تجھ پہ کیا کوئی اعتبار کرے

سال 2021 کا یہ میرا آخری کالم ہے۔یوں تو سال 2021 بھی الجھن اور پریشان والا سال گزر ا۔ کورونا ویکسن کے بعد ایک امید جاگی تھی لیکن پل بھر کی خوشی اومی کرون کے پھیلنے سے یوں دھڑام سے گر گئی کہ ایک بار پھرہم مایوس اور پریشان ہوگئے ہیں۔

دنیا بھر میں کورونا وائرس سے لوگوں کی موت اور اس کے وائرس سے جھیلنے والے لوگوں کی کہانیاں سن سن کر اب بھی دنیا میں افراتفری مچی ہوئی ہے۔امیر ترین ممالک دولت کی زور پر ویکسین بنانے میں کامیاب تو ہوگئے لیکن اب بھی اس بات کا خوف دل و ذہن سے نہیں جارہا ہے کہ آخر کورونا سے ہمیں کب نجات ملے گی۔اب تو لوگ کورونا ویکسن کی تیسری بوسٹر ویکسن لگا کر بھی محفوظ نہیں دکھائی دے رہے ہیں۔

دس سال سے ا ب تک میں نے ہر ممکن یہ کوشش کی ہے کہ میں ہر موضوع پر کالم لکھوں اور مجھے اس بات کا یقین بھی ہے کہ میرے کالم پڑھنے والوں کو ہر ہفتے ایک نئے مو ضوع کو جاننے اور پڑھنے کا موقعہ مل رہا ہے۔ میری ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ میرے مضامین کے ذریعہ لوگوں کے معلومات اور علم میں اضافہ ہوتا رہے اور اس کا ثبوت میرے چاہنے والوں کے فون، ای میل اور فیس بُک کے ذریعہ ان کے مفید مشورے اور حوصلہ افزائی سے ہوتا رہتا ہے۔ان کے مشورے اور حوصلہ افزائی نے میرا یہ سفر اب تک جاری و ساری رکھا ہے۔ جس کے لیے میں ان کا شکر گزار ہوں۔سچ پوچھیے تو پچھلے دس برسوں سے کالم لکھنے کا جو سلسلہ جاری ہے اس کی سب سے بڑی وجہ دنیا بھرمیں ہمارے قارئین اور شائقین ہیں۔ جن کی حوصلہ افزائی اور پیار نے مجھ میں ایسا جذبہ پیدا کر رکھا ہے کہ ہم اپنی تمام تر مصروفیت کے باجود ہر ہفتے اپنے پیارے قارئین کے لیے کالم لکھنے سے اب تک تھکے نہیں ہیں۔انہی لوگوں نے مجھے اپنے مشورے اور پیار سے ایک کالم نگار بنایا ہے۔

برطانیہ میں کورونا کی نئی قسم اومی کرون کی نئی لہر اور بڑھتے ہوئے کیسز کے مد نظر اس سال بھی کرسمس کا تہوار کافی پھیکا دِکھ رہا ہے۔پہلے تو کچھ امیدیں جاگی تھیں اور ایسا اندازہ لگایا جارہا تھا کہ کرسمس کے موقعہ پر لوگوں کو کچھ راحت ملے گی۔ تاہم اس کے برعکس اچانک وزیراعظم بورس جونسن کے اس اعلان سے لوگوں میں ایک بار پھر خوف و ہراس بڑھ گیا جب انہوں نے کہا کہ برطانیہ میں کورونا وائرس کی نئی قسم سامنے آنے کے بعد حالت قابوسے باہر ہورے ہیں جس کے لیے انہیں سخت حفاظتی اقدام اٹھانے پڑیں گے۔کئی ممالک نے برطانیہ سے ہوائی سفر بھی معطل کر دیا ہے اور ہسپتالوں میں کورونا سے متاثر مریضوں کی تعداد بھی کافی بڑھ گئی ہے۔اللہ ہی جانتا ہے کہ اس وبا سے ہمیں کب نجات ملے گی۔تاہم یہ بات بھی سچ ہے کہ اس وبا کے ساتھ ہی ہمیں جینا اور مرنا ہے۔

تاہم ایک بارپھر دوا کمپنیوں کی دکان چمک اٹھی ہے اور ہمارے اندرجینے کی امید کو پھر جگایا ہے۔ اب ہم کریں بھی تو کیا کریں۔کہتے ہیں مرتا کیا نہ کرتا۔ہم سب کو توجان پیاری ہے۔امریکی اور جرمن دوا ساز کمپنی فائزر نے کہا کہ ان کی بنائی ہوئی تیسرا شاٹ یا بوسٹر لوگوں کو اومی کرون وائرس قسم کے خلاف تحفظ فراہم کرے گا۔فائزر نے مزید کہا کہ ابتدائی لیبارٹری ٹیسٹوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ بوسٹر اومی کرون وائرس سے لڑنے والے اینٹی باڈیز کی سطح میں پچیس گنا اضافہ ہوا ہے۔ویسے ہمارے رفیق جو لندن کے قریب ویمبلی میں رہائش پزیر ہیں اور جن کی عمر لگ بھگ 70کی ہے، کہہ رہے تھے کہ فہیم بھائی کورونا کے تین ویکسن لے چکا ہوں اور پچھلے دو سال سے گھر میں قید ہوں۔ حال ہی میں ان کے جی پی، ڈاکٹر نے سرجری سے فون کیا کہ مسٹر چودھری آپ کو ایک اور کورونا ویکسن لینا ہوگا۔چودھری صاحب نے اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہر تین مہینے پر ہمیں ویکسن لگا لگا کر پریشان کر رکھا ہے جبکہ کورونا سے نجات کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی ہے۔

ان باتوں کے علاوہ برطانوی وزیراعظم بورس جونسن بھی ایک تنازعہ میں پھنس گئے ہیں۔ گزشتہ ہفتے برطانوی اخبار ’مِیرر‘ نے ایک خبر شائع کی تھی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ گزشتہ سال کرسمس کے موقع پر بورس جونسن کی ڈاؤننگ اسٹریٹ رہائش گاہ پر پارٹیاں منعقد کی گئی تھیں۔جس میں درجنوں افراد شراب پی رہے تھے اور پارٹی شباب پر تھی۔دراصل یہ باتیں اس وقت ہوئی جب برطانیہ میں کورونا کی دوسری لہر سے کوویڈ تیزی سے پھیل رہا تھا اور روزانہ سینکڑوں لوگ مر رہے تھے اور بورس جونسن کی حکومت نے لوگوں کو پارٹیوں کی اجازت نہیں دی تھی۔اس رپورٹ کے سامنے آنے سے لوگوں میں کافی ناراضگی پائی جارہی ہے اور سیاسی پارٹیوں نے بورس جونسن پر سولات کے بوچھاڑ کر دی ہے۔بہت سارے اخبارات نے بورس جونس کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے کیونکہ انہوں نے برطانوی لوگوں کو دھوکہ دیا ہے جس سے لوگ کافی ناراض ہیں۔

ان باتوں کے علاوہ کرسمس تہوار منانے اور کورونا وائرس کی نئی قسم اومی کرون کے مد نظر حکومت ایک بار پھر کرسمس پارٹیوں کو نہ منانے کی اپیل کر رہی ہے۔ تاہم وہیں بورس جونسن کی منافقت اور اوٹ پٹانگ بیانات سے ان کی پارٹی کے ایم پی تو ہیں ہی ناراض اور ساتھ ہی عام لوگوں کا بھی غصہ بھڑک اٹھا ہے۔حکومت کے وزراء اپنے اپنے طور پر کرسمس پارٹی منانے اور نہ منانے کی اپیل سے لوگوں کی پریشانی کو بڑھا دیا ہے اور ان کو الجھن میں ڈال دیا ہے۔حکومت کی بوکھلاہٹ اور جھجھک سے عاجز آکر زیادہ تر کمپنیوں نے کرسمس پارٹی معطل کر دیا ہے۔ جس سے ریسٹورینٹ والوں کا کافی نقصان ہوا ہے۔تاہم شاپنگ سینٹر اب بھی کھلے ہیں جس سے کارباریوں اور عام لوگوں کو کچھ راحت ملی ہے۔

عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ برطانیہ میں کرسمس کا تہوار لوگ مذہبی اعتبار سے کم بلکہ روایتی اعتبار سے زیادہ مناتے ہیں۔د سمبر کے مہینے میں دکانوں میں خرید و فروخت کافی بڑھ جاتی ہے۔ ان دکانوں میں (John Lewis,Selfridges,Harrods)، جون لوویس،سیلف ریجیز اور ہیروڈس معروف نام ہیں جہاں بھاری تعداد میں لوگ شاپنگ کرتے ہیں۔تاہم برطانیہ میں آن لائن شاپنگ کے رحجان سے شاپنگ سینٹر کی بھیڑ میں اس بار کمی پائی جارہی ہے۔ اس کے علاوہ کوروناکی نئی قسم اومی کرون کی وجہ سے بھی زیادہ تر لوگ دکانوں میں جانے سے گریز کر رہے ہیں۔کرسمس کے دن گھروں میں زیادہ تر لوگتَرکی (جو مرغ کی نسل سے بڑا ہوتا ہے) پکاتے ہیں۔ اس کے ساتھ کئی قسم کی سبزیاں بھی ہوتی ہیں اور ساتھ میں شراب کا بھی انتظام ہوتا ہے۔ اُس دن لوگ نئے کپڑوں میں ملبوس ہوتے ہیں اور زیادہ تر لوگ اپنے گھروں میں بیٹھ کر ٹیلی ویژن پر مزاحیہ پروگرام یا فلم دیکھتے ہیں۔ اس دن پبلک ٹرانسپورٹ مکمل بند ہوتا ہے لیکن ائیر پورٹ کھلا رہتا ہے جہاں سے لاکھوں لوگ اپنے منزل و مقصود کے لئے پرواز کرتے ہیں۔

کرسمس میں لوگ اپنے گھروں کو رنگ برنگے بتیوں سے سجاتے ہیں اور کئی علاقوں میں گھروں کی بہترین سجاوٹ کے لئے انہیں انعام سے بھی نوازا جاتا ہے۔ گھروں میں کرسمس ٹری بھی لگا یا جاتا ہے جو کہ کرسمس تہوار کی ایک علامت سمجھی جاتی ہے۔اس موقعہ پر بہت سارے لوگ فادر کرسمس کی بھیس میں بچوں کو تفریح کا سامان پیش کرتے ہیں اور مقامی چیریٹی کے لئے پیسہ بھی اکھٹا کرتے ہیں۔پورے دسمبر کے مہینے میں چیریٹی گروپ کیرول(کرسمس کے گیت) گا کر چیریٹی کے لئے پیسہ جمع کرتے ہیں۔ کرسمس کے دوسرے روز باکسنگ ڈے ہوتا ہے جس دن لوگ تحفہ کو کرسمس ٹری کے قریب رکھ دیتے ہیں جسے بچے صبح اٹھ کر کھولتے ہیں۔ اس دن زیادہ تر دکانوں میں باکسنگ ڈے سیل بھی لگتا ہے جہاں لوگ سستے داموں میں سامان خریدنے کے لئے جاتے ہیں۔

خیر کرسمس کا تہوار ہو یا نہ ہو،لوگ خوشیاں منائے یا نہ منائے۔اب تو ہمارا اعتبارسیاستداں، سائنسداں اور کورونا کے بار بار آنے سے ہر چیز سے اُٹھ چکا ہے۔ وزیراعظم بورس جونسن کی منافقت اور چھپ چھپ کر پارٹی کرنے کی وجہ سے بھی لوگوں کا اعتبار حکومت سے اُٹھ چکا ہے۔فی الحال لوگوں میں اومی کرون سے ایسا خوف پھیل گیا ہے کہ حکومت کے لاک ڈان نہ کرنے کے باوجود لوگ مارے خوف کے گھروں میں خود ہی مقید ہوگئے ہیں۔کورونا وائرس کی نئی قسم اومی کرون کی خوف، حکومت کی غیر ذمہ دارانہ بات اور کرسمس کی پارٹی کو معطل کرنے کی وجوہات نے ایک بار پھر برطانیہ میں مایوسی کی لہر دوڑا دی ہے۔ کورونا وبا کی آنکھ مچولی نے ہم سب کی زندگی کو الجھن اور مایوسی کے ساتھ گھروں میں مقید کر رکے رکھ دیا ہے۔ جب بھی ہم زندگی کو معمول پر لانے کی سوچتے ہیں تب تب ہمیں ایک دھچکا سالگ رہا ہے۔ جس سے فی الحال نکلنا دشوار دِکھ رہا ہے۔بس اللہ پر بھروسہ ہے اور امید پر دنیا قائم ہے۔

میں اس بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ معاشرے سے کورونا وبا سے جو تبدیلیاں ہو رہی ہیں وہ ممکن ہے اب طرزِ زندگی بن جائے۔ لوگوں میں جہاں طرز ِزندگی میں بدلاؤ آیا ہے وہیں اس کے ساتھ معاشرے میں الجھنیں اور پریشانیاں بڑھی ہیں۔ میں آپ سب کو نئے سال کی پیشگی مبارک باد پیش کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ آنے والا سال ہم سب کے لئے نیک ہو اور کورونا سے پاک ہو اورخوشیوں سے بھرا ہو۔ نیا سال مبارک ہو۔اپنے اس شعر سے آج کی بات ختم کرتا ہوں:
تجھ پہ کیا کوئی اعتبار کرے
دلِ ناداں کو شرمسار کرے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: