تعلیمی اداروں میں قرآن کی تعلیم: صوبہ پنجاب کے سکولوں، کالجوں میں قرآن بطور لازمی مضمون کیسے پڑھایا جائے گا؟

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں حکومت نے سکولوں، کالجوں اور مدارس میں قرآن کو ایک علیحدہ لازمی مضمون کے طور پر پڑھانے کے حوالے سے تعلیمی اداروں کو ہدایات جاری کر دی ہیں۔

پنجاب کریکولم اینڈ ٹیکسٹ بک بورڈ (پی سی ٹی بی) کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق پہلے مرحلے میں پہلی سے پانچویں جماعت تک سکولوں میں ناظرہ قرآن کی تعلیم دی جائے گی جبکہ چھٹی جماعت سے بارہویں جماعت تک ترجمے کے ساتھ قرآن پڑھانے کے حوالے سے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

پی سی ٹی بی نے صوبہ بھر کے تمام سکولوں کو رواں تعلیمی سال یعنی سنہ 2021-22 سے ہی ناظرہ قرآن پڑھانے کی تاکید کی ہے۔

یاد رہے کہ کورونا وبا کے پیشِ نظر کئی ماہ بند رہنے کے بعد صوبہ پنجاب میں تعلیمی ادارے پیر کے روز سے دوبارہ کھول دیے گئے ہیں اور چند ماہ کی تاخیر سے نئے تعلیمی سال کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے

پی سی ٹی بی کی طرف سے حال ہی میں جاری کیے جانے والے اعلامیے اور اخباری اشتہار کے ذریعے تمام سکولوں اور کالجوں سے کہا گیا ہے کہ وہ ’اپنے اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے تدریسِ قرآنِ مجید کے عمل کو اس کی حقیقی روح کے مطابق نافذ کرنے کو یقینی بنائیں۔‘

اسی اعلامیے کے ذریعے بورڈ نے تعلیمی اداروں کو مختلف جماعتوں میں قرآن کی تدریس کے لیے بنیادی طریقہ کار بتایا ہے تاہم چھٹی سے بارہویں جماعت تک کے لیے طریقہ کار تاحال واضح نہیں۔

پی سی ٹی بی کے مطابق ’حکومتِ پنجاب نے لازمی تدریسِ قرآن مجید ایکٹ 2018 کے ذریعے صوبہ بھر کے تمام تعلیمی اداروں بشمول نجی، سرکاری اور دینی مدارس کے مسلم طلبا کے لیے قرآنِ مجید کی تدریس کو لازم قرار دیا تھا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس قانون میں رواں برس مئی کے مہینے میں کی جانے والی ایک ترمیم پابند کرتی ہے کہ پنجاب بھر کے تعلیمی اداروں میں پہلی سے بارہویں جماعت کے تمام مسلم طلبا کے لیے قرآن مجید کی تدریس علیحدہ لازمی مضمون کے طور پر ہو گی۔

یاد رہے کہ اسلامیات ایک لازمی مضمون کے طور پر پہلے ہی سے تمام مسلم طبا کو پڑھائی جاتی ہے۔

تاہم سوال یہ ہے کہ سکول اور کالج نئے تعلیمی سال کے آغاز ہی سے قرآن کو ایک نئے لازمی مضمون کے طور پر پڑھانے کے لیے کتنے تیار ہیں اور یہ مضمون کس طرح پڑھایا جائے گا؟

قرآن کی تعلیم

کیا قرآن مجید اسلامیات سے علیحدہ مضمون ہو گا؟

پنجاب کریکولم اینڈ ٹیکسٹ بک بورڈ کے اعلامیے کے مطابق قرآنِ مجید کو اسلامیات سے الگ ایک علیحدہ مضمون کے طور پر پڑھایا جائے گا۔ پہلی سے پانچویں جماعتوں کو ناظرہ قرآن پڑھایا جائے گا اور اس مضمون کے 50 نمبر مقرر کیے گئے ہیں۔

بورڈ کی طرف سے جاری کیے جانے والے اعلامیے کے مطابق پہلی سے تیسری جماعت تک یہ مضمون پڑھانے کے لیے ہفتہ وار تین پیریڈ رکھے جائیں گے جبکہ چوتھی اور پانچویں جماعت کے لیے ہفتے میں چار پیریڈ رکھے جائیں گے۔

بظاہر یہ تعلیمی اداروں کی صوابدید پر چھوڑا گیا ہے کہ وہ ان پیریڈز کو کس طرح تقسم کرتے ہیں تاہم ہر جماعت میں اس مضمون کے نمبر یا مارکس 50 ہی رکھے گئے ہیں۔

پانچویں جماعت تک قرآن مجید کیسے پڑھایا جائے گا؟

صوبہ پنجاب میں پرائیویٹ سکولوں کے سربراہان کا کہنا ہے کہ انھیں انفرادی طور پر اس حوالے سے کوئی ہدایات جاری نہیں کی گئیں۔ آل پاکستان پرائیویٹ سکولز فیڈریشن کے صدر کاشف چوہدری نے بی بی سی کو بتایا کہ اس حوالے سے جو بھی معلومات ان تک پہنچی ہیں وہ اعلامیے کے ذریعے ہی پہنچی ہیں۔

’اس اعلامیے کے مطابق ابتدائی طور پر پہلی سے پانچویں جماعت تک قرآن ناظرہ پڑھایا جائے گا اور ہر جماعت میں پڑھائے جانے والے پاروں کی تفصیل بتائی گئی ہے۔‘

پہلی جماعت میں ’قرآنی قاعدہ بمعہ آخری چار سورتیں‘ پڑھائی جائیں گی۔ اسی طرح دوسری جماعت میں پارہ نمبر ایک اور دو جبکہ تیسری جماعت میں پارہ نمبر تین سے آٹھ تک پڑھایا جائے گا۔

چوتھی جماعت کو پارہ نمبر نو سے 18 تک پڑھایا جائے گا جبکہ پانچویں جماعت کو 19ویں پارے سے آخری پارے تک قرآن ناظرہ پڑھایا جائے گا۔

سکولوں میں یہ مضمون کون سے اساتذہ پڑھائیں گے؟

پی سی ٹی بی نے بظاہر یہ معاملہ تعلیمی اداروں پر چھوڑا ہے کہ وہ اس کے حوالے سے اقدامات کریں۔ آل پاکستان پرائیویٹ سکولز فیڈریشن کے صدر کاشف چوہدری کا کہنا تھا کہ وہ ’حکومت کے اس اقدام کا خیر مقدم کرتے ہیں تاہم حکومت نے انتظامات کے لیے سکولوں کو مناسب وقت نہیں دیا۔‘

’صرف صوبہ پنجاب میں کل ملا کر ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ سکول ہیں۔ قرآن ناظرہ پڑھانے کے لیے ان سکولوں کو قابل اساتذہ کی ضرورت ہو گی جن کی بھرتی فوری طور پر کرنا تمام سکولوں کے لیے ممکن نہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ پی سی ٹی بی نے سکولوں اور کالجوں کو نیا تعلیمی سال شروع ہونے سے محض چند روز قبل صرف اطلاع دی اور ان سے مشاورت نہیں کی گئی۔ بی بی سی نے پی سی ٹی بی سے ان حوالے سے مؤقف جاننے کی کوشش کی تاہم انھوں نے سوالوں کے جواب نہیں دیے۔

قرآن کی تعلیم

’ہمارا سکول ناظرہ پڑھانے کے لیے تیار ہے‘

آل پاکستان پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن (ایپسا) کے صدر شبیر احمد ہاشمی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی تنظیم خاص طور پر کم آمدن والے پرائیویٹ سکولوں کی نمائندگی کرتی ہے تاہم انھیں بھی انتظامات کے لیے مناسب وقت نہیں دیا گیا۔

’نیا سال شروع ہو گیا ہے اور قرآن مجید پڑھانے کے لیے ہمیں ماہر اساتذہ کی ضرورت ہو گی جنھیں بھرتی کرنے میں وقت لگے گا۔‘

تاہم امریکن لائیسٹف نامی ایک نجی سکول کے چیف ایگزیکیٹیو آفیسر ذیشان راجہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے سکول پہلی سے پانچویں جماعت تک قرآن ناظرہ کی تدریس کے لیے تیار ہیں۔

’ہم پہلے ہی سے اپنے سکولوں میں ناظرہ کو ایک مضمون کے طور پر پڑھا رہے تھے اس لیے ہمارے پاس اساتذہ بھی موجود تھے اور طریقہ کار بھی۔ ہم بورڈ کی طرف سے جاری کردہ ہدایات کی روشنی میں نئے سال کے آغاز ہی سے قرآن پڑھانے کے لیے تیار ہیں۔‘

پانچویں جماعت کے بعد قرآن کس طرح پڑھایا جائے گا؟

بورڈ کے اعلامیے کے مطابق چھٹی جماعت سے گیارہویں جماعت تک کے طلبا کو قرآن ترجمے کے ساتھ پڑھایا جائے گا۔ کس جماعت میں قرآن کے کون سے پارے پڑھائے جائیں گے اس کا شیڈول اعلامیے میں بتا دیا گیا ہے تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ ہر جماعت میں اس کے کتنے نمبر یا مارکس ہوں گے۔

امریکن لائیسٹف کے سی ای او ذیشان راجہ کے مطابق ’بورڈ نے اس حوالے سے بتایا ہے کہ وہ ان جماعتوں میں باترجمہ قرآن پڑھانے کے طریقہ کار کے حوالے سے کام کر رہے ہیں اور جلد اسے طریقہ کار سے وہ ہمیں آگاہ کر دیں گے۔‘

اعلامیے کے مطابق چھٹی سے آٹھویں جماعت کے لیے پہلے اور دوسرے پارے کا ترجمہ، ساتویں جماعت میں تیسرے سے پانچویں پارے کا ترجمہ جبکہ آٹھویں جماعت کے لیے چھٹے سے نویں پارے کا ترجمہ پڑھایا جائے گا۔‘

’اسی طرح بورڈ نے یہ بھی بتا دیا ہے کہ نویں جماعت میں قرآن کے دسویں سے سولہویں پارے، دسویں جماعت کے لیے پارہ 17 سے 23 جبکہ گیارھویں جماعت میں پارہ 24 سے 30 تک کا ترجمہ پڑھایا جائے گا۔‘

غیر مسلم طلبا متبادل کے طور پر کونسا مضمون پڑھیں گے؟

پنجاب کریکولم اینڈ ٹیکسٹ بک بورڈ کے اعلامیے میں یہ نہیں بتایا گیا کہ غیر مسلم طلبا قرآن کے متبادل کے طور پر کون سا مضمون پڑھ سکیں گے کیونکہ علیحدہ لازمی مضمون کے طور پر قرآن کے 50 مارکس مقرر کر دیے گئے ہیں۔

یاد رہے کہ اس سے قبل تعلیم اداروں میں اسلامیات نہ پڑھنے والے غیر مسلم طلبا کے پاس سوکس کا مضمون اختیار کرنے کا آپشن ہوتا ہے۔

ایسپا کے صدر شبیر احمد ہاشمی کے مطابق اس حوالے سے بورڈ نے سکولوں کو کوئی ہدایات جاری نہیں کی ہیں۔ ’غیر مسلم طلبا سوکس تو اسلامیات کے متبادل کے طور پر پڑھتے ہیں۔ قرآن مجید کیونکہ ایک الگ مضمون ہو گا تو یہ واضح نہیں کہ غیر مسلم طلبا اس کی جگہ کیا مضمون پڑھیں گے۔‘

تاہم امریکن لیسٹف نامی سکول کے سی ای او ذیشان راجہ کے مطابق غیر مسلم طلبا اسلامیات کے متبادل کے طور پر سوکس کا مضمون پہلے ہی سے پڑھ رہے تھے اور ’وہ یہی مضمون قرآن کی جگہ پڑھ سکتے ہیں تاہم ہمیں امید ہے کہ بورڈ اس حوالے سے تفصیلی ہدایات جلد جاری کر دے گا۔‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: