان کھیلوں کے لیے کوالی فائی کیا۔

اگر سرمائی اولمکپس ہوں اور بات کسی ایسے گرم ملک کی ہو جو ان کھیلوں میں شرکت کر رہا ہے، تو ذہن میں پہلا خیال صرف اور صرف جمیکا کا آتا ہے۔

اور اس کی وجہ بنی 1993 میں ریلیز کی گئی ہالی ووڈ کی فلم 'کوُل رننگز' جو کہ حقیقی واقعات پر مبنی ہے۔

یہ فلم 1988 میں کینیڈا میں منعقد ہونے والے کیلگری اولمپکس میں ہونے والے واقعات کی عکاسی کرتی ہے جہاں چار افراد پر مشتمل جمیکا کی 'بوب سلیڈ' ٹیم نے ان کھیلوں کے لیے کوالی فائی کیا۔

اس فلم نے نہ صرف دنیا بھر میں سامعین کو محظوظ کیا بلکہ اُن ممالک کو ہمت اور حوصلہ دیا جنھیں روایتی طور پر 'غیر برفیلے ممالک' میں شمار کیا جاتا تھا۔

اس کے بعد اگلے کئی سرمائی کھیلوں میں دو افراد والے بوب سلیڈ کے مقابلوں میں جمیکا کے کھلاڑی کوالی فائی کرتے رہے اور کھیلوں میں شرکت کرتے رہے لیکن یہ جاپان میں 1998 میں ہونے والے ناگانو اولمکپس کے بعد پہلا موقع ہے جب چار افراد والے بوب سلیڈ مقابلوں میں جمیکا کی ٹیم شرکت کرے گا۔

چار افراد والے بوب سلیڈ کے علاوہ اس سال جمیکا دو افراد والے بوب سلیڈ مقابلوں میں شرکت کرے گا جبکہ جیسمین فین لیٹر وکٹوریا خواتین کی مونو بوب ریس میں شرکت کریں گی۔

Two members of the Jamaican 4-man bobsleigh team push a Mini Cooper during lockdown in the UK
،تصویر کا کیپشنکووڈ کی وبا کے باعث جمیکا کی بوب سلیڈ ٹیم کے اراکین کو گاڑی کو دھکا لگا کر تیاری کرنی پڑی تھی

کوُل رننگز کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ جب 1998 کھیلوں کے لیے برازیل کی ٹیم نے کوالی فائی کرنے کی کوشش کی تو انھوں نے فنڈ جمع کرنے کے لیے اس فلم کو استعمال کیا۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ غیر برفیلے ممالک کا سرمائی اولمپکس میں شرکت کا سفر کہیں پرانا ہے۔

عالمی اولمپکس کمیٹی (آئی او سی) کے مطابق میکسیکو پہلا گرم آب و ہوا والا ملک تھا جس نے 1928 کے سرمائی کھیلوں میں شرکت کی تھی۔

البتہ ٹراپیکل ممالک کی کھیلوں میں شرکت کا آغاز 1972 میں ہوا جب فلپائن نے دو مرد کھلاڑی الپائن سکینگ کے کھیلوں میں بھیجے۔

وقت کے ساتھ ساتھ غیر روایتی ممالک کا ان سرمائی کھیلوں میں دلچسپی رکھنا ان کے کھلاڑیوں کے لیے بڑا فائدہ مند ثابت ہوا ہے۔

کریبین جزائر کے ایک اور ملک، ہیٹی کی ہی مثال لے لیں، جو پہلی بار کسی سرمائی اولمپکس میں شرکت کرے گا جہاں ان کی نمائندگی الپائن سکینگ کرنے والے رچرڈسن ویانو کریں گے۔

رچرڈسن ویانو کی پیدائش ہے تو ہیٹی کی لیکن انھیں ایک فرانسیسی خاندان نے تین سال کی عمر کی گود لے لیا تھا اور اس کے بعد سے انھوں نے اپنی ساری زندگی یورپ میں گزاری ہے۔

چار برس قبل جب وہ 2018 کے سرمائی اولمکپس کے لیے فرانس کی ٹیم کے لیے کوالی فائی نہ کر سکے تو ہیٹی کے کھیلوں کے حکام نے ان سے رابطہ کیا اور ہیٹی کی نمائندگی کرنے کی پیشکش کی۔

ہیٹی کی ایک نیوز ویب سائٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ اس پیشکش سے ان کے کرئیر کو نئی زندگی ملی۔

'اگر وہ کال نہ کرتے، تو میں سکینگ کرنا چھوڑ چکا ہوتا اور تعمیراتی شعبے سے منسلک ہو گیا ہوتا۔'

تھائی لینڈ کی نمائندگی کرنے والی کراس کنٹری سکیئر

Karen Chanloung
،تصویر کا کیپشنکیرن چان لونگ کے والد کا تعلق تھائی لینڈ سے ہے لیکن ان کی پیدائش اٹلی میں ہوئی تھی اور وہ اپنے بھائی مارک کے ہمراہ ماضی میں اٹلی کی نمائندگی کر چکی ہیں۔

اسی طرح 25 سالہ کیرن چان لونگ ہیں جو تھائی لینڈ کی چار رکنی ٹیم کا حصہ ہیں۔

کیرن چان لونگ کے والد کا تعلق تھائی لینڈ سے ہے لیکن ان کی پیدائش اٹلی میں ہوئی تھی اور وہ اپنے بھائی مارک کے ہمراہ ماضی میں اٹلی کی نمائندگی کر چکی ہیں۔

لیکن پھر 2016 میں تھائی حکام نے ان سے رابطہ کیا جس کے بعد 2018 کے کھیلوں میں دونوں بہن بھائی نے کراس کنٹر سکینگ میں شرکت کی اور ایک بار پھر 2022 میں بھی وہ دونوں تھائی لینڈ کی نمائندگی کریں گے۔

کیرن کہتی ہیں کہ اُن دونوں کی خواہش تھی کہ وہ تھائی لینڈ کے لیے نمائندگی کریں لیکن وہاں کئی سالوں تک سرمائی کھیلوں کی کوئی تنظیم ہی نہیں تھی۔

'لیکن یہ میرے اور میرے بھائی کے لیے بہت معنی رکھتا ہے کہ ہم تھائی لینڈ کی نمائندگی کریں۔ یہ ہمارا ملک ہے اور ہم تھائی ثقافت میں پلے بڑھے ہیں۔'

تربیت کے اعتبار سے دیکھیں تو ان ممالک کے کھلاڑیوں کے لیے تیاری کرنا زیادہ دشوار ثابت ہوتا ہے کیونکہ انھیں سفر بہت کرنا پڑتا ہے اور کووڈ کی وبا کے دوران یہ مشکلات دوبالا ہو گئی تھیں۔

سعودی کھلاڑی فائق عابدی کہتے ہیں کہ وبا کے باعث دشواریاں بہت تھیں لیکن یہ اب سب کی زندگیوں کا حصہ ہے۔

'اسی وجہ سے جب میں نے اولمکپس کے لیے کوالی فائی کیا تو مجھے اور بھی زیادہ خوشی ہوئی۔'

Australian freestyle skier Matt Graham celebrates winning a silver medal in the 2018 Winter Olympics
،تصویر کا کیپشنصرف آسٹریلیا ایک ایسا 'گرم' ملک ہے جو قدرے کامیاب رہا ہے اور 19 اولمپکس مقابلوں میں شرکت کے بعد وہ اب تک 15 تمغے جیت چکا ہے۔

لیکن جہاں ایک جانب غیر روایتی یا 'غیر برفیلے' ممالک سرمائی اولمکپس میں شرکت کر رہے ہیں، وہیں دوسری جانب ان کی کارکردگی تمغوں کے اعتبار سے بہت مایوس کن رہی ہے۔

آئی او سی کے مطابق ٹراپیکل ممالک میں سے آج تک کوئی ایک بھی تمغہ حاصل نہیں کر سکا ہے۔ صرف آسٹریلیا ایک ایسا 'گرم' ملک ہے جو قدرے کامیاب رہا ہے اور 19 اولمپکس مقابلوں میں شرکت کے بعد وہ اب تک 15 تمغے جیت چکا ہے۔

لیکن ناکامی کی اس تاریخ کے باوجود فائق عابدی اور کیرن چن لونگ جیسے کھلاڑیوں کے حوصلے پست نہیں ہیں۔

کیرن چن لونگ کہتی ہیں کہ ان ممالک کے لیے بہت اہم ہے کہ وہ ان کھیلوں میں آئیں اور اپنے جھنڈا لہراتے ہوئے دیکھیں۔ 'بطور کھلاڑی، اس سے زیادہ کوئی بڑا مقابلہ نہیں ہے اور ہم اپنی پوری کوشش کریں گے۔'

فائق عابدی بھی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں۔ ان کا اولمکپس میں شرکت کرنے کا یہ خواب اس منصوبے کا حصہ ہے جس کی مدد سے سعودی عرب میں سرمائی کھیلوں کا رجحان بڑھایا جائے اور اس مد میں وہاں دنیا کا چوتھا سب سے بڑا انڈور 'سنو سینٹر' قائم کیا جا رہا ہے۔

فائق عابدی امید کرتے ہیں کہ ان کی ان کھیلوں میں شمولیت سے لوگوں کو حوصلہ ملے اور وہ انھیں متاثر کر سکیں تاکہ مستقبل میں سعودی عرب اور خلیجی ممالک کے لوگ سرمائی کھیلوں میں دلچسپی لیں اور اولمکپس تک پہنچ سکیں۔