’’تخت نہ مِلدے منگے‘‘

پیر کی شام بھی قومی اسمبلی کا اجلاس ہو نہیں پایا۔طویل انتظار کے بعد چند اراکین جمع ہوئے تو کارروائی کا آغاز ہوا۔ چند ہی لمحے گزرنے کے بعد مگر اپوزیشن کے ایک رکن نے کورم کی نشاندہی کردی۔ حکومتی بنچوں پر مطلوبہ اراکین موجود نہیں تھے اور اجلاس کو مؤخر کردیا گیا۔کورم نہ ہونے کی وجہ سے اجلاس مؤخر ہونے کا یہ سلسلہ گزشتہ بدھ کے روز سے جاری ہے۔ہمیں اگرچہ یہ بتایا گیا تھا کہ رواں اجلاس معاشی حوالوں سے اہم ترین ہوگا۔پاکستان کو اپنی معیشت سنبھالنے اور عالمی منڈی میں ساکھ برقرار رکھنے کے لئے آئی ایم ایف سے ایک ارب ڈالر کی رقم درکار ہے۔مذکورہ رقم کے حصول کے لئے عالمی معیشت کے نگہبان ادارے کی عائد کردہ چند شرائط پر عملدرآمد ضروری ہے۔ ساڑھے تین سو ارب روپے کے نئے ٹیکس لگانا ہیں۔ ترقیاتی منصوبوں کے لئے مختص رقم میں 22فی صد کٹوتی ہوگی۔ ماہرین معیشت کا اندازہ ہے کہ اجتماعی طورپر حکومت پاکستان کو گلشن کا کاروبار چلانے کے لئے میرے اور آپ جیسے پاکستانیوں سے اجتماعی طورپر اب مزید 600ارب روپے کسی نہ کسی صورت جمع کرنا ہوں گے۔

سیاسی مبصرین کی اکثریت یہ طے کر چکی تھی کہ قومی اسمبلی میں تحریک انصاف اور اس کے اتحادیوں کے لئے مختص نشستوں پر براجمان افراد عوام پر مزید معاشی بوجھ ڈالنے کو آمادہ نہیں۔خیبرپختونخواہ کے بلدیاتی انتخاب کے نتائج نے انہیں پیغام دیا ہے کہ عوام مہنگائی کی نہ تھمنے والی لہر سے اکتا گئے ہیں۔منی بجٹ مذکورہ لہر کو شدید تربناسکتا ہے۔اس سے گھبرا کر عوام آئندہ انتخابات میں تحریک انصاف کے نامزد کردہ امیدواروں کو ووٹ دینے سے گریز کریں گے۔خود کو ووٹروں کے ممکنہ غضب سے محفوظ رکھنے کے لئے تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے اراکین اسمبلی لہٰذا ایوان میں آنے سے گھبرارہے ہیں۔چند دن قبل تک میں بھی اس گما ں میں مبتلا تھا۔بہت سوچ بچار کے بعد مگر اب اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ قومی اسمبلی میں بیٹھے ہمارے نام نہاد نمائندوں کو ایسی کوئی فکر لاحق نہیں ہے۔وہ حکومتی بنچوں پر بیٹھے ہوں یا اپوزیشن نشستوں پر تعلق ان کا ہماری خوش حال اشرافیہ سے ہے۔مہنگائی ان کابنیادی مسئلہ نہیں۔

حکومتی ترجمانوں کی فوج ظفر موج ویسے بھی مسلسل دعویٰ کررہی ہے کہ پاکستان کے اقتصادی حالات اتنے بھی دگرگوں نہیں جیسے میڈیا کے ایک حصے کی جانب سے بتائے جارہے ہیں۔موٹرسائیکلوں اور گاڑیوں کی ریکارڈ خریداری اور مہنگے ریستورانوں میں بیٹھنے کی جگہ نہ ملنا ہمارے ہاں پھیلی خوش حالی کا اثبات بتایا جارہا ہے۔ خوش حالی پھیل جائے تو حکومت ریاست کا کاروبار چلانے کے لئے اضافی ٹیکس لگانے کو مچل جاتی ہے۔ اسے اعتماد ہوتا ہے کہ عوام اضافی بوجھ بآسانی برداشت کرلیں گے۔

نظر بظاہر منی بجٹ پیش کرنے میں تاخیر اس لئے ہوئی کیونکہ حکومت خیبرپختونخواہ کے انتخابی نتائج سے گھبراگئی تھی۔ ان کا تجزیہ کرنے کے بعد مگر وزیر اعظم صاحب بالآخراس نتیجے پر پہنچے کہ تحریک انصاف کی شکست کا سبب مہنگائی نہیں بلکہ تنظیمی انتشار تھا۔ ایک ہی نشست پر تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے اوسطاً تین امیدوار ایک دوسرے کے مد مقابل کھڑے ہوگئے۔اپوزیشن جماعتوں نے اس کا فائدہ اٹھایا۔ اپنی صفوں میں نظم کو بحال کرنے کے لئے تحریک انصاف نے اب نئی تنظیم بنادی ہے۔انتخابی نتائج کے تجزیے اور تنظیمی معاملات پر توجہ مرکوز کرنے کی وجہ سے وہ اپنے اراکین کو قومی اسمبلی کے اجلاس کے لئے جمع نہ کر پائی۔

حکومت جب تنظیمی معاملات میں الجھی ہوئی تھی تو اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتوں نے یہ تاثر پھیلاناچاہا کہ اگست 2018ء میں نمودار ہونیوالے حکومتی بندوبست کے خالق بھی اکتاگئے ہیں۔ وہ کوئی نئی گیم لگانے کی تیاری کررہے ہیں۔آصف علی زرداری نے اس تاثر کو تقویت دینے کے لئے ’’فارمولے‘‘ والا بیان بھی داغ دیا۔دریں اثناء لاہور میں خواجہ رفیق کی یاد میں ایک تقریب ہوئی۔ اس سے خطاب کرتے ہوئے قومی اسمبلی کے سابق سپیکر سردار ایاز صادق نے بڑھک لگائی کہ لندن میں مقیم نواز شریف صاحب سے ’’غیر سیاسی‘‘ لوگ رابطے کررہے ہیں۔مذکورہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم نے بھی وطن لوٹنے کا عندیہ دیا۔ ہم ان کے دئیے پیغام کو غالباً سنجیدگی سے نہ لیتے۔ عمران خان صاحب نے اپنے ساتھیوں سے گفتگو کرتے ہوئے لیکن سپریم کورٹ کے ہاتھو ںنااہل ہوئے نواز شریف کی وطن واپسی کی بابت چند سوالات اٹھادئیے۔ان کے سوالات نے ہمیں بھی چونکادیا۔

ہمارے ایک بہت ہی متحرک اور خبر کو نہایت جستجو سے تلاش کرتے صحافی جناب انصار عباسی صاحب نے مگر ’’دفاعی‘‘اور ’’باخبر ذرائع‘‘ سے گفتگو کرنے کے بعد پے در پے دو خبریں دی ہیں۔ان کے ذریعے پیغام یہ پہنچایا گیا کہ وطن عزیز میں سیاسی منظر نامہ طے کرنے والی قوتیں اپوزیشن کے کسی رہ نما سے رابطے میں نہیں۔آصف علی زرداری سے بلکہ سوال ہوا کہ وہ ان افراد کے نام لیں جنہوں نے مبینہ طورپر ان سے رابطے کئے ہیں۔ نواز شریف سے اگرچہ یہ سوال نہیں پوچھا گیا۔ دریں اثناء پیر کے دن قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بھی ہوا ہے۔ سیاسی اور عسکری قیادت وہاں قومی سلامتی کی پالیسی باہمی اتفاق سے طے کرتی نظر آئی۔ملک کے معاشی حالات کو قومی سلامتی کے اس اجلاس میں کلید ٹھہرایا گیا ہے۔ عملی صحافت سے ریٹائر ہوا مجھ جیسا رپورٹر محض اندازہ ہی لگاسکتا ہے کہ مذکورہ اجلاس میں یہ سوال بھی زیر غور آیا ہوگا کہ ہم آئی ایم ایف کی عائد کردہ شرائط پر عملدرآمد کو تیار ہیں یا نہیں۔ منطقی جواب تو یہ بنتا ہے کہ عالمی معیشت کے نگہبان اداروں کے ساتھ ہوئے وعدوں کی تکمیل ریاستی ساکھ کو برقرار رکھنے کے لئے لازمی ٹھہرائی گئی ہوگی۔ اگر یہ طے ہوگیا ہے تو اب فون کھڑکیں گے اور قومی اسمبلی میں تحریک انصاف اور اس کی اتحادی جماعتوں کی نشستوں پر براجمان اراکین سرجھکائے ایوان میں آجائیں گے۔ شوکت ترین کے تیارکردہ منی بجٹ پر فدویانہ انداز میں انگوٹھے لگادیں گے۔ ’’ڈیل‘‘ کی باتیں اس کے بعد ازخود ہوا میں تحلیل ہوجائیں گی۔

لاہور کے ملامتی شاعر شاہ حسین نے کئی سو برس قبل کہہ رکھا ہے کہ ’’تخت نہ ملدے منگے‘‘۔مختصراً یوں کہہ لیں کہ اقتدار کسی شخص کو خیرات کی صورت فراہم نہیں کیا جاتا۔اسے سیاسی جدوجہد کے ذریعے چھیننا ہوتا ہے۔سیاسی جدوجہد کی لیکن ہماری اپوزیشن جماعتوں کو عادت نہیں رہی۔ ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کا ڈھونگ رچاتے ہیں مگر لندن میں مقیم ہوئے نواز شریف صاحب سے ’’غیر سیاسی افراد‘‘ کی مبینہ ملاقاتوں سے جی کو خوش کرلیتے ہیں۔ایسے سیاست دانوں کو کم از کم میں سنجیدگی سے لینے کو تیار نہیں ہوں۔آئی ایم ایف نے مصر کی معیشت کے لئے جو منصوبہ تیار کیا تھا اس پر کامل عملدرآمد رضا باقر کی نگرانی میں ہوا۔ اب وہ ہماری معیشت سنوارنے کے مشن پر مامور ہیں اور مصر کی طرح پاکستان میں بھی انہیں کسی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔