بے نظیر بھٹو کی برسی پر مریم نواز کا خطاب: ’پیچھے ہٹ جاؤ، پھر پاکستان کی عوام جانیں، ہم جانیں اور عمران خان جانیں‘

پاکستان پیپلز پارٹی نے سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کی تیرہویں برسی کے موقع پر گڑھی خدا بخش میں ایک جلسے کا انعقاد کیا، جس میں حزب اختلاف کی جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔

سابق وزیر اعظم کی برسی پر ہونے والے جلسے کا آغاز فاتحہ خوانی سے ہوا۔

بے نظیر بھٹو کے بیٹے اور چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اپوزیشن رہنماؤں کا استقبال کیا جبکہ ان کے والد اور سابق صدر آصف علی زرداری ویڈیو لنک کے ذریعے اس جلسے میں شریک ہوئے اور انھوں نے خطاب بھی کیا۔

جلسے سے مریم نواز، اختر مینگل اور مولانا عبدالغفور حیدری نے بھی خطاب کیا۔

عمران مستعفی ہو جاؤ ورنہ لانگ مارچ ہو گا: بلاول بھٹو

بلاول بھٹو زرداری نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان سے مطالبہ کیا کہ وہ 31 جنوری تک مستعفی ہو جائیں ورنہ لانگ مارچ ہو گا۔ انھوں نے پی ڈی ایم سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایک پیج پر بھی ہیں اور ایک سٹیج پر بھی۔ یہ عوام اس سلیکٹڈ کا بوجھ نہیں اٹھا سکتی۔

’ہم سب میدان میں اترے ہیں اور ہم نے فیصلہ کیا کہ اگر 31 جنوری تک عمران خان نے استعفی نہ دیا تو مارچ ہو گا۔‘ بلاول بھٹو نے کہا کہ لانگ مارچ ہو گا۔ ہم اسلام آباد کا رخ کریں گے۔ بھرپور تحریک چلائیں گے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ کوئی اگر یہ سمجھتا ہے کہ ہم ڈر جائیں گے، ہم پیچھے ہٹ جائیں گے تو پھر وہ گڑھی خدا بخش کے مزاروں کو دیکھے۔ وہ شہید ذوالفقار بھٹو کو دیکھے جو سولی پر چڑھ گیا مگر اصولوں سے پیچھے نہیں ہٹا۔

انھوں نے شرکا سے کہا کہ گڑھی خدا بخش کے مزار کی طرف منھ کر کے یہ وعدہ کرو کہ جب لانگ مارچ کی کال دوں تو آپ دما دم مست قلندر کا نعرہ لگا کر نکل آؤ گے۔

’آپ کی طاقت سے ہم ان کو ضرور بھگائیں گے۔‘

بلاول بھٹو نے کہا کہ اگر اس حکومت کو مزید وقت دیا گیا تو خدانخواستہ یہ لوگ ملک کا بیڑہ غرق کر دیں اور ہم کسی قیمت پر یہ نہیں ہونے دیں گے۔ انھوں نے کہا عوام اس ظالم کٹھ پتلی اور سیلیکٹڈ کو نہیں چھوڑیں گے۔

’سیلیکٹڈ اور سیلیکشن کا کھیل بند ہو گا‘

بلاول بھٹو نے حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان اندھے اور بہرے حکمرانوں کو نہ کچھ نظر آتا ہے اور نہ کچھ سنائی دے رہا ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ ’عمران نہ عوام کا نمائندہ ہے، نہ منتخب نمائندہ ہے۔ یہ غاصب ہے غاصب۔۔ جس نے عوام کے حقوق غصب کیے ہیں۔ میں کیسے مان جاؤں کہ ملک میں جمہوریت ہے۔‘

انھوں نے کہا وہ جمہوریت جس کے لیے بے نظیر نے اپنی جان دے دی یہ وہ جمہوریت نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ حکمران بھی ضیا اور مشرف کی طرح تاریخ کی ٹوکری میں ہوں گے ان کا نام لیوا بھی کوئی نہیں ہو گا۔

انھوں نے کہا کہ اگر عقل اور دانشمندی اگر بازار میں بکتی تو ان کا کوئی اے ٹی ایم انھیں خرید کر دے دیتا۔ یہ خدا کی عنایت ہوتی ہے اور یہ عوام کی محبت اور عوام سے تعلق سے آتی ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ اب یہ کھلواڑ بند ہو گا۔ سیلیکٹڈ اور سیلیکشن کا کھیل بند ہو گا، ہم یہ بند کرائیں گے۔

ہمیں وہ سی پیک نہیں چاہیئے جس سے پاپا جونز کو فائدہ ہو

بلاول بھٹو نے کہا کہ صرف وہ سی پیک کامیاب ہو سکتا ہے جو عوامی ہو، جس سے مقامی لوگوں کو فائدہ ہو۔

انھوں نے کہا ہمیں وہ سی پیک نہیں چاہیئے جس سے پاپا جونز کو فائدہ ہو۔ ’ہمیں وہ سی پیک چاہیئے جس کی بنیاد آصف زرداری نے رکھی، ہمیں وہ سی پیک چائیے جس کے لیے نواز شریف نے دن رات محنت کی۔‘

انھوں نے کہا کہ حکمران سی پیک کو عوام سے دور رکھ رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ صرف اور صرف عوام سی پیک چل سکتا ہے۔

بلاول بھٹو

یہ ملک چلانے والے نہیں، یہ کرکٹ ٹیم چلانے والے ہیں: آصف علی زرداری کا خطاب

سابق صدر آصف زرداری نے کہا کہ آج سرخ سلام کا دن ہے، آج بے نظیر کا دن ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’ان سے پاکستان نہیں چل رہا اور چلے گا بھی نہیں، یہ آج میرا دعویٰ ہے۔ یہ پاکستان نہیں چلا سکتے۔ یہ ملک چلانے والے نہیں ہیں۔ یہ کرکٹ ٹیم چلانے والے ہیں۔ ملک چلانے والے کوئی اور لوگ ہیں، اس کے لیے کوئی اور سوچ چاہیئے۔‘

انھوں نے کہا کہ جو ہمارے مخالف تھے ان کو بھی ساتھ ملا کر ادھورے آئین کو اٹھارویں ترمیم کے ذریعے مکمل کیا۔

آصف زرداری نے کہا کہ فکرنہ کریں، یہ اپنے زور پر گریں گے۔ ’میں نے پہلے دن کہا تھا کہ یا ملک چلا لو یا نیب چلا لو۔ ان کے مطابق میں نے پہلے بھی 14 سال جیل کاٹی ہوئی ہے، مجھے جیل سے ڈر نہیں لگتا۔‘

ان کے مطابق پیپلز پارٹی کے دور میں ایک بھی سیاسی قیدی نہیں تھا۔

انھوں نے کہا کہ بے نظیر بھٹو نے نہ بچوں کی پروا کی نہ اپنے گھر کی پرواہ کی، دونوں بھائی شہید ہو گئے مگر ان کی جدوجہد جاری رہی اور انھوں نے کہا تھا کہ جمہوریت ہی بہترین انتقام ہے۔

’مشرف تڑپ رہا ہو گا مگر اب پاکستان آ نہیں سکتا‘

آصف زرداری نے کہا کہ مشرف تڑپ رہا ہو گا مگر اب پاکستان آ نہیں سکتا۔ اس کے بعد انھوں نے کہا کہ ’آپ بھی نہیں رہیں گے، آپ بھی چلے جائیں گے۔‘

انھوں نے کہا کہ جس طرح مشرف کی بنائی ہوئی پارٹی ختم ہو گئی تھی اب یہ پارٹی بھی ختم ہو جائے گی۔ انھوں نے کہا کہ جب ملک آپ سے نہیں چل سکتا تو چھوڑ کیوں نہیں دیتا۔

آصف زرداری نے کہا کہ ’میں نے ایک جنرل کو صدر ہوتے ہوئے مکھی کی طرح ایوان صدارت سے نکال باہر کیا تو یہ نیازی کیا چیز ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ اس امید پر رہو کہ یہ حکومت نہیں رہے گی۔

مریم اور بلاول

مریم نواز کا جلسے سے خطاب

اپنے خطاب میں مریم نواز نے اپنا استقبال کرنے کے لیے پیپلز پارٹی کی قیادت کا شکریہ ادا کیا۔ انھوں نے کہا بلاول بھٹو، آصفہ بھٹو اور فریال تالپور سخت سردی کے باوجود دروازے پر ان کے استقبال کے لیے کھڑے تھے۔ انھوں نے انھیں گھر میں ٹھہرانے پر بھی ان کا شکریہ ادا کیا۔

مریم نواز نے کہا کہ سیاستدانوں سے ماضی میں جو غلطیاں ہوئیں ان کا فائدہ غیر جمہوری قوتوں نے اٹھایا۔

انھوں نے کہا کہ جب 2008 میں پیپلز پارٹی اقتدار میں آئی تو نواز شریف نے پارٹی کو بھی صاف صاف بتا دیا تھا کہ وہ حکومت گرانے کا حصہ نہیں بنیں گے اور جب جمہوری حکومتوں نے پانچ پانچ سال پورے کرنے شروع کیے تو پھر سیاسی کوڑا کرکٹ اکھٹا کر کے جنرل پاشا نے ایک جماعت بنائی جس کا نام ہے تحریک انصاف۔

پھر اس جماعت کو آپ کی منتخب حکومتوں کے خلاف دھرنوں اور احتجاج میں استعمال کیا گیا۔ 22 سال در بدر کی ٹھوکریں کھانے والے کو اٹھا کر 22 کروڑ عوام کے سروں پر مسلط کر دیا گیا۔

’آج عمران خان خود چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے وہ نا اہل اور نالائق ہے اور کہتا ہے کہ تیاری کے بغیر حکومتوں میں نہیں آنا چائیے۔

’آپ کو یہ کہنا چاہیئے کہ تیاری کے بغیر حکومتوں میں نہیں لانا چاہیئے۔ ‘

مریم نواز نے کہا کہ ’کوئی ملک توڑے تو بھی معصوم، کوئی آئین توڑے تو بھی معصوم، کوئی سیاچن کھوئے تو بھی معصوم، کوئی کشمیر کا سودا کرے تو بھی معصوم، کوئی حلف توڑ کر سیاست کرے تو بھی معصوم، کوئی مخالفین کو جیل میں ڈالے اور موت تک پہنچائے تو بھی معصوم۔۔

’کوئی سرکاری ملازم ہو کر بھی اربوں کھربوں بنائے تب بھی معصوم۔‘

اس کے بعد انھوں نے کہا کہ گولیاں سیاستدانوں کے سینے میں اتریں، جیل کی کال کوٹھڑیوں میں سیاستدان، ان کی بہنوں اور بیٹوں کو گھسیٹا جائے، کردار کشی ہو تو سیاستدانوں کی ہو، یاد رکھو نظریے کو پھانسی نہیں لگ سکتی، جلاوطنی نہیں ہو سکتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان کے کونے کونے میں نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کے نام لیوا ہیں۔

مریم نواز نے کہا کہ آئین کے قاتل اور بے نظیر کے قاتل پرویز مشرف کو پاکستان واپس لانے کی بات تک نہیں ہوتی۔۔ مشرف کو پھانسی کی سزا سنانے والی عدالت کو ہی پھانسی چڑھا دیا گیا۔

انھوں نے کہا کہ مشرف کے لیے اس ملک کے دروازے بند ہیں اور بند رہیں گے۔

انھوں نے کہا کہ ایک ناکام، ہارا ہوا شخص پی ڈی ایم سے مذاکرات کی بھیک مانگتا ہے۔

’اب یہ این آر آو مانگ رہا ہے‘

مریم نواز نے کوٹ لکھپت جیل میں قید قائد حزب اختلاف شہباز شریف سے حالیہ دنوں میں حکومتی اتحادی جماعت کے محمد علی درانی کی ملاقات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’اب یہ این آر آو مانگ رہا ہے۔‘

مریم نواز نے کہا کہ ہمارے خاندان والوں کو جیل میں شہباز شریف سے ملاقات کے لیے ایک ایک ہفتہ لگ جاتا ہے جبکہ میسنجر کو جو این آر او مانگنے کے لیے بھیجا جاتا ہے اس کے لیے جیلوں کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔

اپوزیشن جب مہنگائی کی بات کرتی ہے تو کہتے ہو کہ اپوزیشن فوج کو بدنام کر رہی ہے۔ عمران خان نے انڈیا جا کر فوج اور آئی ایس آئی کے خلاف بات کی تھی۔ جب یہ امریکہ گیا تو اپنی فوج اور آئی ایس آئی پر حملے کیے ہیں۔

مریم نواز

مریم نواز نے کہا کہ ’آج یہ مت کہو کہ اپوزیشن فوج کے خلاف بات کرتی ہے، عوام کے پاس وہ ویڈیوز موجود ہیں جس میں تم نے فوج کو بدنام کیا۔‘

ان کے مطابق ایک پیج ایک پیج کی رٹ لگا کر جتنا تم نے فوج کو بدنام کیا شاید ہی کسی نے کیا ہو۔ ان کے مطابق جب آٹا 90 روپے کلو ہو جاتا ہے تو یہ کہتا ہے کہ فوج میرے پیچھے کھڑی ہے۔ جب چینی 120 روپے فی کلو ہوتی ہے تو پھر کہتا ہے کہ فوج میرے پیچھے کھڑی ہے۔

انھوں نے عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تم زیادہ سیانے بننے کی کوشش نہ کرو۔ فوج پر تنقید تب ہوتی ہے جب تمھاری نالائقی کا بوجھ فوج پر پڑتا ہے۔ فوج پر تنقید تب ہوتی ہے جب تم سیاسی مخالفین کو جیل میں ڈالنے کے لیے فوج کا نام لیتے ہو۔ فوج پر تنقید تب ہوتی ہے جب تم کشمیر کو مودی کی گود میں ڈالتے ہو۔

مریم نواز نے کہا اب کہتے ہو کہ تیاری کے بغیر حکومت میں نہیں آنا چائیے۔ انھوں نے کہا کہ ’تم کو جو لے کر آئے ہیں انھیں اب پیچھے ہٹنا پڑے گا‘۔

مریم نواز نے عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہم فوج سے یہ نہیں کہہ رہے کہ تمھاری حکومت گرائے بلکہ ہم سیلیکٹرز کو کہہ رہے ہیں کہ پیچھے ہٹ جاؤ، پھر پاکستان کی عوام جانیں، ہم جانیں اور عمران خان جانیں۔

انھوں نے کہا کہ پی ڈی ایم میں پھوٹ ڈالنے کا تمہارا خواب کبھی پورا نہیں ہو گا۔

ان کے مطابق تمہاری جنگ پی ڈی ایم سے نہیں ہے بلکہ 22 کروڑ عوام سے ہے۔

’کریم بلوچ قتل میں خفیہ ایجنسیوں کا کردار نظر انداز نہیں کیا جا سکتا‘

بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے سربراہ سردار اختر مینگل نے اپنے خطاب میں کینیڈا میں کریمہ بلوچ کی ہلاکت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ سابق فوجی صدر پرویز مشرف نے بیان دیا تھا کہ ہماری ایجنسیاں اتنی طاقتور ہیں کہ یہ جہاں بھی جائیں انھیں مار سکتی ہیں۔

ان کے مطابق کریمہ بلوچ کے مسئلے کو اسی تناظر سے دیکھا جائے۔ ان کے مطابق اس واقعے میں بھی ہماری خفیہ ایجنسیوں کا کردار نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے۔

’سیدھا جی ایچ کیو کا رخ‘

گڑھی خدا بخش جلسے سے خطاب کرتے ہوئے جے یو آئی کے مرکزی جنرل سیکریٹری مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ بے نظیر بھٹو تحسین کے لائق ہیں کہ انھوں نے کم عمر خاتون ہونے کے باوجود جس طرح وقت کے آمروں کو للکارا اور قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ وہ یقیناً خراج عقیدت کی مستحق ہیں۔

بے نظیر

ان کے مطابق بے نظیر جب تک زندہ رہیں، آمریت کو للکارتے ہوئے، جمہوریت، جمہوری اداروں کی بحالی، آئین کی بحالی اور غریب کے حقوق کی جدوجہد کی بحالی کے لیے جدوجہد کرتی رہیں۔

انھوں نے کہا کہ بے نظیر نے وطن واپسی پر ایک ملاقات میں مجھے کہا کہ ابھی کچھ دیر اور بیٹھیں معلوم نہیں کہ پھر ملاقات ہو یا نہیں۔

انھیں معلوم تھا کہ جن قوتوں نے انھیں شہید کرنے کا عزم کیا ہے شاید وہ اس شیطانی عمل میں کامیاب ہو جائیں، وہ اس طرح کی باتیں کرتی تھیں مگر ان کے چہرے پر اس کے اثرات نظر نہیں آتے تھے۔ وہ فولادی حوصلے والی رہنما تھیں۔

مولانا غفور حیدری نے تحریک انصاف کی حکومت پر بھی کڑی تنقید کی اور کہا ان کی پالیسیوں کی نتیجے میں ملک کھوکھلا ہو گیا ہے۔ جمہوریت کی بات کرتے ہوئے شرماتے بھی نہیں ہیں اور ان کے رہنما دن رات اپوزیشن رہنماؤں کی تضحیک کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔

ان کے مطابق جب اس سے بھی کام نہیں بنا تو پھر نیب کو استعمال کیا گیا۔ انھوں کہا کہ وہ نیب جیسے کالے قانون کو اپنے جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں۔

انھوں نے کہا اب جب نیب کا نوٹس آیا تو پھر ہم نیب کا چکر نہیں لگائیں گے، وزیر اعظم ہاؤس کا چکر نہیں لگائیں گے بلکہ براہ راست جی ایچ کیو کا چکر لگائیں گے۔

انھوں نے کہا ’جنرل صاحب ایسے زندہ رہنے سے تو بہتر ہے مرجائیں ہم۔۔۔ مگر اس حکومت کو گھر بھیج کر دم لیں گے اور اسلام آباد جائیں گے۔‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *