Site icon Dunya Pakistan

تاریخ کے چیمبر میں پھنسی گولی

پاکستان میں تاریخ ان دنوں سبک قدم ہو رہی ہے۔ حزبِ اختلاف نے وزیراعظم کیخلاف تحریکِ عدم اعتماد پیش کر رکھی ہے ۔ پارلیمانی طرز حکومت میں تحریک عدم اعتماد دستوری معمول کا حصہ ہے۔ ارکانِ پارلیمنٹ کا اعتماد کھو دینے والا وزیراعظم اپنے ساتھیوں سمیت اسپیکر کے بائیں ہاتھ والی نشستوں پر آ بیٹھتا ہے۔ ہمسایہ ملک بھارت میں 1951ء سے دستوری حکومت شروع ہونے کے بعد سے 27مرتبہ مختلف وزرائے اعظم کو تحریکِ عدم اعتماد کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اندرا گاندھی اس آزمائش سے پندرہ مرتبہ گزریں۔ آزاد بھارت کے پہلے وزیراعظم جواہر لعل نہرو کے خلاف بھی 1963ء میں عدم اعتماد کی تحریک پیش کی گئی۔ تین مرتبہ بھارت کا وزیراعظم رہنے والے اٹل بہاری واجپائی کا معاملہ دلچسپ ہے۔ 16 مئی 1996 ء کو پہلی مرتبہ وزیراعظم نامزد کئے گئے تو اعتماد کا ووٹ نہیں جیت سکے۔ صرف سولہ روز بعد سابق وزیراعظم ہو گئے۔ معلق پارلیمنٹ میں حکومت سازی ممکن نہ رہی تو مارچ 1998ء کے انتخابات کے نتیجے میں واجپائی دوسری مرتبہ وزیراعظم بنے۔ 17 اپریل 1999ء کو عین کارگل لڑائی کے دوران اٹل بہاری واجپائی کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش ہوئی جو وہ صرف ایک ووٹ سے ہار گئے۔ 4 جولائی 1999ء کو نواز شریف بل کلنٹن سے ملاقات کے لئے کیمپ ڈیوڈ پہنچے تو انہیں ایوان میں دو تہائی اکثریت حاصل تھی۔ ان کے حریف واجپائی محض نگران وزیر اعظم تھے۔ اس کے باوجود نواز شریف کو واجپائی کے مطالبات تسلیم کرنا پڑے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ جمہوریت کے حمام گرد باد میں آدھا بدن پتھر کا ہو جانے کے باوجود واجپائی کے ترکش میں دستوری تسلسل کا تیر موجود تھا۔ دوسری طرف نواز شریف کے کانوں میں کوہِ ندا سے آتی وہ صدائیں گونج رہی تھیں کہ انہیں اپنی اور اپنے اہل خانہ کے جسمانی تحفظ کی ضمانت کا یقین بھی نہیں تھا۔ بھارتی جمہوریت سے تقابل ہمارے کچھ مہربانوں کو خوش نہیں آتا۔ سو توازن پیدا کرنے کےلئے جاپان کی مثال لیتے ہیں۔ 1952ء میں امریکہ سے آزادی حاصل کرنے کے بعد سے شاید ہی جاپان کے کسی وزیراعظم کو اپنی میعاد پوری کرنے کا موقع ملا ہو۔ 65برس میں 32وزرائے اعظم گزرے۔ پچھلی دہائی میں پانچ برس کے دوران جاپان کے چار وزرائے اعظم تبدیل ہوئے۔ یہ سب حکومتیں عدم اعتماد کے نتیجے میں تبدیل ہوئیں اور یہ بھی جان لیں کہ جاپان اس وقت دنیا کی تیسری بڑی معیشت ہے۔

پاکستان میں جمہوریت کی تاریخ ہی نہیں، بنیادی ترکیب میں بھی پیچیدگیاں رہی ہیں۔ ہماری کہانی حیدر بخش حیدری کی داستان ’آرائش محفل‘ سے مماثلت رکھتی ہے۔ ریاست کی علامت شہزادی حسن آرا نے جمہور کے استعارے شہزادہ منیر شامی کے لئے سات سوال گھڑ رکھے ہیں۔ غرض یہ ہے کہ سفینہ کنارے جا نہ لگے۔ (1) حاکمیت اعلیٰ کا سوال ہی تشنہ جواب ہے۔ (2) عوام کی حاکمیت کے دوٹوک فیصلے کی عدم موجودگی میں جمہوریہ (Republic) کی اجتماعی نفسیات ناپید ہے یعنی شہری اور ریاست کا براہ راست تعلق مخدوش ہے۔ (3) نظام حکومت کے طور پر جمہوریت کے بارے میں قومی اتفاق رائے ہی موجود نہیں۔ (4) سیاسی قیادت کا معتدبہ حصہ جمہوری استحکام کی بجائے ذاتی اقتدار میں دلچسپی رکھتا ہے۔ (5) جمہوری عمل میں غیر آئینی مداخلت کی روایت نے آئینی، انتظامی اور تمدنی ارتقا کو مفلوج کر رکھا ہے۔ (6) پیوستہ مفادات کے تابع پالیسی سازی نے ملک کا معاشی امکان تاریک کر دیا ہے۔ (7) ملکی وسائل پر ناجائز اجارے نے قوم کو ہم عصر دنیا کے علم اور معیشت سے منقطع کر رکھا ہے۔عدم اعتماد کی جس تحریک کو 20 مارچ تک نمٹانا ممکن تھا اسے محترم اسپیکر کی نگہ بے نیازی 28مارچ تک گھسیٹ لائی ہے اور ابھی ووٹنگ کے قطعی دن کا اندازہ نہیں۔ کسی کی طبع نازک پر گراں نہ گزرے تو یاد دلایا جائے کہ گزشتہ اکتوبر میں سادہ معاملات کو درپردہ عزائم کی بھینٹ چڑھانے کے شوق ہی نے 19 نومبر دکھایا تھا۔ اب اس میدان میں صدارتی ریفرنس کا پتھر بھی لڑکھا دیا گیا ہے۔ ہماری قابل احترام عدلیہ تلون مزاجی میں اپنا ثانی نہیں رکھتی۔ متحارب سیاسی قوتیں سڑکوں پر نکل آئی ہیں۔ رابرٹ فراسٹ کے مطابق جنگل میں نکلتے دو راستوں میں سے ایک کا انتخاب حتمی نتیجہ تشکیل دیتا ہے۔ ادھر ژاں پال سارتر کہتا ہے کہ فرد اپنے انتخابات سے پہچانا جاتا ہے۔ درویش کہتا ہے کہ فرد ہی نہیں، قومیں بھی اپنی ترجیحات سے اپنا تشخص مرتب کرتی ہیں۔

اس وقت قومی افق پر، ’وہ تیرگی ہے رہ بتاں میں، چراغ رخ ہے نہ شمع وعدہ‘۔ اس قضیے کا انجام کچھ بھی ہو لیکن شہزادہ منیر شامی کہتا ہے کہ حسن آرا کا سوال نامہ ہی گمراہ کن ہے۔ اصل سوال تو کچھ اور ہیں۔ ماہ رواں میں ملکی آبادی بائیس کروڑ تراسی لاکھ کو جا پہنچی۔ آبادی میں سالانہ شرح اضافہ تین فیصد ہے۔ دنیا کی کل آبادی کا قریب 2.83فیصد حصہ رکھنے والا ملک 280ارب ڈالر کے معاشی حجم کے ساتھ کیسے آگے بڑھے گا؟ آپ اگرانسانی ترقی اور صنفی مساوات میں تعلق سمجھنا چاہیں تو ان دو اشاریوں میں دنیا کے پہلے دس ملک گن جائیے۔ ترک اداکارہ اسریٰ بلجگ کے لباس پر غور کرنے سے فرصت ملے تو یہ بھی جان لیجئے کہ انسانی ترقی میں پاکستان کا درجہ 154 اور صنفی مساوات میں 153 ہے۔ ملکی آبادی میں اوسطاً ہر فرد نے صرف 5.2 برس تعلیم حاصل کی ہے۔ کل داخلی پیداوار میں مینو فیکچرنگ کے شعبے کا حصہ بمشکل 13 فیصد ہے۔ کسی ایک نقد آور فصل میں فی ایکڑ پیداوار عالمی معیار سے مسابقت نہیں رکھتی۔ تحریکِ عدم اعتماد کو ایک طرف رکھئے۔ تاریخ نے ہماری قوم پر عدم اعتماد کر رکھا ہے۔ تاریخ کے چیمبر میں آخری گولی محض اتفاقی طور پر کہیں اٹک گئی ہے۔ صادق اور امین نیز امر بالمعروف وغیرہ کے جھگڑوں سے فرصت ملی تو ان حقیقی سوالات پر بھی غور کر لیجئے گا جن سے چشم پوشی نے قوم کا وقار دھندلا کے رکھ دیا ہے۔

Exit mobile version