’بیوی پر تشدد‘ کا مقدمہ ہارنے کے بعد جونی ڈیپ آنے والی فلم سے باہر

ہولی وڈ اداکار 57 سالہ جونی ڈیپ نے برطانوی عدالت میں ’بیوی پر تشدد‘ کا مقدمہ اخبار سے ہارنے کے بعد اپنی آنے والی فنٹیسی فلم ’ فانٹیسٹک بیٹس‘ سے علیحدگی اختیار کرلی۔

جونی ڈیپ رواں ماہ 2 نومبر کو لندن ہائی کورٹ میں برطانوی اخبار ’دی سن‘ کے خلاف دائر کیا گیا ہتک عزت کا مقدمہ ہار گئے تھے۔

جونی ڈیپ نے برطانوی اخبار پر 2018 میں اپنے خلاف ایک مضمون شائع کرنے پر 2 لاکھ یورو کا مقدمہ دائر کیا تھا۔

برطانوی اخبار نے اپنے مضمون میں جونی ڈیپ کو ’بیوی پر تشدد کرنے والا شوہر‘ لکھا تھا۔‎

اخبار میں یہ مضمون اس وقت شائع ہوا تھا جب کہ جونی ڈیپ اور ان کی سابق اہلیہ 34 سالہ امبر ہرڈ کے درمیان 2017 میں طلاق ہوگئی تھی۔

دونوں نے 2015 میں شادی کی تھی، تاہم 2016 میں امبر ہرڈ نے جونی ڈیپ پر تشدد کا الزام لگانے کے بعد طلاق کے لیے عدالت سے رجوع کیا تھا اور دونوں کے درمیان 2017 میں طلاق ہوگئی تھی۔

جونی ڈیپ اور امبر ہرڈ نے نے 2015 میں شادی کی تھی—فائل فوٹو: اے ایف پی
جونی ڈیپ اور امبر ہرڈ نے نے 2015 میں شادی کی تھی—فائل فوٹو: اے ایف پی

دونوں میں طلاق ہونے کے بعد متعدد نشریاتی اداروں میں جونی ڈیپ کی جانب سے امبر ہرڈ پر تشدد کی خبریں شائع ہوئی تھیں، تاہم برطانوی اخبار کے مضمون میں تفصیلات کے ساتھ بتایا گیا تھا کہ اداکار نے بیوی کو 2 سال میں 14 مختلف مواقع پر جسمانی و جنسی تشدد کا نشانہ بنایا۔

مذکورہ مضمون کے بعد جونی ڈیپ نے اخبار کے خلاف جھوٹے دعوے کرنے پر مقدمہ دائر کیا تھا اور اس کی سماعتیں رواں برس جولائی سے ستمبر تک ہوئی تھیں، جس میں جونی ڈیپ اور امبر ہرڈ دونوں شامل ہوئی تھیں۔

سماعتوں میں جونی ڈیپ نے سابق بیوی پر تشدد کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ اخباری مضمون میں جھوٹ لکھا گیا، سچ تو یہ ہے کہ سابق اہلیہ ان پر تشدد کرتی تھیں۔

سماعتوں کے دوران امبر ہرڈ نے بتایا تھا کہ انہوں نے بھی ایک یا دو مرتبہ جونی ڈیپ پر تشدد کیا تھا مگر ان پر 14 مواقع پر تشدد کیا گیا اور ساتھ ہی سابق شوہر نے انہیں دوسرے مرد حضرات سے گینگ ریپ کا نشانہ بنوانے کی دھمکیاں بھی دی تھیں۔

سماعتوں کے بعد رواں ماہ 2 نومبر کو لندن ہائی کورٹ نے جونی ڈیپ کے خلاف فیصلہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ثبوتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اداکار نے سابق اہلیہ امبر ہرڈ کو 14 مواقع پر تشدد کا نشانہ بنایا۔

شادی کے 15 ماہ بعد امبر ہرڈ نے شوہر پر تشدد کا الزام لگا کر طلاق حاصل کی تھی—فائل فوٹو: ڈیلی ایکسپریس یوکے
شادی کے 15 ماہ بعد امبر ہرڈ نے شوہر پر تشدد کا الزام لگا کر طلاق حاصل کی تھی—فائل فوٹو: ڈیلی ایکسپریس یوکے

عدالت نے جونی ڈیپ کے بجائے برطانوی اخبار کے حق میں فیصلہ دیا تھا، جس کے بعد جونی ڈیپ کو آنے والی فلم فانٹیسٹک بیٹس‘ کی ٹیم نے فلم سے الگ ہونے کی درخواست کی تھی۔

فلم کی ٹیم کی جانب سے کی گئی درخواست کو اداکار نے قبول کرتے ہوئے فلم سے علیحدگی اختیار کرلی۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ جونی ڈیپ نے 6 نومبر کو سوشل میڈٰیا پر جاری کیے گئے بیان میں تصدیق کی کہ انہوں نے فانٹیسٹک بیٹس‘ کی آنے والی فلم سے علیحدگی اختیار کرلی۔

اداکار نے بتایا کہ لندن ہائی کورٹ کی جانب سے ان کے خلاف فیصلہ سنائے جانے کے بعد ان کی آنے والی فلم فانٹیسٹک بیٹس‘ کی پروڈکشن کمپنی نے ان سے فلم سے الگ ہونے کی درخواست کی تھی۔

جونی ڈیپ نے سابق اہلیہ پر امریکی عدالت میں بھی جھوٹے الزامات لگانے پر ہتک عزت کا مقدمہ کر رکھا ہے—فوٹو: رائٹرز/ اے پی
جونی ڈیپ نے سابق اہلیہ پر امریکی عدالت میں بھی جھوٹے الزامات لگانے پر ہتک عزت کا مقدمہ کر رکھا ہے—فوٹو: رائٹرز/ اے پی

اداکار نے بتایا کہ انہوں نے حالیہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے پروڈکشن کمپنی کی درخواست کا احترام کیا اور فلم سے علیحدگی اختیار کرلی۔

دوسری جانب فانٹیسٹک بیٹس‘ کی پروڈکشن کمپنی وارنر برادرز نے بھی جونی ڈیپ کے فلم سے الگ ہونے کی تصدیق کردی۔

فانٹیسٹک بیٹس‘ کی شوٹنگ رواں ماہ 10 نومبر کے بعد شروع ہونی تھی اور جونی ڈیپ نے اس کی شوٹنگ کے لیے امریکی عدالت میں اپنی سابق اہلیہ امبر ہرڈ کے خلاف دائر کیے گئے ہتک عزت کے دعوے کی سماعت بھی ملتوی کرنے کی درخواست دائر کی تھی۔

تاہم عدالت نے ان کی درخواست مسترد کرتے ہوئے اداکار کو 10 سے 12 نومبر تک سماعتوں میں حاضر رہنے کا حکم دیا تھا۔

ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ جونی ڈیپ کی جگہ مذکورہ فلم میں کس کو کاسٹ کیا جائے گا اور کب تک اس کی شوٹنگ شروع کی جائے گی۔

فانٹیسٹک بیٹس‘ کی یہ تیسری فلم تھی، جسے 2022 تک ریلیز کیا جانا تھا، اس سے قبل اس سیریز کی پہلی فلم 2016 اور دوسری فلم 2018 میں آئی تھی، جونی ڈیپ نے دوسری فلم میں کردار ادا کیا تھا اور تیسری فلم میں بھی انہیں کاسٹ کیا گیا تھا مگر اب اسے الگ کردیا گیا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *