تنقید کے باوجود کبھی بھی قیادت چھوڑنے کا خیال نہیں آیا، اظہر علی

انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں قومی ٹیم کی 0-1 سے شکست اور ناقص فارم کے سبب تنقید کا شکار کپتان اظہر علی نے کہا ہے کہ تنقید کے باوجود ان کے ذہن میں کبھی بھی ٹیسٹ ٹیم کی قیادت چھوڑنے کا خیال نہیں آیا۔

انگلینڈ کے خلاف مانچسٹر میں کھیلے گئے سیریز کے پہلے میچ کے اکثر حصے میں قومی ٹیم کا غلبہ رہا تھا لیکن جوز بٹلر اور کرس ووکس کے درمیان چھٹی وکٹ کے لیے 139رنز کی یادگار شراکت کے سبب پاکستان کو میچ میں 3 وکٹوں سے شکست ہوئی تھی۔

میزبان ٹیم کی یہ کامیابی سیریز میں فیصلہ کن ثابت ہوئی کیونکہ ساؤتھیمپٹن میں کھیلے گئے سیریز کے بقیہ دونوں میچز بارش کے سبب ڈرا ہو گئے اور انگلینڈ نے سیریز 0-1 سے اپنے نام کر لی۔‎

پہلے ٹیسٹ میچ میں شکست پر ناقدین میں قومی ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم بھی شامل تھے جن کا ماننا تھا کہ اظہر علی کی ناقص قیادت کے سبب اور حد سے زیادہ دفاعی حکمت عملی کی وجہ سے جوز بٹلر اور ووکس مانچسٹر میں بڑی اننگز کھیلنے اور اپنی ٹیم کو فتح دلانے میں کامیاب رہے۔

جب آن لائن پریس کانفرنس میں اظہر علی سے قیادت چھوڑنے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ جب ہم پہلا ٹیسٹ میچ ہارے تو مشکل وقت تھا اور سب نے مکمل طور پر صرف مجھے شکست کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

انہوں نے کہا کہ یہ وقت آسان نہیں تھا لیکن میں نے صرف اس بات پر توجہ دی کہ ہم کس طرح میری انفرادی کارکردگی اور ٹیم کی کارکردگی سے سیریز کا رخ بدل سکتے ہیں، قیادت چھوڑنے کا کوئی خیال کبھی بھی میرے دماغ میں نہیں آیا۔

پہلے دو ٹیسٹ میچوں میں صفر، 18 اور 20 رنز کی اوسط درجے کی اننگز کھیلنے کے بعد اظہر علی تیسرے ٹیسٹ میچ میں ناقابل شکست 141 رنز کی اننگز کھیلنے میں کامیاب رہے البتہ اس اننگز کے باوجود پاکستان فالو آن سے نہیں بچ سکا تھا۔

اظہر نے کہا کہ ہمیں پہلے ٹیسٹ میچ میں شکست کا خمیازہ اٹھانا پڑا، اگر ہم وہ ٹیسٹ میچ جیت جاتے تو یہاں سیریز کے فاتح کی حیثیت سے بیٹھے ہوئے ہوتے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ مایوسی برقرار رہے گی کیونکہ ہم نے نادر موقع گنوا دیا اور اس بات کا سہرا انگلینڈ کے سر جاتا ہے جنہوں نے دباؤ میں اچھا کھیل پیش کیا۔

ٹیسٹ سیریز کے اختتام کے بعد اب دونوں ٹیمیں جمعہ سے 3 میچوں کی ٹی20 سیریز میں مدمقابل آئیں گی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: