تاریخ کا مقدمہ بنام اچکزئی صاحب!

تاریخ ڈگڈگی نہیں کہ اُسے بجا کر صرف اپنی خوبیوں اور دوسرے کی خامیوں کا چرچا کیا جائے۔ تاریخ تو وہ آئینہ ہے جس میں نہ صرف اپنی خامیاں بلکہ خوبیاں بھی دیکھی جائیں اور اُن سے بہتری کا راستہ ڈھونڈا جائے۔ دنیا کی تاریخ میں کوئی قوم، قبیلہ یا فرد ایسا نہیں جو یہ دعویٰ کر سکے کہ وہ خامیوں سے مبرا ہے۔ ہر قوم اور ہر قبیلے نے غلطیاں کی ہیں، اِسی طرح ہر قوم اور ہر قبیلے نے اچھے کام بھی کئے ہیں، ہر ایک میں خوبیاں بھی موجود ہیں اور کوتاہیاں بھی۔ پنجاب ہو یا سندھ، بلوچستان ہو یا خیبر پختونخوا، ہر علاقے کی تاریخ کھنگالی جائے تو کہیں وہ ظالم نظر آئیں گے اور کہیں مظلوم۔ کہیں یہ گروہ فاتح نظر آئیں گے اور کہیں مفتوح۔ پنجاب کو بزدلی کا طعنہ دینے والے فاتح عالم سکندر اعظم پورس کو کیوں بھول جاتے ہیں جس نے دریائے جہلم کے کنارے سکندر اعظم کا مقابلہ کیا اور اپنی بہادری کی داد خود سکندرِ اعظم سے وصول کی، پھالیے کے قصبے میں سکندر اعظم کے پسندیدہ گھوڑے بیوفالس کی قبر میں موجود ہڈیاں اب بھی اس بات کی گواہ ہے کہ پنجاب میں مزاحمت کی رمک بھی بدرجہ اتم موجود تھی اور ہے۔ تاریخ نہ میری ہے نہ آپ کی۔ تاریخ تو مشترکہ ورثہ ہے اگر الزام تراشی کرنی ہو تو بار بار آنے والے افغانی لشکروں پر بھی انگلی اٹھائی جائے جو سال بھر کی فصلیں بھی اجاڑ کر چلے جاتے تھے؎

کھادا پیتا لاہے دا

باقی احمد شاہے دا

محمود غزنوی کے حملوں سے لیکر احمد شاہ ابدالی اور نادر شاہ درانی کے قتلِ عام اور لوٹ مار کو دیکھنے کے دو انداز ہیں۔ ایک تو یہ کہ اُنہیں لٹیرا اور ڈاکو کہہ دیا جائے جبکہ دوسرا بہتر طریقہ یہ ہے کہ گئے وقتوں کے اُن وقتوں کو تاریخ کا دھارا قرار دے دیا جائے، نہ پنجابیوں کو بزدل کہیں نہ افغانیوں کو ظالم اور لٹیرا۔ یہ تاریخ کا ایک دور تھا، اِس کو تاریخ کی طرح پڑھیں اور اِس سے سبق سیکھیں۔

باقی جو طعنہ انگریزوں کی پشت پناہی کا دیا جاتا ہے، وہ بھی تاریخی حوالے سے درست نہیں ہے۔ پنجابی مسلمان، بالخصوص جاگیردار سکھ دور میں اُلٹ پھیر کا شکار رہے، اِس لئے سکھوں کو شکست ملی تو پنجابی جاگیردار فوراً انگریزوں کے قدرتی حلیف بن گئے مگر سب اِس سوچ کے حامل نہیں تھے۔احمد خان کھرل کا نام کیسے بھولا جا سکتا ہے جس نے ساہیوال اور اوکاڑہ کے علاقے میں انگریزوں کے خلاف علمِ بغاوت بلند کیا اور انگریز اسسٹنٹ کمشنر برکلے سے باقاعدہ فوج کی طرح مقابلہ کیا اور جب خود جام شہادت نوش کیا تو اُس کے ساتھیوں نے اگلے ہی روز برکلے کو بھی اگلے جہان پہنچا دیا۔ اِس علاقے کے لوک گیتوں میں ’’برکلی دا وار‘‘ کے نام سے اب بھی اِس جنگ کے قصے سنے جا سکتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر پنجابیوں نے انگریز کی اطاعت کی تو بلوچوں، پختونوں اور سندھیوں نے انگریزوں سے کونسی جنگ جیت لی؟ پنجابی سجادہ نشین اگر پنجاب کے گورنر کو قصیدے پڑھ کر اطاعت گزاری کا یقین دلا رہے تھے تو بلوچ سردار کرنل سنڈیمن کی گاڑی کو گھوڑوں کی جگہ جت کر اِس سے دوستی کا حق ادا کر رہے تھے اگر چند پنجابی ایجنٹ بن کر انگریز کے لئے جاسوسی کرتے تھے تو بہت سے پختون بھی یہی کام کر رہے تھے۔ تاریخ کے اِس حمام میں سب ننگے ہیں، کوئی بھی قبیلہ ایسا نہیں کہ جو ہمیشہ فاتح رہا ہو، ہمیشہ عزت ہی کے کام کرتا ہو، ہر گروہ کبھی مفتوح ہوتا ہے اور کبھی ذلت سے بھی گزرتا ہے۔ یہی تاریخ ہے اور تاریخ کو اِسی انداز میں دیکھنا یا پڑھنا چاہئے۔

بدقسمتی سے ہمارے ہاں یہ رسم چل نکلی ہے کہ تاریخ سے چنیدہ واقعات کو نکال کر اُن کی من مانی تشریح کی جاتی ہے اور پھر اِن واقعات کی بنیاد پر کسی قوم، لسانی گروہ یا برادری کو موردِ الزام ٹھہرایا جاتا ہے۔ یہ طریقہ واردات سراسر زیادتی کے مترادف ہے۔ اِس طرح سے تاریخ کو دیکھنے سے ہم تاریخ سے کچھ سیکھ نہیں سکتے۔ برطانیہ کی مثال لے لیں، ایک وقت میں برطانیہ عظمیٰ کی سلطنت میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا لیکن ایک وقت ایسا بھی تھا کہ اُنہیں جرمنی نے فتح کیا۔ ایک دور ایسا بھی تھا کہ برطانیہ کے شاہی دربار میں فرانسیسی زبان بولی جاتی تھی کیونکہ فرانس کا اثر اِس قدر زیادہ تھا۔ برطانیہ کی تاریخ میں دونوں ادوار دیکھے اور دونوں سے سبق سیکھا مگر ہم ہیں کہ تاریخ سے سبق سیکھنے کی بجائے تاریخ کو اپنی مرضی کا سبق دینا چاہتے ہیں جو ظاہر ہے بےفائدہ اور لاحاصلِ مشق ہے۔ تاریخ کو مجموعی طور پر دیکھا جائے تو پنجاب ہمیشہ سے امن کا گہوارہ رہا ہے، یہ تجارتی راہداری تھا اِس لئے اِس کے مفاد میں تھا کہ اِس میں امن رہے تاکہ تجارتی قافلے بلاروک ٹوک سفر کر سکیں۔ دو چار بڑی جنگیں ضرور ہوئیں ورنہ عام طور پر حملہ آوروں کو کم ہی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ محمود غزنوی نے پنجاب کے حکمران اجے پال کو ہرایا تو اس نے مارے شرم کے سب کے سامنے لاہور ہی میں خود کشی کر لی۔ یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ دلی دربار اور پنجاب کے معاملات کبھی اتنے گوڑھے نہیں تھے کہ وہ دلی کے تخت کے لئے تلواریں سونت لیتے اِسی لئے جب کوئی حملہ آور دلی پر حملہ کے لئے آتا تھا تو پنجاب کے لوگ مزاحمت نہیں کرتے تھے بلکہ اس کی فوج میں بھرتی ہو کر دلی پر چڑھ دوڑتے تھے۔

اچکزئی صاحب کی جمہوریت سے لگن، قوم پرستی اور آئین پرستی کے احترام کے باوجود گزارش ہے کہ تاریخ چنیدہ واقعات کی من مانی تشریح نہیں مجموعی تاثر کا نام ہے اگر محض بحث مقصود ہوتی تو پھر مہاراجہ رنجیت سنگھ کے کابل تک کے قبضے کو فتح کا نام دےکر جیت کے پھریرے لہرائے جا سکتے ہیں اور پنجابی قوم پرستی کے پودے کو کھاد دی جا سکتی ہے۔ ہری سنگھ نلوا اور فرانسیسی جرنیلوں کے پختونوں کے قتلِ عام کو بھی فتح کے سنہری فریم میں سجا کر عظیم تر پنجاب کا نعرہ لگایا جا سکتا ہے مگر ایسا کرنا معقولیت کے تقاضوں کے خلاف ہوگا۔ میری اچکزئی صاحب سے درخواست ہے کہ آپ بھی تاریخ کی تشریح کرتے ہوئے معقولیت کا راستہ اختیار کریں وگرنہ تاریخ کے مطالعے اور من مانی تشریح سے ہی ہٹلر کی فسطائیت نکلی۔ ہٹلر یہ سمجھ بیٹھا کہ اُس کی آریا نسل ہی دنیا کی سپریئر ترین قوم ہیں جبکہ باقی اقوام اور نسلیں اس سے کم تر۔ اب تو ڈی این اے کی جدید سائنسی تحقیق نے ثابت کر دیا کہ نسلیں اس قدر خلط ملط ہو چکی ہیں کہ کوئی نہ خالص پنجابی ہے اور نہ خالص پٹھان سب کے ڈی این اے صدیوں سے مل ملا کر ایک ملغوبہ بن چکے ہیں آیئے عہد کریں کہ تاریخ سے سبق سیکھ کر اپنے میں بہتری لائیں دوسروں میں کیڑے نہ نکالیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *