بیرونِ ملک پاکستان چئیرز کی حالتِ زار

انسان فطری طور پر جستجو کاآرزومندہے، اپنے ارد گرد کے ماحول، افراد، ملکوں اور قوموں کے بارے میں جان پہچان اُسے اچھی لگتی ہے اور وہ اِس کا فخر سے اظہار بھی کرتا ہے۔لیکن اِس سے زیادہ اُس کی خواہش ہوتی ہے کہ لوگ اُسے جانیں پہچانیں۔ اُس کے مقام و منصب، نام و نسب اور خاندان و قبیلے سے پوری طرح واقف ہوں۔ اِس سے اُسے دوسروں پر برتری کا احساس ہوتا اوردلی سکون تو ملتا ہی ہے، ساتھ ہی قرب و جوار میں اُس کی بڑائی کا یقین ہونے پر غیر محسوس طور پر ذہنوں میں اُس کے بارے میں اچھا تأثر پیدا ہوتا ہے، چنانچہ لوگ اُس کے پاس بیٹھنے کو باعثِ عزت سمجھتے ہیں۔اُس سے مشورے لیتے اور اُس پر عمل کرتے ہیں۔اِس طرح وہ معاشرے کا اہم اور معزز فرد بن جاتا ہے۔ داناؤں کے نزدیک یہ صورت حال صرف فرد تک محدود نہیں ہے، بلکہ افراد کا مجموعہ ہونے کی وجہ سے سماج، ملک اور قومیں بھی انہیں احساسات کی حامل ہیں۔جس طرح بے نام و نشان فرد، بے وقعت ہو جاتا ہے، بعینہہ گمنام قومیں اور ملک بھی اقوامِ عالم میں عزت و توقیر کو ترستے رہتے ہیں۔سائنس اور ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی کے نتیجے میں جہانیت(Globalisation)کی وجہ سے ملک اور قومیں دوسری قوموں میں اپنی شناخت اور اعتبار قائم کرنے کے لئے دن رات کوشاں ہیں۔ اِس مقصد کے حصول کے لئے دوسرے ملکوں میں سفارت خانے، ثقافتی مراکز، سکول، کالج، ادبی سوسائٹیاں، انجمنیں اور لائبریریاں قائم کرتی اوریونیورسٹیوں میں شعبے قائم کرتی ہیں۔ دوسرے ملکوں کے طلبہ کو وظائف پر اپنے ہاں تعلیم دلواتی ہیں، اُن میں علمی،ادبی، سیاسی، سماجی، ثقافتی وفود بھیجتی اور اپنے اخراجات پر وفود وغیرہ کو بلاتی ہیں تاکہ عوامی سطح پر اہلِ علم و دانش، آرٹسٹوں اور نوجوان نسل کے درمیان رابطوں سے اُن کے ملک کی پہچان ہو اور اُس کا اعتبار و وقار بڑھے۔
اقوامِ عالم کی طرح پاکستان نے بھی آزادی کے ساتھ ہی عالمی برادری میں اپنی شناخت قائم کرنے اور اچھا تأثر پیدا کرنے کے لئے اپنی بساط کے مطابق کئی اقدامات کئے، دنیا کے اہم اور ہمسایہ ملکوں کی یونیورسٹیوں میں پاکستان چیئرز کا قیام اور پاکستان کے خرچ پر اساتذہ، دانشور اور محققین کو وہاں بھیجنا پاکستانی حکومت کااِس سلسلے میں ایک نہایت اہم اقدام ہے۔ چونکہ سفارت خانوں کا ملکوں کے باہمی سیاسی امور سے سروکار ہوتا ہے، پھر اُن کا خاص پروٹو کول اور اُس کے تقاضے ہوتے ہیں،اِس لئے وہ کسی ملک کے مختلف عوامی طبقوں میں اپنے ملک کا صحیح تأثر قائم کرنے میں پوری طرح کامیاب نہیں ہو پاتے۔جب کہ اساتذہ، دانشور اور محققین عوام دوست مزاج ہونے کی وجہ سے اپنی ماموریت کے ملک کے عوام میں گھل مل اور اُن کے مزاج اور رویوّں سے آگاہ ہو جاتے ہیں۔ اِس طرح وہ نہ صرف وہاں کے حالات سے باخبر ہو کے اپنے ملک کو اُس ملک کو عوام اور حکومت سے قریبی تعلقات کے لئے پالیسی سازی میں مدد اور رہنمائی فراہم کر سکتے ہیں، بلکہ عوامی رابطوں کے حوالے سے پُل کا کام دیتے ہیں۔
حکومت پاکستان نے اُردو، مطالعہئ پاکستان، علّامہ اقبال اور قائداعظم کے نام سے دنیا کے مختلف ملکوں میں چودہ چیئرز قائم کی ہیں۔ اِن چیئرز پر مامور ہونے والی علمی، ادبی اور ثقافتی شخصیات نے پوری دنیا میں پاکستان کی ثقافت، تہذیب و تمدن، امن عالم کے لئے اُس کی خدمات، دنیا کے علمی ورثے میں اُس کے حصّے وغیرہ سے اہل دنیا کوآگاہ کیا۔ جس سے عالمی برادری میں اُس کے ایک مہذب، باوقار اور امن و آشتی دوست ملک کا تأثر اُجاگر ہوا۔ مذکورہ چیئرز کچھ سال پہلے تک بھر طور پر فعال رہیں۔ ایک سکالر کی مدت ماموریت کے اختتام پر اُس کی جگہ دوسری شخصیت کو بھیج دیا جاتا رہا، مگر خاصے عرصے سے آدھی سے زیادہ چیئرز، پاکستان کی طرف سے اُستاد نہ بھیجے جانے کی وجہ سے،خالی پڑی ہیں۔ اِن میں سے بیجنگ یونیورسٹی، چین، برکلے اور کولمبیا یونیورسٹیز،امریکہ، الاظہر اور عین الشمس یونیورسٹیز، مصر،کھٹمنڈو یونیورسٹی، نیپال، البائی خان یونیورسٹی، قزاقستان،تہران یونیورسٹی، ایران، ہایڈلبرگ یونیورسٹی، جرمنی، انقرہ یونیورسٹی، ترکی اور اُردن یونیورسٹی، اُردن جیسی اہم چیئرز شامل ہیں۔ قابل توجہ بات یہ ہے اردو چیئرز پر پاکستان کی عدم دلچسپی کی وجہ سے بھارت اُس کا دعویدار بن کر، وہاں اپنا کوئی نمائندہ بھیجنے کی کوشش کرتا ہے۔ چونکہ مذکورہ چیئرز متعلقہ ملکوں اور پاکستان کے باہمی معاہدوں کی وجہ سے تشکیل ہوئی ہیں، اِس لئے اب تک تو ہندوستان اپنی کوششوں میں کامیاب نہیں ہو سکا، لیکن اگر پاکستان کے اربابِ اختیار اِس اہم کام کو نظر انداز کئے رکھیں گے تو پھر کب تک دوسرے ملک اُس کے مفاد کی حفاظت کریں گے۔ مذکورہ چیئرز کئی بار خبارات میں مشتہر کی گئیں، درخواستیں جمع ہوئیں، امیداواروں کے انٹرویوز ہوئے، غیر رسمی طور پر تمام چیئرز کے لئے امیدواروں کے انتخاب کی خبریں بھی سنائی دیں، مگر کئی سال گذر جانے کے باوجود ابھی تک سب کچھ بے نتیجہ ہے۔پاکستان اِن کل چودہ چیئرز کو پُر کرنے میں ناکام رہا ہے، جب کی بھارت کی 108 اِسی طرح کی چیئرز بلا وقفہ کام کر رہی ہیں۔ اگر اِس اہم مسئلے کو اہمیت نہ دی گئی تو پاکستان کا، جو پہلے ہی دشمنوں کے گٹھ جوڑ کی وجہ سے طرح طرح کے الزامات کی زد میں ہے، نا قابلِ تلافی نقصان ہونے کا خدشہ ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *