تحریکِ عدم اعتماد مگر کیسے؟

گزرے ہفتے کے دن چند دوستوں کے ہمراہ اسلام آباد سے ندیم افضل صاحب کے گائوں جانے کا اتفاق ہوا۔موٹروے پر سفر کرتے ہوئے چائے پانی کے لئے کلرکہار رکے۔ سفر جاری رکھنے سے قبل میری دو صحافی ساتھی باتھ روم گئیں تو وہاں سے واپسی کے بعد اپنی ہنسی روک نہیں پارہی تھیں۔ خود پر تھوڑا قابو پانے کے بعد بالآخر انہوں نے رپورٹ کیا کہ ان کے ہمراہ دو اور خواتین بھی باتھ روم میں داخل ہوئی تھیں۔اندر داخل ہوتے ہی ان میں سے ایک نے موبائل نکال کر کسی کو فون ملایا اور دوسری جانب موجود شخص کو مطلع کیا کہ باہر ایک گاڑی کے پاس دو ’’چولّ‘‘ بھی کھڑے تھے۔ یاد رہے کہ روزمرہّ پنجابی میں یہ لفظ ’’گھٹیا‘‘ کا بہت ہی پراثر متبادل ہے۔

’’چولّوں‘‘ کے نام انہوں نے مصدق ملک اور ’’صحافی نصرت جاوید‘‘ بتائے۔اس خواہش کا اظہار بھی کیا کہ انہیں ہمارے پاس رک کر پوچھنا چاہیے تھا کہ وہ ’’(عمران خان صاحب کے خلاف) اتنی بکواس کیوں کرتے ہیں؟‘‘مذکورہ خواہش کو بروئے کار نہ لانے کے سبب دل میں جمع ہوئے غصے کو غالباََ انہوں نے فون پر ہوئی گفتگو کے ذریعے نکالنے کی کوشش کی۔ ان کے ساتھ کھڑی ایک نسبتاََ جواں سال بچی اگرچہ انہیں دبے لفظوں میں سمجھاتی رہی کہ ’’پھوپھو آپ کیسی باتیں کررہی ہیں۔‘‘میری ساتھیوں نے لطف مگر اپنے ’’دوست‘‘ کی تضحیک سے اٹھایا۔ میں سمجھ ہی نہیں پایا کہ ’’اسے شہرت کہوں یا اپنی رسوائی…‘‘۔

مسلم لیگ (نون)کے سینیٹر مصدق ملک کے خلاف ایسی نفرت سمجھی جاسکتی ہے۔موصوف تقریباََ ہر شام کسی نہ کسی ٹی وی سکرین پر رونما ہوئے لہوری ڈھٹائی کے ساتھ اپنی جماعت کا مؤقف بیان کرتے ہوئے ثابت قدمی سے اس کا دفاع کرنے میں مصروف رہتے ہیں۔مجھے ٹی وی سکرینوں سے غائب ہوئے مگر تین سے زیادہ برس گزرچکے ہیں۔گوشہ نشین ہوا محض یہ کالم لکھتا ہوں۔ عمران خان صاحب کے مداحین کو اس کے ذریعے اشتعال دلانے سے بھی دانستہ اجتناب برتتا ہوں۔ اندھی نفرت وعقیدت پر مبنی تقسیم نے دل کو بلکہ بیزار کررکھا ہے۔شخصیات کو نظرانداز کرتے ہوئے سنجیدہ ترین معاملات کے حوالے سے چند سوالات اٹھانے کی کوشش کرتا ہوں۔معافی مگر اب بھی نصیب نہیں ہورہی۔

غضب بھرے دل اس امر پر بھی توجہ نہیں دے رہے کہ عمران خان صاحب کے انداز سیاست کے بارے میں ہزاروں تحفظات کے باوجود میں کامل غیرجانبداری سے اپوزیشن کے اس منصوبے پر سوالات اٹھائے چلاجارہا ہوں جو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے انہیں وزارت عظمیٰ کے منصب سے فارغ کرنا چاہ رہا ہے۔مجھے یہ منصوبہ کامیاب ہوتا نظر نہیں آرہا۔ فرض کیا یہ کامیاب ہو بھی گیا تو عمران خان صاحب کی جگہ وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے والا شخص آنے والے دنوں میں جان لیوا ہوتی مہنگائی کا حتمی ذمہ دار تصور ہوگا۔ اپنے منصب سے تحریک عدم اعتماد کی بدولت ہٹائے جانے کے بعد عمران خان صاحب بھی مزید غضب ناک ہوجائیں گے۔شہر شہر جاکر دہائی مچانا شروع ہوجائیں گے کہ سازشی مگر ’’کرپٹ مافیا‘‘ باہمی اختلافات بھلاکر ان جیسے دیانت دار سیاست دان کے خلاف یکجا ہوگیا۔ انہیں آئینی مدت پوری کرنے نہیں دی گئی۔ ہماری سیاست میں اس کی وجہ سے پہلے سے موجود تلخیاں شدید تر ہونا شروع ہوجائیں گی۔

تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد اگر نیا وزیر اعظم قومی اسمبلی تحلیل کرنے کا اعلان بھی کردے تو پنجاب،بلوچستان، خیبرپختونخواہ اور سندھ میں صوبائی حکومتیں اور اسمبلیاں اپنی جگہ برقرار ہیں گی۔ان کے ہوتے ہوئے محض قومی اسمبلی کے لئے ہوئے عام انتخابات کے منصفانہ اور شفاف ہونے کی بابت سینکڑوں سوالات اٹھائے جاسکتے ہیں۔سیاسی اعتبار سے یوں وطن عزیز مزید عدم استحکام کی زد میں آسکتا ہے۔

سوال مگر یہ اٹھتا ہے کہ تحریک عدم اعتماد کے تناظر میں جو خیالات میرے ذہن میں امڈ رہے ہیں انہیں مسلم لیگ (نون) اور پیپلز پارٹی میں موجود سیاست دانوں کو جبلی طورپر مجھ سے کہیں بہتر انداز میں جان لینا چاہیے تھا۔ آصف علی ز رداری صاحب ’’سٹریٹ سمارٹ‘‘ اور ’’سب پہ بھاری‘‘ تصور ہوتے ہیں۔2018ء کے بعد سے البتہ عملاََ گوشہ نشینی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ان کی صحت بھی آرام کا تقاضہ کرتی ہے۔اس کے باوجود وہ متحرک ہوئے اور شہباز شریف صاحب کے ہاں عمران خان صاحب کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے ہٹانے کا منصوبہ لے کر پہنچ گئے۔

آصف علی زرداری کی طرح شہباز شریف صاحب بھی محلاتی سازشوں کو وطن عزیز میں حکومتیں بنانے اور گرانے کا کلیدی سبب تصور کرتے ہیں۔سازشیں ’’مقتدر‘‘ کہلاتی قوتوں کی سرپرستی کے بغیر کامیاب نہیں ہوتیں۔ ہمارے ہاں بلکہ محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ نے تن تنہا ستمبر1989ء میں اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد کو کامیاب نہیں ہونے دیا تھا۔حالانکہ اس وقت ان کی حکومت ہٹانے کو ان دنوں کے بااختیار صدر غلام اسحاق خان، پنجاب کے متحرک وزیر اعلیٰ نواز شریف اور آرمی چیف یکجاہوچکے تھے۔ میں ان دنوں ضرورت سے زیادہ متحرک رپورٹر ہوا کرتا تھا۔تخت یا تختہ والی جنگ کے دونوں فریقین کی چالوں سے ہمہ وقت آگاہ۔ایسی آگہی کے باوجود میں اس وقت بہت حیران ہوا جب تحریک عدم اعتماد کی وجہ سے محترمہ بے نظیر بھٹو کو اپنے مخالفین سے چار بہت ہی تگڑے سیاستدانوں کی حمایت بھی میسر ہوگئی۔

1989ء کے مقابلے میں عمران حکومت کہیں زیادہ طاقت ور ہے۔ وفاق کے علاوہ وہ پنجاب اور خیبرپختونخواہ کی حکومت بھی سنبھالے ہوئے ہے۔ان تینوں حکومتوں کے بے پناہ وسائل اور انتظامیہ باہم مل کر عمران خان صاحب کے خلاف پیش ہوئی تحریک عدم اعتماد کو بآسانی ناکام بناسکتے ہیں۔سوال مگر دوبارہ اٹھتا ہے کہ ’’بنیادی‘‘ نظر آنے والے یہ حقائق آصف علی زرداری اور شہباز شریف جیسے کائیاں سیاستدانوں کی نگاہوں سے کیوں اوجھل ہیں۔

انتہائی قابل اعتماد ذرائع سے گفتگو کے بعد میں پورے اعتماد سے یہ بھی لکھ سکتا ہوں کہ لندن میں مقیم میاں نواز شریف گزشتہ کئی ماہ سے تحریک عدم اعتماد والی تجویز کو رد کرتے رہے ہیں۔اب کی بار مگر انہوں نے محترمہ مریم نواز صاحبہ کو اس ملاقات میں موجود ہونے کا حکم دیا جو گزرے ہفتے آصف علی زرداری اور شہباز شریف کے مابین ہوئی ہے۔ایسی ’’علامتی‘‘حمایت کے باوجود لندن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وہ ذاتی طورپر بھی واضح انداز میں تحریک عدم اعتماد والے منصوبے کی حمایت کرتے سنائی دئیے۔

پندرہ سے زیادہ متحرک صحافیوں اور سیاستدانوں سے تفصیلی گفتگو کے باوجود میں ابھی تک سمجھ نہیںپایا ہوں کہ رواں مہینے کا آغاز ہوتے ہی تحریک عدم اعتماد کا جال بچھانے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی ہے۔ایک اہم عہدے پر ’’تعیناتی‘‘ یا اس میں ’’توسیع‘‘ کو اس کا واحد سبب بتانے کی کوشش ہورہی ہے۔میرا جھکی ذہن مگر مذکورہ توجیہہ پر اعتبار کرنے کو آمادہ نہیں ہورہا۔