’’تاحکم ثانی‘‘ والا معاملہ

وقت یا سادہ لفظوں میں یوں کہہ لیجئے کہ ہمارے ہاں حکومتیں بدلنے کے ساتھ ’’غداروں‘‘ کی فہرستیں بھی تبدیل ہوجایا کرتی ہیں۔چند سیاست دان اگرچہ اس ضمن میں ’’دائمی‘‘ شمار ہوتے رہے ہیں۔ مثال کے طورپر جب پانچویں جماعت سے میرے والد مرحوم نے مجھے بآواز بلند ہمارے گھر آنے والے تین اخبارات پڑھنے کو راغب کیا تو میٹرک تک پہنچتے ہی میں نے طے کرلیا تھا کہ پاکستان میں خان عبدالولی خان نام کے ایک سیاستدان ہیں۔وہ باچاخان کے فرزند ہیں۔یہ خاندان قیام پاکستان کا شدید مخالف تھا۔1947کے بعد بھی اپنی سوچ پر قائم رہا۔ ہمارے ازلی دشمن بھارت سے ’’نوٹوں کی تھیلیاں‘‘ وصول کرتے ہوئے آج کے صوبہ خیبرپختونخواہ کو ’’پختونستان‘‘ بناکر ملک سے جدا کرنے کی کوشش کرتا رہا۔

ولی خان صاحب کے تاہم ایک نامور پنجابی دوست بھی تھے۔ نام ان کامیاں محمود علی قصوری تھا۔لاہور کے نامور وکیل تھے۔ولی خان جب بھی ہمارے شہر آتے تو ٹمپل روڈ پر واقع ان کے گھر مہمان ہوتے۔ میرے والد چند بارمجھے ہمراہ لے کر ان سے ملنے گئے۔دل ہی دل میں حیران ہوتا کہ ’’غدار‘‘ کے ساتھ ایسی محبت کیوں برتی جارہی ہے۔

سکول کے بعد میں کالج پہنچا تو مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد والے پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت قائم ہوچکی تھی۔ صحافت کے شوق میں اکثر اخبارات کے دفاتر چلاجاتا اور فالتو وقت میں اپنی خدمات پروف ریڈنگ یا ترجمے کے لئے بلامعاوضہ پیش کرنے کو بے چین رہتا۔ ان ہی دنوں افغانستان میں سردار دائود نے اپنے کزن ظاہر شاہ کی بادشاہت کے خلاف کامیاب ہوئی بغاوت کی بدولت اس ملک کو ’’جمہوری‘‘ بنانے کا اعلان کردیا اور خود اس کا صدر بن گیا۔

جو ’’خبریں‘‘ مجھے انگریزی سے اردو ترجمہ کرنے کو ملتیں بیشتر ہماری سرکار کی چلائی نیوزایجنسی اے پی پی سے جاری ہوا کرتی تھیں۔ان کے انبار نے مجھے بتایا کہ سردار دائود کٹر پختون قوم پرست ہے۔وہ سمجھتا ہے کہ مشرقی پاکستان گنوادینے کے بعد ریاست پاکستان بہت کمزور ہوچکی ہے۔’’پختونستان‘‘ کے قیام کے لئے ’’اب نہیں تو کبھی نہیں‘‘ والا وقت آگیا ہے۔اس نے ولی خان اور ان کی جماعت کی دیدہ دلیرسرپرستی شروع کردی ہے۔پاکستان میں ابتری وخلفشار پھیلانے کے لئے تخریب کاروں کے ذریعے بم دھماکے بھی شروع کروادئے گئے ہیں۔ بالآخر بھٹو حکومت نے ولی خان اور ان کی نیشنل عوامی پارٹی کوسبق سکھانے کا فیصلہ کیا۔ اس جماعت کی سرکردہ قیادت پہلے نظربند اور بعدازاں باقاعدہ گرفتار کرلی گئی۔ان دنوں کے سپریم کورٹ میں مذکورہ جماعت کو ملک دشمنی کے الزامات کے تحت ’’کالعدم‘‘ ٹھہرانے کے لئے ریفرنس بھی دائر ہوا۔ بالآخر سپریم کورٹ نے اسے’’غدار‘‘ ٹھہرادیا۔اس فیصلے کے نتیجے میں ’’حیدر آباد ٹربیونل‘‘ کے نام سے ایک مقدمے کا آغاز ہوا تانکہ ’’غداروں‘‘ کو عبرت کا نشان بنادیا جائے۔

جولائی 1977میں لیکن بھٹو حکومت جنرل ضیاء کے لگائے مارشل لاء نے فارغ کردی۔ ذوالفقار علی بھٹو گرفتار کرلئے گئے۔ان کے خلاف لاہور میں ہوئے ایک قتل کے حوالے سے روزانہ کی سماعت کے ذریعے مقدمے کا آغاز بھی ہوگیا۔بھٹو صاحب لاہور کی جیل میں تھے تو ایک روز اخبارات کے صفحہ اوّل پر جنرل ضیاء ولی خان کو ایوانِ صدر میں مسکراتے ہوئے ملتے دکھائے گئے۔

پشاور میں ہمارے ایک دل جلے اور مردقلندر ٹائپ صحافی ہوا کرتے تھے۔ یوسف لودھی ان کا نام تھا۔ نوکری انہیں دینے کو کوئی صحافتی ادارہ تیار نہیں ہوتا تھا۔بے روزگاری سے اکتاکر انہو ںنے اپنے خاندان اور دوستوں کی مدد سے انگریزی کا ایک  ہفت روزہ نکال کر ’’خودکفیل‘‘ صحافی بننے کی کوشش کی۔تخلیقی صلاحیتوں سے مالا مال تھے۔جنرل ضیاء کی ولی خان سے ملاقات والی تصویر دیکھی تو اسے اپنے ہفت روزے کے سرورق پر کارٹون کی صورت چھاپا۔اس کے نیچے انگریزی میں کیپشن لکھا جس کا سادہ ترجمہ ہے۔ :’’والی خان کو تا حکم ثانی محب وطن قرار دے دیا گیا ہے‘‘۔ ولی خان اور یوسف لودھی اس دنیا میں نہیں رہے۔وطن عزیز میں لیکن سیاستدانوں(اور اب ’’ذہن ساز‘‘ تصور ہوتے صحافیوں کو بھی ‘‘ تاحکم ثانی غدار یا محب وطن بنانے کا سلسلہ جاری ہے۔

مذکورہ تناظر میں 2011سے ہمارے ہاں ملک کو نیک راہ پر چلانے کی دعوے دار قوتوں نے بالآخر دریافت یہ کیا کہ کرکٹ کی وجہ سے مشہور ہوئے عمران خان صاحب کی صورت بالآخر وہ ’’دیدہ ور‘‘ نمودار ہوگیا ہے جس کے لئے نرگس نامی پھول (کوئی اداکارہ نہیں) کو ہزاروں سال رونا پڑتا ہے۔کرکٹ سے ریٹائرہونے کے بعد انہوں نے انسانی ہمدردی میں سکولوں کے بچوں کو بھی لاہورمیں ایک ایسا ہسپتال قائم کرنے کی خاطر چندہ جمع کرنے کے لئے متحرک کیا جو جدید ترین آلات اور سہولتوں کے ساتھ کینسر جیسے موذی مرض کا علاج کرسکتا تھا۔ 1996سے وہ سیاست میں بھی آچکے تھے۔روایتی سیاستدان ان کی جماعت کا تمسخر اڑاتے رہے۔2011میں لیکن روایتی اور سوشل میڈیا پر چھائے ذہن سازوں کو ’’خبر‘‘ مل گئی کہ وطن عزیز میں سیاست کے نام پر اقتدار میں باریاں لینے والے ’’چوروں اور لٹیروں‘‘ کا یک وتنہا متبادل عمران خان صاحب جیسا کرشمہ ساز ہی ہوسکتا ہے۔وزیر اعظم کے منصب تک پہنچنے کے لئے اگرچہ انہیں اگست 2018تک انتظار کرنا پڑا۔

انتظار کے ان برسوں میں خان صاحب کے اندازِ سیاست اور خیالات پر دیانتدارانہ سوالات اٹھانے والے مجھ جیسے نسبتاََ گم نام،گوشہ نشین اور بے اثرصحافی بھی ’’لفافہ‘‘ ٹھہراکر معتوب ٹھہرادئیے گئے۔جنرل مشرف نے 2007میں ’’ایمرجنسی-پلس‘‘ لگاتے ہوئے بھی مجھے ان صحافیوں میں شامل کردیاجو ملک میں ابتری وخلفشار پھیلانے کے ذمہ دار ٹھہرائے گئے تھے۔ فیصلہ ہوا کہ ان کی صورتیں ٹی وی سکرینوں پر نظر نہ آئیں۔جنرل مشرف مگر چند ہی ماہ بعد استعفیٰ دینے کو مجبور ہوگئے۔ہم ہنستے مسکراتے سکرینوں پر لوٹ آئے۔ بکرے کی ماں مگر بہت دیر تک ’’خیر‘‘ نہیں مناسکتی۔

اگست 2018میں عمران خان صاحب بالآخر وزارت عظمیٰ پر فائز ہوگئے تو پاکستان کو ’’مثبت‘‘ اور استحکام کی جانب سرپٹ دوڑتا دکھانے کے لئے ’’ملک دشمن قوتوں کی پشت پناہی سے ابتری پھیلانے والے‘‘ صحافیوں کی فہرست تیار ہوئی۔ ٹی وی سکرینوں کو ان کی مکروہ صورتوں سے پاک کرنے کا فیصلہ ہوا۔میں بدنصیب مذکورہ ’’صفائی‘‘ کا پہلا نشانہ بنا۔ ’’اسی تنخواہ‘‘ پر گزارہ کرنے کے لئے گوشہ نشین ہوکر کالم نویسی کی طرف لوٹ آیا۔

اپنی ذات پر نازل ہوئی اذیت کے باوجود اس کالم کے ذریعے مسلسل فریاد کرتا رہا ہوں کہ عمران خان صاحب کو ’’محلاتی سازش‘‘ کے ذریعے وزیر اعظم کے منصب سے فارغ نہ کیا جائے۔محلاتی سازش روکنا مگر دو ٹکے کے صحافی کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ایسی سازشوں کے اسباب اپنے تئیں بہت طاقتور ہوتے ہیں۔انہیں فریادی دلائل سے کمزور نہیں کیا جاسکتا۔ بالآخر 9اپریل 2022ہوگیا۔ اس کے فوری بعد چھپے کالم میں برملا اعتراف کیا کہ عمران خان کو جس انداز میں گھر بھیجا گیا ہے کہ میں اس کی بابت دُکھی محسوس کررہا ہوں۔

احمد فراز سے معذرت کے ساتھ لکھنے کو مجبور ہوں کہ ’’اور صحافت وہی انداز پرانے مانگے‘‘ ۔اگرچہ اپنا عالم اب یہ ہے کہ ’’جی ہارچکے لٹ بھی چکے‘‘۔گوشہ نشینی کے عالم میں حیرت ہورہی ہے کہ عمران خان صاحب کے اقتدار سے ہٹنے کے بعد اب ملک میں ’’انتشار وافراتفری‘‘ پھیلانے والے ’’ذہن سازوں‘‘ کی نئی فہرست تیار ہورہی ہے۔ انہیں ’’عبرت کا نشان‘‘ بنانے کے خواہش مند مگر گھبرارہے ہیں۔ ’’تاحکم ثانی‘‘ والا معاملہ ہے۔دیکھیں کہاں تک پہنچے۔

error: