تبدیلی اور یکسانیت کی شرح

پاکستان میں کبھی بھی کوئی لمحہ ہنگامہ خیزی سے عاری نہیں ہوتا۔حالات کی تبدیلی اور یکسانیت کی شرح یہاں ایک جیسی رہتی ہے۔
موجودہ حالات کے حوالے سے کئی ایک سوالات ذہن میں آتے ہیں۔مثال کے طور پر باب وولمر کا قتل کس نے کیا؟پاکستانی کرکٹ کیوں تنازعات میں گھری ہوئی ہے؟اتنے پاتال میں گر جانے کے بعد اب اسے واپس کیسے لایا جا سکتا ہے؟کیا رانا بھگوان داس کی سربراہی میں سپریم جوڈیشل کونسل چیف جسٹس افتخار چودھری کو”بحال“ کر دے گی؟چیف جسٹس کی ”بحالی“ یا ”برطرفی“کا اثر جنرل مشرف اور عدلیہ پر کیا پڑے گا اورجمہوریت و آمریت کے لئے اس کے نتائج کیا ہوں گے؟اس برس انتخابات منعقد ہوں گے یا پھر انہیں ملتوی کر دیا جائے گا؟کیا جنرل مشرف اگلے برس بھی فوج اور مملکت کی سربراہی پر ایک ساتھ متمکن ہو سکیں گے؟کیا بے نظیر بھٹو وطن واپس آکر انتخابات میں اپنی جماعت کی قیادت کر یں گی؟
کرکٹ کا جہاں تک تعلق ہے تو یہ ہما رے لئے آبِ حیات بھی ہے زہرِ قاتل بھی!ہمارے پسندیدہ ترین ہیروز ہی ہمار ے لئے حقیقتاً ولن بن جاتے ہیں۔انضمام الحق کے لئے پہلے پھولوں کے ہار رکھے گئے تھے لیکن اب ان کی تواضع زبان کے چرکوں کے ساتھ کی جائے گی۔پہلے بہت سارے لوگ باب وولمر اور ان کے پر اسرار لیپ ٹاپ کو ”بے فائدہ“چیزیں قرار دے رہے تھے لیکن اب ہر کوئی ان کی ”غیر ت مند“روح کی مغفرت کے لئے دعا کر رہا ہے۔پی سی بی کے چیئر مین نسیم اشرف مستعفی ہو گئے تھے لیکن اب انہیں اس عہدے پر دوبارہ مقرر کر دیا گیا ہے۔پی سی بی کے سابق چیئرمین توقیر ضیاء کی پویلین میں واپسی ہو گئی تھی لیکن اب ان سے دوبارہ کام لینے کی تیاری ہو رہی ہے۔خدا کا شکر ہے کہ ٹیم کے سابق منیجر ظہیر عباس اپنے موبائل فون کے ساتھ مصروفیت کی بدولت حالیہ دورے پر نہیں جا سکے تھے اور اس لئے اب پی جے میر کو ان تمام تلخ حالات کا سامنا کرنا پڑے گا۔شعیب اورآصف پہلے اس دن کو کوستے تھے جب انہوں نے بعض منشیات استعمال کی تھیں لیکن اب وہ بھی خدا کا شکر ادا کر رہے ہیں کہ وہ اس دورے پر جانے والی ٹیم میں شامل نہیں تھے۔ہماری ٹیم کے اراکین کی داڑھیاں ان کے اتحاد، ایمان اور جوش و جذبے کی علامت تھیں لیکن اب یہی ان کے ڈی این اے ٹیسٹوں اور انگلیوں کے نشانات لئے جانے کا سبب بنی ہیں۔وہ تمام پرانے کرکٹرز جو پہلے پی سی بی میں شامل تھے اب انہیں نکال باہر کر دیا گیا ہے جبکہ اس سے باہر رکھے جانے والوں کو اب واپس لیا جا رہا ہے۔اس سارے معاملے کی تحقیقات تو یقینا ہوں گی لیکن سبق اس سے کوئی بھی حاصل نہیں کیا جا ئے گا۔باب وولمر کے قتل کا اور کوئی تعلق ہمارے کھلاڑیوں، انہیں حلال گوشت سپلائی کرنے والوں، ان کے ہم عقیدہ تبلیغیوں یا پھر ان کے سدا کے مہربان سٹہ بازوں کے ساتھ نکلا تو پھر خدا ہی ہم پر رحم کرے!!
پاکستانی ٹیم کا وقت البتہ وہاں کافی اچھا گزرا ہے!آدھی رات تک وہ لوگ آلو گوشت کے مزے اڑاتے اور پھر سورج چڑھنے تک دعاؤں اور نمازوں میں مگن رہتے!
چیف جسٹس والا معاملے کے خطوط قابلِ اندازہ ہیئت اختیار کر رہے ہیں۔وکلائے صفائی سپریم جوڈیشل کونسل میں متعدد پٹیشنیں پیش کرنا چاہتے ہیں تاکہ مقدمے کو طول دے کر اس کے ذریعے عوامی ہمدردیاں حاصل کی جا سکیں۔ دوسری طرف حکومت بھی اس مقدمے کی طوالت کی خواہاں ہے لیکن اس کا مقصد سڑکوں پر حالات کی تعدیل ہے کیونکہ طوالت سے وکلاء کے احتجاجی جذبات میں تکان آ سکتا ہے۔چیف جسٹس اپنے اس مقدمے کی زیادہ سے زیادہ تشہیر چاہتے ہیں کیونکہ انہیں علم ہے کہ عوامی ہمدردیاں ان کے ساتھ ہیں لیکن حکومت کو اس کا اخفاء مطلوب ہے کیونکہ وہ جانتی ہے کہ ان کے خلاف کاروائی میں عدالتِ عظمیٰ کے اکثر جج خود اپنا فائدہ بھی دیکھ رہے ہیں۔اسی لئے جنرل مشرف اس مقدمے کی تشہیر نہ ہونے پر اصرار کر تے ہیں جبکہ چیف جسٹس صاحب ملک بھر میں بار ایسوسی ایشنوں سے خطاب کرنے کے لئے تیار ہیں۔
اگر رانا بھگوان داس کی سربراہی میں چیف جسٹس کے تقاضے کے مطابق سپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیلِ نو ہوئی اور اس نے پھر چیف جسٹس کو بحال بھی کر دیا تو عوام میں اس کی ساکھ معتبر ہو جائے گی۔تاہم سپریم کورٹ کے ججوں میں چیف جسٹس صاحب کے لئے کوئی حمایت یا ہمدردی نہیں پائی جاتی۔بحال ہونے کے بعد بھی ان کی حیثیت ایک بے اختیار کپتان کی سی ہوگی جس کے ماتحت اور نائبین ہر مرحلے پر انتظامیہ کی ترغیبات کی بدولت ان کے خلاف ایکاکرتے رہیں گے جیسا کہ سابق چیف جسٹس سجاد علی شاہ والے معاملے سے ثابت بھی ہوتا ہے۔مطلب یہ کہ حکومت ان کو بے اختیار کرنے کے دیگر طریقے بھی رکھتی ہے۔ تاہم ان کے برطرف ہونے کی صورت میں حکومت اور عدلیہ دونوں ہی اپنی ساکھ سے محروم ہو جائیں گے اور اس سے انتخابات کے انعقاد ا ور جنرل مشرف کی فوج و مملکت کی سربراہی پر ایک ساتھ متمکن رہنے کی کاوشوں کے پیشِ نظر آئین کے دائرۂ کار و اختیار کو بھی سخت خطرہ لاحق ہو جائے گا!
اس مقدمے کی طوالت اور متعلقہ پٹیشنوں کے فیصلے ایک ایک کر کے حکومت کے حق میں دئیے جانے کا عمل مختصر المیعاد نوعیت کے تمام حکومتی مقاصد کے حصول میں ممد ثابت ہو گا۔اس لئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اپنی برطرفی یا بحالی کے امکانات سے قطع نظر چیف جسٹس صاحب پہلے ہی سے ماضی کا حصہ بننے جا رہے ہیں۔سیاسی جماعتیں یہ باتیں محسوس کر رہی ہیں اور اس کے مطابق انتظامات بھی ان کی جانب سے کئے جا رہے ہیں۔پی پی پی اور اے این پی والے پسِ پردہ پہلے سے ہی جنرل مشرف کے ساتھ ہیں اور بلا جواز طور پر ان کے اقتدار کے لئے خطرات نہیں کھڑے کرنا چاہیں گے۔یہ دونوں ہی کافی عرصے تک طاقت سے محروم رہی ہیں اور بعد از انتخابات دور میں جنرل صاحب کے ساتھ سودے بازیوں میں انہیں بڑا فائدہ متوقع ہے۔جے یو آئی کے بھی جنرل صاحب کے ساتھ تعلق میں پوشیدہ مفادات موجود ہیں۔سرحد اور بلوچستان میں اس کی مقبولیت میں کمی واقع ہوئی ہے اور دوبارہ حکومت میں آنا اس کے لئے قاف لیگ کے ساتھ شراکتِ اقتدار کے ذریعے ہی ممکن ہو سکے گا۔جماعتِ اسلامی کو بھی صوبائی اور قومی پارلیمان میں چند نشستیں حاصل کرنے کے لئے قاف لیگ کی ضرورت رہے گی۔یعنی حزبِ اختلاف کی جماعتوں کا فیصلہ یہ ہے کہ اگر جنرل مشرف کے خلاف کچھ کرنا ان کے لئے ممکن نہیں تو پھر کم از کم انتخابات ہو جانے تک ان کو برداشت کرنا انہیں سیکھنا ہو گا!
ہمارے ملک میں کبھی بھی کوئی لمحہ ہنگامہ خیزی سے عاری نہیں ہوتا۔حالات کی تبدیلی اور یکسانیت کی شرح یہاں ایک جیسی رہتی ہے!!!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: