بے رحم یادیں - نظم

رات ہے،تنہائی ہے اور تیری یاد
بارات ہے،شہنائی ہے اور تیری یاد
کتنا تڑپاتی ہے مجھ کو تیری یاد
دیتا ہے کوئی صدائیں مستقل
شاید اس کو آ رہی ہے میری یاد
اور آخر یاد بھی آئے نہ کیوں
پیار ہو تو یاد آ ہی جاتی ہے
بے حیائی بے وفائی سے پرے
خواہ مخواہ رنجیدہ تھے اس بات پر
گر بچھڑ جائیں گے ہم تم سے تو پھر
کٹ نہیں پائیں گی یہ راتیں مری
رنجش و تکرار بھی ہو گی نہ تو
لمحے لمحے کیسے گزریں گے مرے
لیکن ایسا کچھ نہیں ہے
وقت کے خونخوار پنجے نے
دبایا ہے مرا آ کر گلا
چیخ کر بس کہہ رہا ہوں خود سے میں
بن نہیں سکتا تو مجنوں اور رانجھا
ہار تھی اس جنگ میں اپنا مقدر
اب وہی راتیں ہیں، تنہائی ہے اور یادیں تمہاری
اس گھٹن میں سانسیں کم کم آ رہی ہیں
آپ کی بے رحم یادیں آج تک تڑپا رہی ہیں

error: