بے زبانوں کے نازاٹھاتے جاپانی

دوپہر کا وقت تھا۔ ایک ادھیڑ عمر جاپانی عورت میرے دفتر کے دروازے کے سامنے آ کر کھڑی ہو گئی۔ مجھے لگا شاید ڈاک دینے آئی ہے؟ یا پھر بدھ مت، عیسائیت کی تبلیغ کے سلسلے میں بھٹک کر یہاں آ پہنچی ہے؟ جب کافی وقت گزر گیا اور اس نے نہ تو دفتر کے دروازے پر دستک دی اورنہ ہی اپنی جگہ سے ہٹی تو میں نے خود اٹھ کر دروازہ کھول دیا دریافت کیا کہ میں کیا مدد کر سکتا ہوں؟ اس نے انگریزی زبان میں تحریر کردہ ایک رنگین اشتہار، جس پر بھورے رنگ کی بلی کی دور اور نزدیک کی دو تصاویر موجود تھیں، مجھے تھما دیا۔ غمزدہ چہرہ لیے خاتون نے بتایا کہ تصویر میں نظر آنے والی سات سالہ پیاری سی بلّی میری ”وابی“ ہے اور گزشتہ ہفتے سے گمشدہ ہے۔ اگر آپ کو 3.8 کلوگرام وزنی یہ معصوم ”وابی“ کہیں نظر آئے یا آپ کے شو روم کی طرف آ نکلے تو اشتہار میں درج فون نمبرز یا ای میل پر اطلاع ضرور کریں۔
اس نے انعام و اکرام کا بھی ذکر کیا اور وابی نامی بلی کی عادات و اطوار کو بھی بڑی صراحت کے ساتھ بیان کیا جو اس کے نزدیک تمام تر حسین تھیں۔ مختصراً بیان کروں تو اس بلّی میں تمام وہ خوبیاں تھیں جو اگر انسان میں موجود ہوں تو وہ عظیم انسان قرار دیا جا سکتا ہے۔ متذکرہ خاتون کا دفتر کے دروازے پر کھڑا رہنا اور دستک نہ دینے کا عمل غیر ارادی یا خارج از حکمت مت سمجھئے گا۔ اس کے پیچھے ایک فلسفہ ہے، جس کے سوتے مذہب سے پھوٹتے ہیں۔ اکثریت یہاں چونکہ بدھ مت کی پیروکار ہے، بدھ بھکشو جب صبح سویرے بھکشا لینے جاتے ہیں تو کسی کے دروازے پر دستک نہیں دیتے اور نہ ہی صدا لگاتے ہیں۔ بھکشا پاتر تھامے خاموشی سے دہلیز کے پاس کھڑے ہو جاتے ہیں اور انتظار کرتے ہیں۔ اگر کوئی دیکھ لے اور کچھ مل جائے تو ٹھیک، ورنہ خاموشی سے آگے نکل جاتے ہیں۔
بریکنگ نیوز یہ ہے کہ ہمارے نیپالی ملازم راجو نے کل شام اس بلی کو دفتر کے پچھواڑے چہل قدمی کرتے دیکھا ہے۔ بلی اور کتے کے علاوہ جاپان کے گلی، کوچوں میں کوئی تیسرا جانور ملنا محال ہے، کم از کم میں نے تو آج تک نہیں دیکھا۔ ہاں! ان دونوں جانوروں کی خوب آؤ بھگت ہوتی ہے۔ تکریم کا یہ عالم ہے کہ کتے اوربلیوں کے ریستوران کھلے ہوئے ہیں، جہاں ان کے قیام و طعام کا بندوبست ہوتا ہے۔ جانوروں کو ان کے ہم ذاتوں سے ملوانے کے لیے مالکان کے نزدیک یہ سب سے بہتر جگہ ہے۔ جو لوگ یہاں کسی مجبوری کی بناء پر کتا یا بلی نہیں پال سکتے مگر انہیں پالنے کا شوق دل میں پالتے ہیں، ان کے لیے ریستوران کی جگہ کیفے موجود ہیں۔ جی ہاں! بلیوں اور کتوں کے کیفے ٹیریا۔ ان میں کوئی بھی شخص پیسے ادا کر کے مخصوص وقت کے لیے بلی و کتے سے کھیل سکتا ہے۔
اگست کا مہینہ مگر مذکورہ ریستوران و کیفے مالکان کے لیے ذرا بھاری ثابت ہوا ہے۔ محکمہ انسداد بے رحمی حیوانات نے اس مہینے سے اک نیا قانون نافذ کر دیا ہے، جس کے مطابق کسی جانور کو رات آٹھ بجے کے بعد نمائش کے لیے پیش نہیں کیا جا سکتا۔ کیفے و ریستوران مالکان اس کرفیو آڈر پر سراپا احتجاج ہیں، ان کا موقف یہ ہے کہ یہ دونوں جانور رات کو جاگتے ہیں اور دن کو سونے والے ہیں، رات 8 بجے سے صبح آٹھ بجے تک کا کرفیو آڈر غیر منطقی اور عقل سے بالاتر ہے۔ ایک دفعہ ایسے ہی ایک کیفے ٹیریا میں جانے کا اتفاق ہوا تو دیکھا کہ لوگ، جن میں سے زیادہ تر نوجوان تھے، ان پالتو جانوروں کی اپنے موبائل فون کیمروں سے تصویریں بنا رہے تھے، کچھ پلاسٹک کے کھلونوں سے ان کو کھیلانے میں مشغول تھے۔ ریستوران کا نظام ذرا سا مختلف ہے، آپ وہاں اپنا کتا و بلی جمع کروا کر آجاتے ہیں اور بعد میں مقررہ وقت پر، اسے واپس لے جاتے ہیں۔ اندر کا منظر وہاں بھی خوب ہوتا ہے، ایک دفعہ میں نے پندرہ کے قریب کتوں کو ایک ریستوران کے اندر میٹنگ کرتے دیکھا مگر وہ حیرت انگیز طور پر سب خاموش بیٹھے تھے۔ اب ان ریستورانوں میں رات آٹھ بجے سے صبح آٹھ بجے تک کرفیو نافذ رہے گا، اس دوران نہ کوئی جانور اندر آئے گا اور نہ ہی ریستوران سے باہر جائے گا۔
اسی موضوع پر ”کیٹ کیفے ٹور“ کے نام سے مقبول کتاب کی مصنّفہ کا اس بارے میں خیال یہ ہے کہ اس طرح کے قوانین غیر ضروری ہیں۔ اگر اس بابت کوئی قانون بنانا ہے تو وہ جانوروں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک سے متعلق ہونا چاہیے۔
اس کرفیو کے نفاذ کو یوں بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ سرکار ان جانوروں کے تحفظ کے بارے میں بے حد حسّاس اور سنجیدہ ہے۔ عام لوگوں کی ان پالتو جانوروں سے محبت کا تو کوئی ٹھکانہ ہی نہیں ہے۔ اگر پالتو جانور مر جائے تو اس کا بہت دن تک سوگ ہوتا ہے، کم از کم مالک تو ضرور مناتا ہے۔ آخری رسومات تک ادا کی جاتی ہیں۔ بلی اور کتے کا کریا کرم کرنے کا خرچہ اوسطاً کم ازکم پانچ لاکھ روپے آتا ہے، جس میں اس کی ارتھی کے علاوہ مذہبی رسومات بھی شامل ہیں۔
بعض دوست شاید حیران ہوں کہ جانوروں کی اس قسم کی رسومات کا بھلا کیا جواز بنتا ہے؟ عرض یہ ہے کہ یہاں کے اکثریتی مذہب کے مطابق انسان اشرف المخلوقات نہیں ہے بلکہ باقی جانداروں کی طرح ایک جاندار ہے، نیز سب میں پائی جانے والی روح یکساں ہے۔ افضل اور کمتر مخلوق کا تصور یہاں نہیں ہے۔
میں نے تو امریکہ کے بارے میں بھی سن رکھا ہے، کہ ایک ارب پتی کا چہیتا کتا مر گیا تو اس نے بھی کتے کی آخری رسومات کی ادائیگی کے لیے پادری سے رابطہ قائم کیا تھا۔ پادری نے صاف انکار کرتے ہوئے کہا کہ اس نجس جانور کی رسومات ادا کرنا کسی طور پر بھی جائز نہیں ہے۔ ارب پتی تاجر نے پادری کے جواب سے مایوس ہوتے ہوئے کہا کہ میرا اس کتے سے بہت پیار تھا، جو چرچ اس کی آخری رسومات ادا کرے گا، میرا اسے ایک ملین ڈالر کیش عطیہ دینے کا ارادہ ہے۔ اگر آپ یہ کام نہیں کر سکتے تو کوئی بات نہیں، ایک دوسرا پادری یہ رسومات ادا کرنے کے لیے رضامند ہے۔ آپ چونکہ قریب تھے اس لیے پہلے آپ سے پوچھ لیا۔ ملین ڈالر امداد کا سنتے ہی پادری کے لہجے میں نرمی آگئی، وہ ارب پتی شخص سے کہنے لگا، جناب! آپ نے یہ پہلے کیوں نہیں بتایا کہ کتا کیتھولک عقیدے کا حامل تھا۔