تاریخ کے وہ بدترین سال جن کے آگے 2020 کچھ بھی نہیں

بعض لوگوں کے لیے سنہ 2020 تباہی و بربادی کا سال رہا جس میں عالمی وبا کے دوران لاکھوں اموات ہوئیں، ہمیں گھر سے کام کرنا پڑا اور زوم پر میٹنگز ہوتی رہیں۔

لیکن تاریخ پر نظر ڈالیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ صورتحال اس سے بھی زیادہ مشکل ہوسکتی تھی اور شاید تاریخی پس منظر جان کر ہمیں لگے کہ سنہ 2020 درحقیقت اتنا بھی برا نہیں تھا!

اس تحریر میں ہم یہ جائزہ لیں گے کہ 2020 میں کیا کچھ بُرا ہوا اور ماضی کے مقابلے یہ کتنا مشکل سال تھا۔

کووڈ 19 کی وجہ سے اموات

جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق اب تک دنیا بھر میں سات کروڑ 45 لاکھ افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوچکی ہے جبکہ کووڈ 19 سے 16 لاکھ اموات ہوئی ہیں۔

اگرچہ یہ دنیا کی بدترین عالمی وباؤں میں سے ایک ہے لیکن صورتحال ماضی میں اس سے بھی زیادہ سنگین تھی۔

سنہ 1346 کے بعد بلیک ڈتھ یا بوبونک طاعون دنیا کی سب سے خطرناک وباؤں میں سے ایک تھی۔ اس سے یورپ میں دو کروڑ پانچ لاکھ افراد ہلاک ہوئے اور دنیا بھر میں اموات کی تعداد 20 کروڑ تھی۔

سنہ 1520 کے بعد سپین اور پرتگال کے لوگ امریکہ آتے ہوئے اپنے ساتھ چیچک (سمال پوکس) لائے جس سے براعظم کے 60 سے 90 فیصد آبائی باشندے ہلاک ہوئے۔

ایزٹیک، سپین
،تصویر کا کیپشنیورپی افراد اپنے ساتھ کئی امراض امریکہ لائے جن سے یہاں کے آبائی باشندے ہلاک ہوئے

ہسپانوی فلو 1918 میں قریب پورے دنیا میں پھیلا۔ پہلی عالمی جنگ کے بعد اسے وطن واپس آنے والے فوجیوں نے پھیلایا۔ اس وبا سے پانچ کروڑ افراد ہلاک ہوئے۔ اس سے عالمی سطح پر تین سے پانچ فیصد آبادی ختم ہوئی۔

ایچ آئی وی/ایڈز کی وبا 1980 کی دہائی میں شروع ہوئی اور اس سے اب تک تین کروڑ 20 لاکھ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

بہت سے لوگوں کی نوکریاں گئیں

عالمی وبا سے معیشت کو بھی کافی نقصانات پہنچا اور اس کی وجہ سے دنیا بھر میں کئی لوگوں کا روزگار متاثر ہوا ہے۔

تاہم بیروزگاری کی شرح اب بھی 1929-33 کے معاشی بحران کی سطح پر نہیں پہنچی۔

سنہ 1933 خاص طور پر بُرا سال تھا۔ اس وقت جرمنی میں ہر تیسرا شخص بیروزگار تھا۔اور اسی دوران عوام میں مقبول سیاست دان ایڈولف ہٹلر اقتدار میں آئے۔

ایڈولف ہٹر
،تصویر کا کیپشنماضی میں معاشی بحران کی وجہ سے عوام میں مقبول بعض سیاستدانوں کو اقتدار میں آنے کا موقع ملا

ہم اپنے دوستوں سے نہ مل پائے

یہ سچ ہے کہ دنیا کے بیشتر حصوں میں لوگوں کو زیادہ وقت گھر پر ہی گزارنا پڑا اور اس دوران وہ اپنے پیاروں سے بھی نہ مل پائے۔

لیکن سنہ 536 میں دنیا کی آبادی کا ایک بڑا حصہ تو آسمان کی طرف بھی نہیں دیکھ سکتا تھا۔

تاریخ دان مائیکل میکورمک کے مطابق یورپ، مشرق وسطیٰ اور ایشیا کے کئی حصوں میں اس سال 18 ماہ کے لیے دن رات ایک پُراسرار دھند چھائی رہی تھی۔

وہ کہتے ہیں کہ یہ دنیا کی تاریخ میں وسیع پیمانے پر ’بدترین عرصوں میں سے ایک تھا، اگر ہم اسے بدترین سال نہ بھی سمجھیں تو۔‘

آتش فشاں
،تصویر کا کیپشن2020 میں صورتحال کافی مشکل رہی، لیکن آثار قدیمہ کے بعض ماہرین کا خیال ہے کہ یہ سال 536 سنہ جتنا بُرا نہیں تھا

یہ گذشتہ 2300 برسوں میں سب سے سرد دہائی کی شروعات ہے جس میں فصلیں تباہ ہوئیں اور لوگ بھوکے رہے۔

اس کی وجہ شاید آئس لینڈ یا شمالی امریکہ میں آتش فشاں کا پھٹنا تھی۔ اس کی راکھ نصف کرہ شمالی تک جا گِری تھی۔

یہ سمجھا جاتا ہے کہ آتش فشاں سے پیدا ہونے والی یہ دھند یورپ، ایشیا اور دنیا کے دیگر حصوں تک پھیلی۔ اس سے سردی کی شدید لہر نے کئی علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

ہم چھٹیوں پر کہیں نہ جاسکے

تاریخی اعتبار سے یہ سال عالمی سیاحت کے لیے بھی کافی بُرا تھا۔

لیکن اگر آپ کو اپنے گھر رہنے پر اتنا افسوس ہو رہا ہے تو تھوڑا اپنے آبا ؤ اجداد کے بارے میں بھی سوچ لیں۔

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ انسانیت کی بقا ایسے غاروں میں چھپ کر ممکن ہوئی
،تصویر کا کیپشنبعض لوگوں کا خیال ہے کہ انسانیت کی بقا ایسے غاروں میں چھپ کر ممکن ہوئی

ایک لاکھ 95 ہزار سال قبل سے ہی انسانوں کو سخت سفری پابندیوں کا سامنا رہا ہے۔

یہ اس سرد اور خشک عرصے کی شروعات تھی جو ہزاروں سال جاری رہی۔ اسے میرین آئسوٹوپ سٹیج 6 کے نام سے جانا جاتا ہے۔

پروفیسر کرٹیس مریان جیسے سائنسدان سمجھتے ہیں کہ اس خشک سالی سے ہماری نسل ختم ہونے کے قریب پہنچ گئی تھی۔

ان کا کہنا ہے کہ انسانیت کی بقا غاروں میں رہ کر ممکن ہوئی۔ افریقہ کے جنوبی ساحل پر ایسے ہی غار موجود ہیں۔ ان میں سے ایک غار کا نام ’جنت کا باغ‘ (گارڈن آف ایڈن) ہے۔ یہاں لوگوں نے سمندری غذا (سی فوڈ) پر گزارا کرنا سیکھا۔

بیروت کی بندرگاہ ایک دھماکے میں تباہ ہوئی

4 اگست کو لبنان کے دارالحکومت بیروت میں ایک بڑا دھماکہ 2750 ٹن امونیئم نائٹریٹ کو غیر محفوظ انداز میں رکھنے کی وجہ سے ہوا۔ اس سے قریب 190 اموات ہوئیں اور چھ ہزار سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے۔

ماہرین کے مطابق یہ تاریخ کے سب سے بڑے غیر جوہری دھماکوں میں سے ایک تھا۔ اس کی شدت ایک کلو ٹن ٹی این ٹی جتنی تھی۔ یہ ہیروشیما کے بم کا 20واں حصہ بنتا ہے۔

لیکن دسمبر 1984 میں انڈیا کے شہر بھوپال میں کیمیکل پلانٹ میں ایک لیک کی وجہ سے دھماکہ پیش آیا تھا۔ اس میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے تھے اور اسے جدید تاریخ کے بدترین صنعتی حادثات میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔

انڈین حکومت کے مطابق دھماکے کے بعد قریب 3500 افراد ہلاک ہوئے۔ یہ سمجھا جاتا ہے کہ اگلے برسوں میں پھیپھڑوں کی بیماروں کی وجہ سے کوئی 15 ہزار مزید اموات ہوئیں۔

دھماکے کے بعد کئی دہائیوں تک شہر میں خطرناک دھند چھائی رہی جس کی وجہ سے آج بھی لوگ متاثر ہو رہے ہیں۔

آسٹریلیا کے جنگلات میں آگ

کوآلا
،تصویر کا کیپشن’میرا گھر اُجڑ گیا اور آپ کو لگتا ہے آپ کا سال بُرا گزرا‘

آسٹریلیا میں گذشتہ موسم گرما کے دوران جنگلات میں لگنے والی آگ سے کم از کم 33 اموات ہوئیں لیکن اس سے ہونے والا نقصان کہیں بڑا تھا۔ شہر میں قریب تین ارب جانور ہلاک ہوئے یا انھیں اپنے گھر چھوڑ کر دوسرے علاقوں میں منتقل ہونا پڑا۔ ان میں ہر طرح کے چرند، پرند شامل ہیں جن کے گھر اس آگ نے جلا دیے۔

آخر سنہ 2020 کی کوآلا کی نسل سے کیا دشمنی ہے؟

لیکن ستمبر 1923 میں زلزلوں سے آگ طوفان کی شکل میں پھیلی تھی۔ ایسے ایک واقعے میں جاپان میں ٹوکیو اور یوکوہاما کے بیچ ایک لاکھ 40 ہزار سے زیادہ اموات ہوئیں۔ ہلاک ہونے والوں کی یہ تعداد انسان تھی، کوآلا نہیں۔

امید کی کرن

کئی زاویوں سے 2020 ایک نہایت مشکل سال رہا ہے۔ عالمی وبا سے ہم افراتفری میں ضروری اشیا خرید رہے تھے تو کبھی اپنے پیاروں سے سماجی فاصلہ رکھے ہوئے تھے۔

ہم میں سے کئی لوگ لاک ڈاؤن سے اکتاہٹ کا بھی شکار ہوئے اور صرف سینیٹائزر سے ہاتھ ملاتے پائے گئے۔

لیکن آئیے اس سال میں ہونے والی کچھ اچھی باتوں پر بھی نظر دوڑاتے ہیں۔ یہ ایسا سال تھا جس میں۔۔۔

عالمی سیاست میں خواتین کی شمولیت بڑھی۔ سنہ 2020 میں 20 ریاستوں کی سربراہی خواتین کے ہاتھوں میں تھی۔ سنہ 1995 میں یہ تعداد محض 12 تھی۔

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق 2020 میں مختلف ملکوں کے پارلیمانوں میں خواتین کی موجودگی دگنی ہوئی۔ یہ تمام سیٹوں کا 25 فیصد حصہ بنی۔

US vice-president elect Kamala Harris during the 2020 electoral campaign

اور یہ وہ سال ہے جس میں کملا ہیرس نے تاریخ رقم کی ہے۔ نائب صدر منتخب ہونے والی وہ پہلی خاتون ہیں، پہلی سیاہ فام خاتون ہیں، پہلی خاتون ہیں جن کا تعلق جنوبی ایشیائی برادری سے ہے، اور وہ پہلی خاتون ہیں جو تارکین وطن کی بیٹی ہے۔

دنیا بھر میں لوگوں نے نسلی امتیاز کے خلاف بڑے مظاہرے کیے، اس امید میں کہ مستقبل بہتر ہوگا۔

ماحول کے لیے بھی ایک خبر تھی۔ مزید کمپنیاں اب کاربن کے اخراج کو کم کرنے کے وعدے کر رہی ہیں۔ درحقیقت اقوام متحدہ کے مطابق کئی مقامی حکومتوں اور کاروباروں نے مجموعی طور پر اخراج صفر کرنے کے حامی بھری ہے۔ فیس بک، فورڈ اور مرسڈیز بینز ان کمپنیوں میں شامل ہیں۔

اگر یہ اچھی باتیں آپ کے لیے ناکافی ہیں تو یہ بھی ظاہر ہے کہ کسی وقت پر ہمیں یہ زمین چھوڑنی پڑے گی۔ اکتوبر میں ناسا نے اعلان کیا تھا کہ چاند پر ہمارے ماضی کے مشاہدے سے زیادہ پانی ہے۔ یہ ایسی دریافت ہے جس سے مستقبل کے مشن اور بھی اہم ہوسکتے ہیں۔

اگر ہم زمین پر ہی رہنے والے تو امید کرتے ہیں کہ 2020 میں عالمی وبا سے سیکھے گئے سبق ہم یاد رکھیں گے۔

ایک چیز واضح ہے اور وہ یہ کہ کم از کم لوگ اب زیادہ باقاعدگی سے ہاتھ دھو رہے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: