بےبے جی !

کورونا کی وبا کا شکار رہا، اب ٹیسٹ منفی آ چکا ہے مگر ابھی تک قرنطینہ میں ہوں۔ تنہائی کے ان دنوں میں کتاب، ٹی وی اور سوچیں میری ساتھی رہیں۔ پرانی یادیں بھی بار بار دستک دیتی رہتی ہیں، ان دنوں میں خاص کر بے بے جی بہت یاد آئیں۔

وہ میری دادی کی والدہ تھیں مگر ہم سب گھر والے انہیں بے بے جی کہتے تھے۔ وہ گھر کی بزرگ بھی تھیں اور ان کے دم سے گھر کی رونق بھی تھی۔ بے بے جی اس لئے بھی یاد آتی ہیں کہ میں جب بار بار ٹی وی پر دیوتا کو دیکھتا ہوں تو یہ مجھے بے بے جی کا مردانہ متبادل لگتا ہے۔

بے بے جی اور دیوتا کو یا تو کوئی شخص بہت پسند آتا ہے یا پھر سخت ناپسند۔ ان دونوں کی لغت میں برداشت بہت کم ہے یا کوئی شخص سونے کا بنا ہے یا پھر سرے سے اسے رد ہی کر دیں گے۔

بے بے جی کو اپنے نواسے یعنی میرے والد سے بہت پیار تھا جب ان سے خوش ہوتیں تو ان کے نام فیض سرور سلطان کے بجائے انہیں میرا سخی سرور سلطان کہہ کر پکارتیں اور ان کی بلائیں لیتیں لیکن جب ان سے ناراض ہوتیں تو کہتیں یہ کالیا ہے۔ نہ بے بے جی رہیں نہ قبلہ والد مرحوم و مغفور لیکن دل میں ان کی یادیں محفوظ ہیں۔

پاکستان کے سیاسی دیوتا بھی ون ٹریک ہیں، کبھی ترین سب سے اچھا تھا، آج کل سب سے برا ہے۔ کبھی کوئی وزیر تعریف کا مستحق ٹھہرتا ہے تو چند ہی دنوں بعد اس کی کچی پکی خبر سن کر اس کے خلاف تقریر کر دیتے ہیں۔

بے بے جی کو کوئی بات سمجھانا اور منوانا بہت مشکل تھا، وضع داری، سفید پوشی اور بھرم کا زمانہ تھا، جب کسی مہمان نے آنا ہوتا تو سارے گھر والے بے بے جی سے کہتے کہ صندوق میں جو تہبند اور کرتے نئے پڑے ہیں وہ پہن لیجئے گا، وہ خاموش رہتیں مگر جب مہمان آتے تو وہ کوشش کرکے پھٹے پرانے کپڑے پہن لیتیں۔

گھر میں ہر کوئی سٹپٹا جاتا لیکن انہیں کوئی کچھ نہ کہتا۔ ان کا رعب و دبدبہ بھی تھا، حقہ پینے کی عادی تھیں اس لئے اپنی پرانی سہیلیوں کے گھر جاکر حقہ پیتی تھیں۔

گھر میں کوئی اونچ نیچ ہو جاتی تو بہت سمجھاتے بے بے جی یہ بات کسی کو نہیں بتانی۔ حقہ پیتے ہوئے اپنی سہیلیوں سے یہ بات نہ کیجئے گا مگر بے بے جی کو یہ کب یاد رہتا تھا، دو چار روز بعد وہ ساری کہانی بلا کم و کاست اپنی سہیلیوں کو یہ کہہ کر سنا دیتی تھیں کہ یہ بات آگے کسی سے نہ کرنا۔

میرے دیوتا اس عادت میں بھی بے بے جی سے ملتے ہیں، پڑوسی ایران کے گھر جاکر بتا دیا کہ ہماری سرزمین ایران کے خلاف استعمال ہوتی رہی ہے، سعودی عرب جاکر ملائیشیا اور ترکی کے ساتھ مل کر کانفرنس بارے رائے بدل لینا اور پھر سب کچھ مہاتیر محمد کو بتا دینا، یہ سب بے بے جی والی عادتیں ہیں۔

بے بے جی بہادر بہت تھیں، اکلوتے بیٹے اکبر علی بھٹی کی لکھنوال میں لڑائی ہو گئی، فائرنگ کا تبادلہ شروع ہوا تو بجائے بیٹے کو اندر بلانے کے للکار کر کہا دودھ تب بخشوں گی جب سب کو سبق سکھا دو گے۔ ہمارے دیوتا بھی مخالفوں کو سبق سکھانے تک اپنے پیروکاروں کو تھپکیاں دیتے ہیں، حکومتی ترجمان آئے روز اپوزیشن پر جو فائرنگ کرتے ہیں اس کے پیچھے دیوتا کی للکار ہی ہوتی ہے۔

بے بے جی کو کسی پر مکمل اعتبار نہیں تھا، نہ بہو کے کام سے مطمئن ہوتی تھیں اور نہ ہی نوکرانیوں کے کام سے، غصہ آتا تو خود صفائی کرنے لگ پڑتیں، کوچ کوچ کر برتن دھوتیں، کوئی بچہ قابو آ جاتا تو اسے اس زور سے نہلاتیں کہ اس کی ساری اگلی پچھلی میل صاف کر دیتیں۔

ہمارے دیوتا بھی پنجاب اور وفاق دونوں کو خود ہی چلا رہے ہیں، خود میٹنگز میں سب ہدایات دیتے ہیں، کسی سے مکمل مطمئن نہیں ہوتے، کسی پر مکمل اعتبار نہیں کرتے جس چیز کو وہ خود کریں وہ سب سے بہتر ہوتی ہے، وہ لاک ڈائون کے خلاف تقریر کریں تب بھی صحیح وہ لاک ڈائون کے فائدے گنوائیں تب بھی صحیح، بے بے جی اور دیوتا کبھی غلط نہیں ہوتے اور نہ ہی ہو سکتے ہیں۔

بے بے جی لالچ سے بےنیاز تھیں، انہیں صحیح طرح سے پوری گنتی بھی نہیں آتی تھی وہ سو روپے کو 5اور بیس کا مجموعہ کہتی تھیں، شاید انہیں 20تک ہی گنتی آتی تھی۔ گھر کے افراد ان سے ادھار لے لیتے اور پھر مرضی سے واپس کرتے، بچے بڑے ان کی خوشامد کرکے ان سے پیسے نکلوا لیتے تھے۔

ہمارے دیوتا کو بھی پیسے کا لالچ نہیں ہے، وہ بھی بے بے جی کی طرح خود پر کچھ کم ہی خرچتے ہیں لیکن قومی خزانے سے ان کے میانوالی، ڈی جی خاں اور چکوال کے حواری سب سے زیادہ فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

باقی اضلاع کوڑی کوڑی کو ترس رہے ہیں جبکہ ان تین اضلاع کی لاٹری نکلی ہوئی ہے اور وہاں اربوں روپے خرچ ہو رہے ہیں۔

بے بے جی بہت کم پڑھی لکھی تھیں، چند کلمے اور دعائیں البتہ انہیں یاد تھیں، نوشاہی قادری خاندان میں بیاہے جانے کی وجہ سے ان کے مریدین بھی تھے، سال میں ایک بار وہ مریدین کے گھروں کا چکر بھی لگاتیں، مریدین ان کی کچھ نہ کچھ خدمت بھی کرتے۔

ایک بار گھر میں کسی نے پوچھا کہ مریدین کیلئے دعا کے دوران کیا پڑھتی ہیں؟ سنجیدہ ہو کر بتانے لگیں کہ میں ایک مریدنی کے گھر گئی، اس کا نوزائیدہ بچہ ماں کا دودھ نہیں پی رہا تھا، مرید بچے اور ماں دونوں کو میرے پاس لے آئے اور کہا اس بچے کو ماں کا دودھ پلا دیں۔

بے بے جی کے بقول انہوں نے خلوص دل سے ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں دعا کی اور یہ بھی کہا کہ خدایا میرا بھرم رکھنا، انہوں نے دعا کرکے بچے کو ماں کے قریب کیا تو وہ دودھ پینے لگا۔ بے بے جی یہ واقعہ اکثر سناتی تھیں اور کہتی تھیں کہ خدا نے لاج رکھ لی۔ میرے دیوتا نوشاہیہ قادریہ کے بجائے فریدیہ چشتیہ سلسلے سے وابستہ ہیں، اس لئے ہو سکتا ہے کہ ان کے الفاظ میں وہ تاثیر پیدا ہو گئی ہو کہ ان کی دعا سے مریض صحت یاب ہو جاتے ہوں۔

ویسے بھی بشریٰ بیگم اور ہمارے دیوتا روحانی سلسلے والوں کی بہت قدر کرتے ہیں۔ کورونا کی وبا کے دوران دیوتا کی طرف سے دیے گئے احکامات پر عمل نہ کرنے ہی کی وجہ سے یہ وبا پھیلی ہے۔ وبا سے نمٹنا ہے تو جو دیوتا کہتے جائیں، کرتے جائیں۔ سوال اٹھائیں گے تو احکامات میں تاثیر نہیں رہے گی۔

آخر میں عرض ہے کہ بے بے جی اس جہان سے چلی گئیں، دیوتا پوری آب و تاب سے موجود ہیں مگر ظاہر ہے جو آیا ہے اس نے جانا ہے۔ جب دیوتا چلے جائیں گے تو ہم ان کی تقریریں اور باتیں سن کر ان کو یاد کیا کریں گے کیونکہ دیوتا روز روز نہیں آتے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *