تائیوان کی فضائی حدود میں ’ریکارڈ تعداد‘ میں چینی جیٹ طیاروں کی پرواز

تائیوان کی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ منگل کو چین کی جانب سے تائیوان کی فضائی حدود کی اب تک کی سب سے بڑی خلاف ورزی میں چینی فضائیہ کے 28 جنگی طیارے اس کی فضائی دفاعی حدود میں داخل ہوئے۔

چین کی فضائیہ کے جن طیاروں نے تائیوان کی 'ایئر ڈیفنس آئڈنٹیفیکیشن زون' یا فضائی حدود کی خلاف ورزی کی ان میں لڑاکا طیارے اور جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھنے والے بمبار جہاز شامل تھے۔

شمالی بحراوقیانوس کے فوجی اتحاد نیٹو میں شامل ملکوں کے سربراہ اجلاس میں چین کی طرف سے بڑھتے ہوئے فوجی خطرے کے بارے میں خبردار کرنے کے ایک دن بعد چین کی فضائیہ نے تائیوان کی فضائی حدود کی سب سے بڑی خلاف ورزی کی ہے، جسے وہ چین کا ہی حصہ تصور کرتا ہے اور اس کو علیحدہ ملک کے طور پر تسلیم نہیں کرتا۔ تائیوان ایک علیحدہ ریاست ہونے کا دعویدار ہے۔

تائیوان نے کہا ہے کہ چین کی طرف سے اس تازہ ترین خلاف ورزی میں 14 جے سولہ، چھ جے گیارہ، چار جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھنے والے ایچ -6 بمبار طیاروں اور آبدوزوں کا ڈھونڈ کر تباہ کرنے والے اور جدید الیکٹرانک آلات سے لیس دشمن کے جہازوں کے بارے میں قبل از وقت خبردار کرنے والے جہاز بھی شامل تھے۔

'ایئر ڈیفنس آئڈنٹیفیکیشن زون' وہ فضائی حدود ہوتی ہیں جو ملک کی جغرافیائی سرحدوں اور قومی فضائی حدود کے باہر ہوتی ہے لیکن ان میں پرواز کرنے والے غیر ملکی جہازوں کی شناخت کی جاتی ہے اور قومی دفاع کے لیے ان کی نگرانی اور کنٹرول کیا جاتا ہے۔ یہ ایک خود ساختہ حدود ہوتی ہیں تاہم یہ بین الاقوامی فضائی حدود کہلاتی ہیں۔

چین کے لڑاکا اور بمبار طیاروں نے تائیوان کے زیر قبضہ پراٹس جزائر اور تائیوان کے جنوبی حصوں کے قریب پرواز کی۔

تائیوان

چین کی فضائیہ کے طیاروں نے حالیہ مہینوں میں مسلسل تائیوان کے جنوبی حصے اور پراٹس جزائر کے درمیان سمندر کے اوپر پروازیں کی ہیں۔

اس سال جنوری کی 24 تاریخ کو چین کے پندرہ جہاز تائیوان کی ایئر ڈیفنس زون میں داخل ہوئے تھے اور اس کے بعد اپریل کی 12 تاریخ کو تائیوان نے اعلان کیا تھا کہ چینی فضائیہ کے 25 جہاز اس کی حدود میں داخل ہوئے ہیں۔

بیلجیئم کے شہر برسلز میں پیر کے روز نیٹو کے سربراہ اجلاس میں چین کی طرف سے بڑھتے ہوئے فوجی خطرے کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے اسے ایک منظم چیلنج قرار دیا گیا تھا۔

نیٹو ممالک کے سربراہ اجلاس میں اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی گئی تھی کہ چین تیزی سے اپنے جوہری ہتھیاروں میں اضافہ کر رہا ہے، وہ اپنی فوج کو جدید بنانے اور اس میں اضافہ کرنے کے بارے میں مکمل راز داری سے کام لے رہا ہے اور اس کے ساتھ ہی روس کے ساتھ فوجی تعاون کو وسعت دے رہا ہے۔

نیٹو کے اجلاس سے قبل جی سیون تنظیم میں شامل ملکوں کے اجلاس میں چین پر زور دیا گیا کہ وہ انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کی پاسداری کرے۔ اس ضمن میں انھوں نے چین کے صوبے ایوغر میں مسلمان اقلیت اور ہانگ کانگ میں جمہوریت نواز گروپوں کے خلاف کارروائیوں کی طرف اشارہ کیا۔ لیکن چین نے ان بیانات کی سختی سے مذمت کی اور ان کو رد کر دیا۔

چین اور تائیوان: بنیادی نکات

چین میں 1949 کی خانہ جنگی کے بعد سے چین اور تائیوان میں علیحدہ علیحدہ حکومتیں قائم ہیں۔ چین بین الاقوامی سطح پر تائیوان کی سرگرمیوں کو محدود رکھنے کے لیے اپنا پورا اثر و رسوخ استعمال کرتا رہا ہے اور دنوں ملک بحر الکاہل کے خطے میں اپنا اثر بڑھانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔

حالیہ برس میں دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے اور چین نے اس جزیرے پر اپنا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے فوجی طاقت کے استعمال کو بھی کبھی خارج از امکان قرار نہیں دیا ہے۔

تائیوان کو علیحدہ ملک کی حیثیت سے صرف چند ملک ہی تسلیم کرتے ہیں لیکن اس کی جمہوری حکومت کے بہت سے ملکوں کے ساتھ گہرے تجارتی اور غیر رسمی مراسم ہیں۔

بہت سے دوسرے ملکوں کی طرح امریکہ کے سرکاری سطح پر تائیوان ے ساتھ سفارتی تعلقات نہیں ہیں لیکن امریکہ کے ایک قانون کے تحت تائیوان کو اپنے دفاع کے لیے وسائل مہیا کرنا اس کی ذمہ داری ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.