تباہ حال معیشت ، نئی حکومت کا امتحان 

شہباز شریف صاحب اور ان کے ہمراہ گئی وزراء کی ٹولی ابھی لندن ہی میں موجود تھے کہ گزرے جمعہ کی سہ پہر سوشل میڈیا پر خبر چلی کہ ہمارے ایک سینئر ترین انتہائی بااثر اور متین صحافی جناب فہد حسین صاحب کو وزیر اعظم کا خصوصی مشیر مقرر کردیا گیا ہے۔بعدازاں مذکورہ تقرری کی باقاعدہ تصدیق بھی ہوگئی۔ فہد حسین کی تقرری نے مجھ سادہ لوح کو یہ فرض کرنے پر اُکسایا کہ لندن میں مقیم اپنے بڑے بھائی سے طویل مشاورت کے بعد شہباز صاحب نے اپنے عہدے پر ٹکے رہنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔وہ مشکل فیصلے لینے کو تیار ہوگئے ہیں اور ایسے فیصلوں کو عوام کے لئے قابل قبول بنانے کے لئے انہیں فہد حسین صاحب جیسے ماہرابلاغ کی صلاحیتوں سے استفادہ کی ضرورت محسوس ہوئی۔

شہباز صاحب کے ساتھ گئے چند وزراء اب وطن لوٹ چکے ہیں۔میری ان میں سے کسی ایک سے بھی بالمشافہ یا ٹیلی فون پر گفتگو نہیں ہوئی۔چند صحافی دوست جو ان سے رابطہ میں رہتے ہیں ہفتے کی رات مگر خبر دے رہے تھے کہ لندن سے آئے وزراء کے ’’منہ لٹکے‘‘ ہوئے ہیں۔انہیں سمجھ نہیں آرہی کہ اب کیا کیا جائے۔اخباری اطلاعات یہ دعویٰ بھی کررہی ہیں کہ نواز شریف صاحب کے ساتھ جن موضوعات پر گفتگو ہوئی انہیں غیروں سے شیئرنہ کرنے کا حلف اٹھایا گیا ہے۔کچھ اہم فیصلے یقینا ہوئے ہیں۔ان پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لئے تاہم مسلم لیگ (نون) والوں کو حکومت میں شامل دیگر جماعتوں کی تائیددرکارہوگی۔ وہ مہیا ہوگئی تو مذکورہ فیصلوں کے اعلان کے بعد ان پر عملدرآمد بھی شروع ہوجائے گا۔دیگر جماعتیں رضا مند نہ ہوئیں تو کیا ہوگا؟اس سوال کی بابت خاموشی کو ترجیح دی جارہی ہے۔

دریں اثناء جس روز یہ کالم چھپے گا اس روز کھلنے والے سٹاک ایکس چینج میں دھندہ کرنے والوں کو خبرہی نہیں ہوگی کہ شہباز حکومت کیا فیصلے کرنے جارہی ہے۔بازار میں اس کی وجہ سے مندی کے رحجانات نمایاں نظر آسکتے ہیں۔پاکستانی روپے کی امریکی ڈالر کے مقابلے میں گرانقدر گراوٹ کا سلسلہ بھی جاری رہ سکتا ہے۔بازار میں مندی اور ڈالر کی قدر میں اضافے کا رحجان گزشتہ کئی روز سے جاری ہے۔اس کی وجہ سے یہ تاثر بہت تیزی سے معدوم ہورہا ہے کہ تمام تر خامیوں کے باوجود مسلم لیگ (نون)ایک ’’کاروبار دوست‘‘ جماعت ہے۔اقتدار میں ہو تو معاشی محاذ پر رونق لگائے رکھتی ہے۔شہباز صاحب کسی زمانے میں اپنی ’’سپیڈ‘‘ کی وجہ سے بھی مشہور ہوا کرتے تھے۔ وزارت عظمیٰ سنبھالی ہے تو ان کے ’’رِنگ پیسٹن‘‘ زنگ آلو محسوس ہونا شروع ہوگئے ہیں۔

میرے اور آپ جیسے عام پاکستانیوں کی اکثریت کوشاید علم نہیں کہ ان دنوں ہم اپنی گاڑی یا موٹرسائیکل میں جو پیٹرول ڈلوارہے ہیں اس کے فی لیٹر کو ہمارے لئے قابل برداشت بنانے کے لئے سرکاری خزانے سے 47روپے کی ’’امداد ی رقم‘‘ فراہم ہوتی ہے۔گزشتہ ماہ تک یہ رقم 30روپے تک محدود تھی۔عوام کو سستا پیٹرول فراہم کرنے کی خاطر ’’امدادی رقوم‘‘ دینے کافیصلہ عمران خان صاحب کے دردمند دل نے بطور وزیراعظم کیا تھا۔ ان کے لگائے وزیر خزانہ شوکت ترین اصرار کئے جارہے ہیں کہ رواں برس کے جون تک پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کو ایک سطح تک منجمد رکھنے کے لئے ’’امدادی رقوم‘‘ قومی خزانے کی ایک حد میں جمع کروادی گئی تھیں۔ شہباز شریف کے لگائے وزیر خزانہ جو ہونہار کاروباری میمن بھی ہیں وہ رقم تلاش کرنے میں تاہم دشواری محسوس کررہے ہیں۔قومی خزانہ خالی ہونے کی دہائی بھی مچائے چلے جارہے ہیں۔

پاکستان جیسے ممالک کو اقتصادی حوالوں سے ’’قرق‘‘ ہوتے حالات کا سامنا کرنا پڑے تو وہ دُنیا کے حتمی ساہوکار یعنی آئی ایم ایف سے رجوع کرتے ہیں۔مفتاح اسماعیل اسی باعث منصب سنبھالتے ہی واشنگٹن روانہ ہوگئے تھے۔ وہاں ہوئی ملاقاتوں میں عالمی معیشت کے نگہبانوں نے انہیں صاف الفاظ میں آگاہ کردیا کہ آئی ایم ایف سے مدددرکار ہے تو پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں فی الفور 30روپے کا اضافہ کرو۔ڈیزل کے حوالے سے اس سے دگنی قیمت کا تقاضہ ہے۔مطلوبہ اضافوں کے بروئے کار آنے کے بعد ہی آئی ایم ایف ہماری مزید مدد کے لئے آمادہ ہوگا۔

مفتاح صاحب کے دورئہ واشنگٹن کے بعد شہباز صاحب اپنے وزراء کے ہمراہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات چلے گئے تھے۔ برادرانہ خیرمقدم کے باوجود انہیں پاکستان کے ان دیرینہ خیرخواہوں نے خلوص بھری نرمی سے مطلع کیا کہ انہیں پاکستان کی مدد کے لئے ٹھوس اقدامات پر تیار کرنے سے قبل آئی ایم ایف کورام کرنا ہوگا۔پاکستان کے ساتھ سمندروں سے گہری اور ہمالیہ سے اونچی دوستی کے حامل چین سے بھی ایسے ہی پیغامات ملے ہیں۔

عمران خان صاحب ’’امریکی سازش‘‘ کی بدولت قائم ہوئے بندوبست  کو’’امپورٹڈ حکومت‘‘ پکارے چلے جارہے ہیں۔پاکستان کو معاشی بھنور سے نکالنے کے لئے مگر امریکی اشارے پر بند آنکھ کے ساتھ عمل کرنے والا آئی ایم ایف تیار ہی نہیں ہورہا۔ وہ دوست ممالک بھی کنی کترارہے ہیں جو عموماََ شریف خاندان کی سربراہی میں قائم ہوئی مسلم لیگ (نون) کی حکومتوں کے خصوصی مہربان تصور ہوتے تھے۔

پاکستان کو ’’دیوالیہ‘‘ سے بچانے کے لئے شہباز شریف کی قیادت میں قائم ہوئی حکومت نے اگر فی الفور پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں یکمشت بھاری بھر کم اضافے کا اعلان کردیا تو ہمارے عوام بلبلااٹھیں گے۔ان کی مؤثر تعداد معاشی عذاب سے مغلوب ہوکر عمران خان صاحب کے بلائے اس لانگ مارچ میں شمولیت کو مجبور محسوس کرے گی جسے رواں مہینے کے آخری ہفتے میں کسی دن موجودہ حکومت کا تختہ الٹنے اسلام آباد آنا ہے۔ان کے غضب پر قابو بھی پالیا گیا تو پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے لئے یکمشت ہوا اعلان مسلم لیگ (نون) کے ’’ووٹ بینک‘‘ کو بھاری بھر کم ضرب لگائے گا۔

نظر بظاہر آئینی اعتبار سے شہباز شریف صاحب کی قیادت میں قائم ہوا حکومتی بندوبست آئندہ برس کے اگست تک برقرار رہ سکتا ہے۔اگر حکومت کو پندرہ ماہ تک برقرار رہنے کا یقین ہو تو وہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کو یکمشت بڑھانے کے بجائے قسط وار اضافے کی راہ سوچ سکتی ہے۔اس دوران عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بھی شاید بلند ترین سطح پر برقرار نہ رہیں۔ آئی ایم ایف کو خاطر خواہ اضافے کے ذریعے رام کرنے کے بعد حکومت سعودی عرب،متحدہ عرب امارات اور چین کی مدد سے کاروباری محاذ پر گرم جوشی دکھانے کے انتظامات بھی کرسکتی ہے۔

اپنی جارحانہ سیاست سے مگر عمران خان صاحب اپنی جگہ ’’میر جعفروں کی مدد سے ‘‘بٹھائے ’’غداروں‘‘ کو دھکے دئے جارہے ہیں۔وہ نئے انتخاب کے متمنی ہیں۔ کمزور سے کمزور تر حکومت بھی ریاستی جبر کے ماہرانہ استعمال کے ذریعے اپنے خلاف چلی تحاریک پر قابو پاسکتی ہے۔ریاستی قوت کے حتمی اجارہ دار مگر شہبازشریف کی قیادت میں بنائے بندوبست کو مشورے دے رہے ہیں کہ عمران خان صاحب کو جلسے جلوسوں سے روکا نہ جائے۔ وہ چند ہفتوں بعد خود ہی تھک جائیں گے۔عمران خان صاحب کی توجہ ہٹانے کے لئے تجویز یہ بھی ہے کہ جون میں عوام کے لئے ممکنہ طورپر ’’کمر توڑ‘‘ بجٹ متعارف کروانے اور اسے قومی اسمبلی سے منظورکروالینے کے بعد آئندہ انتخاب کی تاریخ کا اعلان کردیا جائے۔ غالباََ رواں برس کے اکتوبر میں اگر مجوزہ انتخاب کروادئیے گئے تو موجودہ حکومت میں شامل کئی جماعتوں کو میدان میں اُتارنے کے لئے امیدواربھی نصیب نہیں ہوں گے۔مسلم لیگ (نون)بھی اپنے ’’ووٹ بینک‘‘ سے محروم ہونے کے خوف میں مبتلا ہوجائے گی۔اسی باعث لندن میں مقیم نواز شریف تلملائے ہوئے ہیں۔اپنے چھوٹے بھائی کو ’’دوٹکیاں دی نوکری‘‘ سے جان چھڑانے کی ترغیب دے رہے ہیں۔ ان کی دختر نے صوابی کے جلسہ عام میں ’’ہم (مسلم لیگ والے)عمران کی جمع کی ہوئی غلاظت کا ٹوکرا اپنے سرکیوں اٹھائیں‘‘والے سوال کے ذریعے نوازشریف کے دل میں موجزن جذبات کی حقیقی ترجمانی کی ہے۔دیکھنا ہوگا کہ شہباز صاحب ’’اسی تنخواہ‘‘ پر کام جاری رکھنے کو رضامند ہوں گے یا نہیں۔