تبادلے کے احکامات پر عمل نہ کرنے پر پی اے ایس، پی ایس پی افسران سے وضاحت طلب

لاہور: وفاقی حکومت نے روٹیشن پالیسی 2020 کے تحت اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے دیے گئے تبادلوں کے احکامات کی خلاف ورزی پر ملک بھر میں کام کرنے والے گریڈ 20 کے پولیس افسران اور بیوروکریٹس سے وضاحت طلب کرلی۔

رپورٹ کے مطابق احکامات پر عملدرآمد نہ کرنے والے افسران کا دفاع کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور چیف سیکریٹری پنجاب کامران علی افضل نے وزیراعظم اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو خطوط لکھے ہیں۔

سیکریٹری پنجاب نے اپنے خط میں کہا کہ صوبے میں پہلے ہی پی اے ایس اور پی ایس پی افسران کی کمی ہے، ساتھ ہی درخواست کی کہ تبادلہ کیے گئے افسران کو متبادل افسران ملنے تک اپنی خدمات جاری رکھنے کی اجازت دی جائے۔

وزیر اعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے صوبے میں پی اے ایس اور پی ایس پی افسران کے لیے مختص اسامیوں میں سے نصف پر تعیناتی کی ہے اور گریڈ 20 کی 67 نشستوں پر صرف 20 افسران تعینات ہیں۔

ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ سندھ میں گریڈ 20 کے پی ایس پی افسران کی 26 نشستوں پر صرف 22 افسران تعینات ہیں۔

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے چیف سیکریٹری پنجاب کو یہ کہتے ہوئے نظر انداز کیا کہ روٹیشن پالیسی 2020 چیف سیکریٹریز کی مشاورت سے بنائی گئی تھی تاکہ کم تبادلوں والے افسران کا تبادلہ کر کے صوبائی حکومتوں کے پاس ہر گریڈ کے افسران کی کمی کو معقول بنایا جائے۔

سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر کسی قسم کے سمجھوتے کا مطلب یہ ہے کہ میں اور آپ پالیسی پر سمجھوتہ اور اسے مجروح کر رہے ہیں۔

دوسری جانب سینیئر پی اے ایس، پی ایس پی افسران کو وضاحت پیش کرنے کے لیے جاری کردہ خطوط کو ایک بڑا اقدام سمجھا جارہا ہے کیوں کہ اپنا مؤقف واضح نہ کرنے پر حکومت نے سخت انضباطی کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔

خیال رہے کہ سال 2020 میں وزیر اعظم عمران خان نے صوبوں کی مشاورت سے نئی روٹیشن پالیسی کی منظوری دی تھی تاکہ کوئی بھی سول سرونٹ ایک مخصوص عرصے سے زائد مدت تک کے لیے کسی ایک صوبے میں تعینات نہ رہے۔

چنانچہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے ایک صوبے میں 10، 10 سال سے تعینات افسران کا تبادلہ کردیا تھا۔

بعد ازاں یہ بات سامنے آئی کہ ان افسران نے احکامات جاری ہونے کے 2 ہفتوں بعد بھی اپنی ڈیوٹی نہیں سنبھالی۔

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے یہ معاملہ وزیر اعظم کے سامنے اٹھایا جنہوں نے محکمہ جاتی کارروائی شروع کرنے کی ہدایت کی اور 29 افسران کو نوٹسز جاری کر کے ان سے 7 روز کے اندر جواب طلب کرلیا۔

ڈویژن نے افسران کو خبردار بھی کیا کہ اگر مخصوص وقت میں وضاحت نہ دی گئی یا وہ غیر تسلی بخش لگی تو ان کے خلاف انضباطی کارروائی کی سفارش کی جائے گی۔

کچھ سینیئر افسران نے اسے ’سیاسی اقدام‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت میں اشرافیہ طبقے کو یقین ہے کہ 10 سال سے زائد عرصے سے پنجاب اور سندھ میں کام کرتے ہوئے یہ افسران مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے ساتھ سیاسی طور پر وابستہ ہوگئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جو سوال پوچھنے کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ کیا ان تبادلوں سے صوبوں میں استحکام آئے گا یا اس کے برعکس ہوگا۔

ایک افسر نے کہا کہ جب حکومت سندھ نے افسران کو ان کی ذمہ داریوں سے سبکدوش کرنے سے انکار اور اس فیصلے پر نظرِ ثانی کا کہا تو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے بڑی محکمہ جاتی کارروائی شروع کردی۔

دوسری جانب حکومت پنجاب نے بھی افسران کو سبکدوش کرنے کے عمل میں تاخیر کی اور ڈویژن سے درخواست کی کہ جب تک ان کا متبادل نہیں مل جاتا، ان افسران کو کام جاری رکھنے دیا جائے۔

error: