تحریکِ لبیک پاکستان پر حکومتی پابندی کتنی موثر ثابت ہوگی؟

مذہبی جماعت تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے پرتشدد مظاہروں اور احتجاج کے بعد وزارت داخلہ نے تنظیم پر 1997 کے انسداد دہشت گردی قانون کے تحت پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ اعلان کرتے ہوئے وزیر داخلہ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے یہ فیصلہ پنجاب حکومت کی سفارش پر کیا گیا اور اس پر عملدرآمد کے لیے سمری کابینہ کو منظوری کے لیے بھیج دی گئی ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ حکومت نے الیکشن کمیشن آف پاکستان میں رجسٹرڈ جماعت تحریک لبیک پاکستان پر پابندی عائد کی ہے لیکن پابندی انسداد دہشتگری کے قانون 1997 کے رولز 11 بی تحت لگائی ہے جس کے لیے صرف کابینہ کی منظوری درکار ہوتی ہے۔

وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ اس پابندی کے تحت ان کی تمام سیاسی سرگرمیوں پر پابندی ہوگی اور ان کے مالی اثاثے منجمد کر دیے جائیں گے۔

وزارت داخلہ کی طرف سے جاری ہونے والی ایک اور رپورٹ کے مطابق پاکستان تحریک لبیک کی جانب سے گذشتہ تین دن سے جاری پرتشدد مظاہروں کے دوران ملک بھر سے 2135 افراد گرفتار کیے گئے جن میں سے 1669 پنجاب اور 228 سندھ سے گرفتار کیے گئے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خیبرپختونخوا سے 193 اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے 45 افراد گرفتار ہوئے جبکہ گرفتار افراد کے خلاف انسداد دہشت گردی کے مقدمات قائم کیے گئے ہیں۔

تحریک لبیک کی بطور تنظیم پاکستان میں موجودگی

اس سے پہلے کہ ان تفصیلات میں جائیں کہ یہ پابندی تحریک لبیک پاکستان کی سرگرمیوں پر کیسے اثرانداز ہوگی، پہلے اس تنظیم کے مفصل تعارف اور اس کی پاکستانی معاشرے میں موجودگی پر ایک نظر ڈال لیتے ہیں۔

تحریک لبیک پاکستان کی بنیاد خادم حسین رضوی نے 2017 میں رکھی۔ بریلوی سوچ کے حامل خادم حسین رضوی محکمہ اوقاف کی ملازمت کرتے تھے اور لاہور کی ایک مسجد کے خطیب تھے۔

لیکن 2011 میں جب پنجاب پولیس کے گارڈ ممتاز قادری نے گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو قتل کیا تو انھوں ممتاز قادری کی کھل کر حمایت کی جس کے نتیجے میں پنجاب کے محکمہ اوقاف کی جانب سے انھیں نوکری سے فارغ کر دیا گیا۔

اس کے بعد نہ صرف خادم حسین رضوی نے ناموس رسالت قانون اور آئین کی شق 295سی کے تحفظ کے لیے تحریک چلائی بلکہ ممتاز قادری کی رہائی کے لیے بھی سرگرم رہے اور جنوری 2016 میں ممتاز قادری کے حق میں حکومتی اجازت کے بغیر علامہ اقبال کے مزار پر ریلی کا انعقاد بھی کیا۔

تحریک لبیک

اسی سال جب ممتاز قادری کو پھانسی دے دی گئی تو اس کے خلاف احتجاج کے لیے اسلام آباد کے ڈی چوک کا رخ کیا تاہم حکومت سے مذاکرات کے بعد یہ احتجاج چار دن کے اندر ہی ختم کر دیا گیا۔

اسی دھرنے کے اختتام پر مولانا خادم رضوی نے اعلان کیا تھا کہ وہ 'تحریک لبیک پاکستان یا رسول اللہ' کے نام سے باقاعدہ مذہبی جماعت کی بنیاد رکھیں گے۔

ابھی الیکشن کمیشن کی جانب سے تحریک لبیک پاکستان کو بطور سیاسی جماعت رجسٹر بھی نہیں کیا گیا تھا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کی نااہلی کے بعد خالی ہونے والی این اے 120 کی نشست پر جب ضمنی الیکشن ستمبر 2017 میں ہوئے تو جماعت کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار شیخ اظہر حسین رضوی نے انتخاب میں حصہ لیا اور 7130 ووٹ حاصل کیے جو جماعت اسلامی اور پیپلز پارٹی کے امیدواروں سے بھی زیادہ تھے۔

اس کے بعد تحریک لبیک نے مولانا خادم رضوی کی قیادت میں اس وقت کے وزیر قانون زاہد حامد اور الیکشن ایکٹ 2017 میں مجوزہ ترامیم کے خلاف اسلام آباد کا ایک بار پھر رخ کیا اور نومبر 2017 میں راولپنڈی اور اسلام آباد کے سنگم، فیض آباد پر رسالت کے قانون میں ترمیم کے خلاف ایک طویل لیکن بظاہر کامیاب دھرنا دیا جس نے نہ صرف مولانا خادم رضوی بلکہ تحریک لبیک پاکستان کی شہرت میں بےحد اضافہ کیا۔

اس دھرنے کے نتیجے میں وزیر قانون کو استعفی دینا پڑا اور حکومت نے پہلی بار ٹی ایل پی کے ساتھ ان کے مطالبات تسلیم کرتے ہوئے معاہدہ کیا۔

تحریک نے اس شہرت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے 2018 کے عام انتخابات میں چاروں صوبوں میں اپنے امیدوار کھڑے کرنے کا اعلان کیا اور قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر کل 559 امیدوار کھڑے کیے جن میں سے دو امیدوار سندھ اسمبلی کی دو نشستوں پر کامیاب بھی ہوئے جبکہ ایک امیدوار نے مخصوص نشست حاصل کی۔

قومی اسمبلی کے انتخابات میں ان کی جماعت ووٹوں کے اعتبار سے ملک میں پانچویں بڑی جماعت تھی اور انھیں 22 لاکھ سے زیادہ ووٹ ملے تھے۔

اس طرح تحریک کے اس وقت تین ممبر صوبائی اسمبلی بھی موجود ہیں۔ اس کے علاوہ مولانا خادم رضوی کا لاہور میں ایک مدرسہ جامعہ ابوزر غفاری بھی موجود ہے۔

لبیک

خادم رضوی کی نومبر 2020 میں وفات کے بعد ان کی جماعت نے ان کے بیٹے سعد رضوی کو تحریک لبیک کا نیا سربراہ مقرر کیا۔

فرانسیسی سفیر کی ملک بدری اور فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کے حوالے سے خادم رضوی کی قیادت میں تحریک لبیک نے گذشتہ برس نومبر میں دھرنا دیا اور اس کے بعد حکومت کے ساتھ پہلا معاہدہ نومبر 2020 میں کیا۔

خادم حسین رضوی کی وفات کے بعد فروری 2021 میں سعد رضوی کی قیادت میں حکومت نے جماعت کے ساتھ ان کے مطالبات کے حوالے سے دوسرا معاہدہ کیا۔

اس کے تحت حکومت نہ صرف 20 اپریل 2021 تک فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنے کے لیے تحریک پارلیمان میں پیش کرے گی بلکہ فورتھ شیڈیول میں شامل تحریک لبیک کے تمام افراد کے نام بھی فہرست سے خارج کر دیے جائیں گے۔

تحریک لبیک پاکستان کی دیگر سیاسی جماعتوں کی طرح سوشل میڈیا پر سرگرم ہے۔

تحریک کے سابق سربراہ خادم رضوی کا ٹوئٹر اکاونٹ جس پر لاکھوں فالورز موجود تھے حکومت پاکستان کی شکایت پر بند کر دیا تھا لیکن تنظیم کے فیس بک اور ٹوئٹر پر اب بھی متعدد اکاؤنٹس اور صفحے موجود ہیں جبکہ یوٹیوب پر دو آفیشل چینلز ہیں جن کے 12 ہزار سے زائد فالوورز ہیں۔

ان سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے تنظیم نہ صرف عوام کو احتجاجی دھرنوں کے لیے حرکت میں لاتی ہے بلکہ یہ نظیم کا نظریہ عام کرنے اور اس کے لیے امداد اکھٹی کرنے کا بھی اہم ذریعہ ہے۔

تحریک لبیک پر پابندی کے بعد کیا ہوگا؟

وزارت داخلہ کی جانب سے تحریک لبیک پاکستان پر انسدادہشگردی کے قانون 1997 کی شق نمبر 11 B کے تحت پابندی عائد کی گئی ہے اور اس وقت پاکستان میں 78 تنظیمیں اور ہیں جن پر اس قانون کے تحت پابندی عائد ہے۔

اس قانون کے تحت جب کسی جماعت یا تنظیم پر پابندی عائد کی جاتی ہے تو اسے فرسٹ شیڈیول کی فہرست میں شامل کیا جاتا ہے اور فہرست میں شامل تنظیم کے تمام سیاسی دفاتر سیل کر دیے جاتے ہیں اور ان میں موجود تمام آفس ریکارڈ اور مواد بھی تحویل میں لے لیا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ تنظیم کے تمام مالی اثاثے بھی منجمد کر دیے جاتے ہیں۔ تنظیم کو الیکشن یا کسی اور سیاسی سرگرمی میں حصہ لینے کی اجازت نہیں ہوتی اور نہ ہی یہ تنظیم کسی فلاحی یا مذہبی مقاصد کے لیے مالی امداد اکھٹا کر سکتی ہے۔

اس کے علاوہ میڈیا تنظیم یا کوئی بھی شخص جو کلعدم تنظیم کے پیغام کو پھیلانے میں مدد فراہم کرے گا اس کے خلاف بھی کاروئی کی جا سکتی ہے۔

تحریک لبیک پاکستان پابندی کے خلاف کیا کر سکتی ہے؟

اگرچہ حکومت کی جانب سے تنظیم پر پابندی عائد کرنے کی تیاریاں مکمل کی جا چکی ہیں لیکن تحریک لبیک پاکستان تیس دن کے اندر اندر اس فیصلے کے خلاف وزارت داخلہ میں اپیل دائر کر سکتی ہے۔

تنظیم کی اس اپیل پر وزارت داخلہ کی ایک کمیٹی جائزہ لے گی اور اگر یہ کمیٹی بھی اپیل مسترد کر دیتی ہے تو اس فیصلے کے تیس دن کے اندر اندر تحریک لبیک پاکستان ہائی کورٹ سے بھی رجوع کر سکتی ہے۔

لاہور تحریک لبیک

کیا یہ پابندی تحریک لبیک کی سرگرمیاں مکمل ختم کر دے گی؟

حکومت کی جانب سے ماضی میں بھی متعدد سیاسی و مذہبی جماعتوں اور تنظیموں پر پابندی عائد کی جا چکی ہے۔ پاکستان کے انسداد دہشتگری کے ادارے نیکٹا کے سابق سربراہ احسن غنی اور اسلام آباد کی نیشنل ڈیفینس یونیورسٹی میں انسداد دہشتگری کے پروفیسر اور شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے سربراہ ڈاکٹر خرم اقبال کے خیال میں تحریک لبیک پاکستان کے خلاف یہ پابندی شاید زیادہ موثر ثابت نہ ہو سکے۔

ڈاکٹر خرم اقبال کا کہنا ہے کہ حکومت کو تنظیم کی سرگرمیوں کو مکمل طور پر روکنے میں متعدد چیلینجز کا سامنا ہوگا۔ سب سے پہلی دشواری تو یہ ہے کہ ماضی کی طرح بہت زیادہ امکانات ہیں کہ یہ تنظیم کسی دوسرے نام سے اپنی سرگرمیاں شروع کر دے لیکن اچھی بات یہ ہے کہ گذشتہ چند سالوں میں قوانین میں ایسی تبدیلیاں لائی گئی ہیں جو تنظیموں کے نام بدل کر کام کرنے سے روکنے میں موثر ثابت ہوسکتی ہیں۔

اس کے علاوہ جماعت الدعوۃ ،لشکرِ طیبہ یا دیگر کلعدم تنظیموں کی طرح اس تنظیم کے باقاعدہ فلاحی اور امدادی ادارے موجود نہیں جس کی وجہ سے حکومت کے لیے تنظیم کے مالی اثاثوں کا پتہ چلانا مشکل ہوگا۔

اس کے علاوہ مالی طور پر تحریک لبیک پاکستان کا زیادہ تر انحصار ایسے مخیر خضرات کے چندے پر ہے جو آج تک سامنے نہیں آئے اور جس کا شاید ریکارڈ موجود نہ ہو ۔ ان لوگوں کی نشاندہی کرنا اور ان کی امداد کو تنظیم تک پہنچنے سے روکنا بھی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلینج ہوگا۔

اسی طرح تحریک لبیک پاکستان سے جڑے مدارس کی نشاندہی بھی حکومت کے لیے ایک مسئلہ ہوگی کیونکہ جب بھی تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے مظاہرے کیے گئے ان میں بریلوی مسلک سے تعلق رکھنے والے مدارس کے طلباء کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔

لیکن اب یہ جاننا کہ در اصل کتنے اور کون سے ایسے مدارس ہیں جو اس تنظیم کے ساتھ منسلک ہیں اور پھر ان کے خلاف کارروائی کرنا ایک کٹھن مرحلہ ہوگا۔

اس کے علاوہ یہ تنظیم سوشل میڈیا پر بھی بہت سرگرم اور متحرک ہے اور اپنے نظریات کو اس کے ذریعے عام کرنے میں کوشاں ہے لہذا سوشل میڈیا پر ان کی موجودگی کو کنٹرول کرنا اور نفرت آمیز مواد کے پھیلاؤ کو روکنا بھی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلینچ ہوگا۔

تحریک لبیک

انسداد دہشتگری کے ادارے نیکٹا کے سابق سربراہ احسان غنی کا کہنا ہے کہ ان کے تجربہ کے مطابق تنظیموں کو کلعدم قرار دینا اور ان پر پابندی عائد کرنا ان کی سرگرمیوں کو روکنے میں زیادہ موثر ثابت نہیں ہوا کیونکہ یہ تنظیمیں پابندی عائد ہونے کے بعد کسی نئے نام سے اپنی سرگرمیاں شروع کر دیتی ہیں۔

احسان غنی کے مطابق تنظیم پر پابندی عائد کرنے سے کئی زیادہ موثر اقدام شخصیات پر پابندی عائد کرنا ہے کیونکہ پاکستان میں اس وقت کوئی ایسا قانون موجود نہیں جو تنظیم کے افراد کو الیکشن لڑنے سے روکے لہذا اس پابندی کے بعد تحریک لبیک بطور سیاسی جماعت تو شاید الیکشن میں حصہ نہ لے سکے لیکن اس تنظیم کے افراد آزاد حیثیت میں الیکشن لڑ سکتے ہیں۔

احسان غنی کا کہنا افراد اور تنظیموں پر پابندی عائد کرنے کا ایک جامع نظام موجود ہے لیکن اکثر ہی حکومت بغیر تیاری کے اور اجلت میں شخصیات اور تنظیموں پر پابندی عائد کرتی ہے۔

’ہم نے دیکھا کہ حکومت صرف ایک معاہدے کے نتیجے میں تحریک لبیک پاکستان کے لوگوں کے نام فورتھ شیڈیول سے نکالنے پر آمادہ ہوگئی۔ اس طرح لگائی اور ہٹائی جانے والی پابندیاں کبھی موثر ثابت نہیں ہوتیں۔‘

احسان غنی کا کہنا ہے کہ اس پابندی پر عملدرآمد کا دارومدار اس بات پر منحصر کہ حکومت ان کی سرگرمیاں روکنے میں کتنی سنجیدہ ہے کیونکہ حکومت سمیت دیگر سیاسی جماعتوں میں تحریک لبیک پاکستان کو سپورٹ کرنے والے افراد آج بھی موجود ہیں۔

اگر حکومت ان کی سرگرمیاں کو روکنے میں واقعی سنجیدہ ہے تو اسے چاہیے کہ تشدد پر اکسانے اور تشدد میں ملوث افراد کی نشاندہی کرے اور ان کے خلاف مقدمے درج کر کے انھیں سخت سزائیں دلوائی جائیں۔ ورنہ ماضی کی طرح یہ پابندی بھی تنظیم کی سرگرمیوں کو روکنے میں کوئی خاطر خواہ بدلاؤ نہیں لائے گی۔

error: