Site icon Dunya Pakistan

تشنہؔ صاحب سے چند سوالات!

میں نے برصغیر پاک و ہند، نیپال، بنگلہ دیش، بھوٹان و سکم کے ممتاز شاعر ممتاز تشنہ صاحب سے انٹرویو کیا ہے۔ ملاحظہ فرمائیں۔

تشنہ صاحب ! آپ یہ بتائیں کہ آپ نے اپنا تخلص تشنہ کیوں رکھا؟ یہ آپ نے بڑا اچھا سوال پوچھا ۔ جی بات دراصل یہ ہے کہ میرے گائوں سے اسکول کافی دور تھا اور یہ سارا راستہ مجھے پیدل طے کرنا پڑتا تھا اسکول پہنچتے پہنچتے پیاس سے برا حال ہو جاتا تھا اور چونکہ اسکول میں پانی کا کوئی مناسب بندوبست نہ تھا لہٰذا میں نے اپنا تخلص ہی پیاسا یعنی تشنہ رکھ لیا۔ تخلص رکھنے کے بعد پھرمیں نے سوچا کہ اب شاعری بھی شروع کردینی چاہئے کیونکہ آدمی نے تخلص رکھا ہو مگر وہ شاعر ی نہ کرے تو اس کی مثال ایسی ہی ہے کہ وہ ماچس جیب میں رکھتا ہو لیکن سگریٹ نہ پیتا ہو...

اب آپ یہ بتائیں کہ تخلص کے علاوہ اور کون سے محرکات تھے جنہوں نے آپ کو شاعری کی طرف راغب کیا؟

یہ دراصل میرے ارد گرد کا ادبی ماحول تھا جو مجھے ورثے میں ملا۔ میرے والد محترم بڑے پائے کے شاعر تھے۔ بنیادی طور پر قوالی ان کا پیشہ نہیں تھا صرف اپنے کلام کو زیادہ موثر انداز میں پیش کرنے کا ایک ذریعہ تھا۔ چنانچہ انہیں بہت دور دور سے بلایا جاتاتھا۔ خصوصاً عرسوں وغیرہ کے موقع پر ان کی مانگ بہت بڑھ جاتی تھی۔ میں ان دوروںمیں ان کے ساتھ ہوتا اورا سٹیج پر والد صاحب کے برابر میں بیٹھے ہوئے ان کے احباب کے ساتھ مل کر تالی بجایا کرتا تھا۔ میرے ادبی کیرئیر کا آغاز یہیں سے ہوا۔

ماشا اللہ کیا آپ یہ بتانا پسند کریں گے کہ اتنے زبردست ادبی آغاز اور پھر ادب میں ایک اعلیٰ مقام حاصل کرنے کے باوجود آپ کو مشاعروں میں کیوں نہیں بلایا جاتا؟

صاحب بڑی سیدھی سی بات ہے کہ میں گوشہ نشیں سا آدمی ہوں اگر کوئی محبت سے کسی شادی بیاہ کی تقریب میں بلائے تو وہاں سہرا پڑھ دیتا ہوں، ممتاز عالم جنتری والے مجھ سے میرا کلام فرمائش کرکے لے جاتے ہیں اور بڑے اہتمام سے جنتری میں شائع کرتے ہیں۔ باقی رہا مشاعروں کا مسئلہ تو مجھے متعدد بار ان مشاعروںمیں شرکت کا دعوت نامہ اخبار کے کالم ’’اطلاعات و اعلانات ‘‘ کے ذریعے موصول ہوا، مگر صاحب مشاعروں میں آج کل جس طرح کی اوٹ پٹانگ چیزیں پڑھی جاتی ہیں وہاں ثقہ شاعروں کو کون پوچھتا ہے۔ چنانچہ ان مشاعروں کے اسٹیج سیکرٹری خواہ کتنی ہی چٹیں انہیں موصول ہوںکہ خوش قسمتی سے اس وقت ممتاز شاعر تشنہ صاحب ہال میں موجود ہیں انہیں بھی زحمت کلام دی جائے۔ مگر اسٹیج سیکرٹری ان چٹوں کو اپنے زانو تلے دبا کر بیٹھ جاتے ہیں۔ اب آپ فرمایئے میں اس قسم کی محفلوں میں اپنا کلام کیونکر سنا سکتا ہوں جن کےا سٹیج سیکرٹری سخن فہم ہونے سے زیادہ ہینڈ رائٹنگ ایکسپرٹ ہوں۔

یہ تو واقعی بہت افسوسناک صورتحال ہے مگر تشنہ صاحب ایک مشاعرے کی رو داد میں نے پڑھی تھی جس میں کچھ ہلڑ بازی بھی ہوئی تھی اس میں آپ کا ذکر بھی آیا تھا وہ کیا قصہ تھا؟

وہ جناب معاملہ یوں ہے کہ مشاعرہ شروع ہونے سے پہلے میں منتظمین سے ملا، تعارف کرایا اور کہا آپ نے یاد فرمایا تھا، حاضر ہوگیا ہوں۔ انہوں نے بڑی تکریم کی اور کہا آپ کا کرم آپ تشریف لائے، برائے مہربانی سامعین کی صفوں میں تشریف رکھیں۔ دراصل وہ جانتے تھے کہ میں خود نمائی سے کوسوں دور ہوں۔ شاعروں کے ساتھ اسٹیج پر بیٹھنا مجھے کبھی اچھا نہیں لگا۔ مگر صاحب ہوا یوں کہ آدھا مشاعرہ گزر گیا مگر انہوں نے میرا نام نہیں پکارا، لیکن جب انہیں تین چار چٹیں اس مضمون کی موصول ہوئیں کہ خوش قسمتی سے اس وقت ممتاز تشنہ صاحب بھی ہال میں موجود ہیں انہیں زحمت کلام دی جائے تو وہ بہت پشیماں ہوئے اور مجھے فوراً اسٹیج پر بلایا میں نے جب وہاں اپنی مشہور غزل کا یہ مطلع پڑھا :

دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے

آخر اس درد کی دوا کیا ہے

تو ہال میں سے اتنی داد موصول ہوئی کہ لگا جیسے ہنگامہ ہوگیا ہے ۔ ایک مداح تو اسٹیج پر چڑھ آیا اور اس نے مجھے گلے لگانے کے لئے اپنے بازو میرے بازوئوں اور اپنی ٹانگیں میری ٹانگوں میں اس طرح پیوست کیں کہ میں توازن برقرار نہ رکھ سکا اور اسٹیج سے نیچے جا گرا ۔ وہاں لوگوں نے برملا کہا کہ میں تمام شاعروں پر ’’غالب‘‘ آگیا ہوں۔ یہ تھا واقعہ جسے اخبار کے ڈائری نویس نے ہلڑ بازی کا نام دیا ۔

تشنہ صاحب! سنا ہے محبت کے بغیر شاعری نہیں ہوتی، کیا آپ بھی کبھی اس تجربے سے گزرے ہیں؟

صاحب! یہ آپ نے کیا سوال کردیا۔ جوانی یاد آگئی ، اس موضوع پر تو میرا یہ شعر بھی بہت مشہور ہے۔

داور حشر مرا نامۂ اعمال نہ دیکھ

اس میں کچھ پردہ نشینوں کے بھی نام آتے ہیں

میں اس گستاخی کی معافی چاہتا ہوں، مگر کیا یہ شعر ڈاکٹر تاثیر کا نہیں؟

بندہ پرور آپ کیسی باتیں کرتے ہیں اس شعر کا ذکر اس کی تاثیر کے حوالے سے ہوتا ہے۔ آپ نے اسے ڈاکٹر تاثیر کے کھاتے میں ڈال دیا۔

اب ایک آخری سوال! آپ نے اپنے لیٹر پیڈ پر ممتاز شاعر ممتاز تشنہ لکھوایا ہے، یہ جو آپ کے نام میں دو دفعہ لفظ ’’ممتاز‘‘ آیا ہے تو کیا یہ اسی طرح ہے جس طرح امجد اسلام امجد کے نام میں دو دفعہ امجد آتا ہے؟

صاحب آپ بھی بذلہ سنج ہیں، ممتاز شاعر تو مجھے لوگ لکھتے ہیں، ’’تشنہ‘‘ میرا تخلص ہے۔ والدین نے میرا نام کچھ اور رکھا تھا مگرمیں نے اپنے لئے ممتاز کو پسند کیا اور یوں لوگ مجھے ممتاز شاعر ممتاز تشنہ کہتے ہیں۔

بہت شکریہ ممتاز تشنہ صاحب آپ سے مل کر مجھے بہت ہنسی آئی، معاف کیجئے بہت خوشی ہوئی۔

خدا حافظ

Exit mobile version