تنویر جہاں کا لان اور نارسائی کا اندھیرا

کچھ برس پہلے لاہور کے انتہائی جنوب میں تنویر جہاں نے اپنا گھروندہ بنایا تو اس میں سبزے کے ایک لان نما قطعے کا التزام بھی کیا۔ قریب قریب اتنا ہی حدود اربعہ جتنے رقبے پر گائوں میں چوہدری کی چارپائی سماتی تھی۔ اس پر غضب یہ کہ ایک کونے میں Rockeryبنانے کی بھی ٹھان لی۔ روکری لان کا وہ حصہ ہوتا ہے جہاں ٹیڑھے ترچھے پتھر بےترتیبی سے اوپر تلے جما کر جنگلی بیلیں اور خاردار پودے وغیرہ لگا دیے جاتے ہیں۔ وسیع رہائش گاہوں کے آراستہ پائیں باغ میں غیرمرتب روکری رُخِ روشن پر خال سیاہ جیسی بہار دیتی ہے لیکن تنویر کے لان میں روکری دیکھ کر مجھے ایک طرف تو متوسط طبقے کے ذوقِ تعمیر کی معصومیت پر پیار آیا اور کچھ اندیشے بھی کسمسائے۔ تو اور آرائش خم کاکل، میں اور اندیشہ ہائے دور دراز۔ عرض کی، اس ویرانے میں جہاں ارد گرد جھاڑیوں بھرے غیرمزروعہ قطعات ہیں، جابجا گڑھوں میں جمع برساتی پانی پر مچھروں کی کالونیاں ہیں، آپ کی یہ روکری اردگرد سے ضرر رساں مخلوق کی آماج گاہ بن جائے گی۔ اور بڑی مشکل یہ کہ اس کونے کی تعمیر میں نارسائی کی خرابی کار فرما ہے سو آپ اس کی مناسب خبرگیری بھی نہیں کر پائیں گی۔ ہم آپ فارسی شاعر امتیاز حسین خالص کے اصفہان میں تو نہیں بستے کہ کسی دیوانے نے ہم سے پتھر مانگنے آنا ہو، یاراں مگر ایں شہر شما سنگ ندارد۔ تنویر جہاں کا تعارف تو آپ سے نہیں ہو گا۔ یہ وہ نیک خاتون ہیں جنہوں نے 28برس سے درویش کو سر چھپانے کو چھت عطا کر رکھی ہے۔ دو وقت کی روٹی اور تمباکو دخانی کی باندھ الگ ہے۔ یہ تو رہا نیم رخ تعارف۔ دوسرا پہلو یہ کہ پڑھائی لکھائی میں مردوں کے کان کاٹ رکھے ہیں۔ پہلی بار سڑک پر ایک جلوس کی پیشوائی کرتے دیکھا تھا۔ زمانے گزر گئے۔ بالوں میں چاندی پھیل گئی مگر نیک بخت نے انسانی حقوق کا جھنڈا بدستور اٹھا رکھا ہے۔ جسے وردی والوں سے دھینگا مشتی کی مشق ہو، وہ ایک نیم بےروزگار صحافی کی کیا سنے گی۔ چنانچہ روکری والے معاملے پر بھی میری گزارش مسترد کر دی گئی۔ پھر یہ ہوا کہ کچھ عرصے بعد اس روکری سے اینڈے بینڈے حشرات الارض برآمد ہونے لگے۔ کچھ پتھر بھی اکھاڑے گئے مگر خانہ بربادوں نے گھر دیکھ لیا تھا۔ ابھی پچھلے ہفتے اطلاع ملی کہ سانپوں کی ایک بانبی دریافت کی گئی ہے۔

گھر ہو یا ریاست، حاکمانہ جبروت اور محکوم کے مکالمے میں یہی ترتیب پائی جاتی ہے۔ اختیار کو دوام نہیں مگر طاقت کے لشکارے میں حسن بےپروا کی خود آرائی پائی جاتی ہے۔ محکوم نے بہت دھوپ چھائوں دیکھ رکھی ہے۔ دبی دبی آواز میں انتباہ کرتا ہے مگر شنوائی نہیں ہوتی۔ وقت گزرتا ہے تو نئے حاکم پرانی غلطیاں مان لیتے ہیں اور نئی غلطیوں پر کمر باندھ لیتے ہیں۔ ریاستی بندوبست کے دو ڈھنگ ہیں۔ ایک راستہ اجتماعی فراست سے استفادے، فیصلہ سازی تک شفاف رسائی اور اختیار کی جواب دہی کا ہے۔ دوسرا امکان یہ ہے کہ فیصلہ سازی اور وسائل کی تقسیم پر اختیار کو ایک ناقابلِ رسائی کونے میں رکھ کر قومی مفاد، سلامتی اور حب الوطنی کے منظور شدہ یکساں نصاب کی خار دار باڑ لگا دی جائے۔ اس کا نتیجہ یہ کہ ریاست اور شہریوں میں وہ رشتہ تڑخ جاتا ہے جو تمدنی، سیاسی اور ریاستی قوتوں کے قوم سے بلاامتیاز اور ناقابلِ تنسیخ تعلق کی طرف لے جاتا ہے۔ ایک صحت مند قوم میں مختلف معاملات پر اختلافِ رائے پایا جاتا ہے لیکن قوم کی ترقی، استحکام اور فلاح پر اتفاق ہوتا ہے۔ یہ اتفاقِ جمہور کی حاکمیتِ اعلیٰ، شہریوں میں حقوق اور رتبے کی مساوات اور قانون کی بالادستی سے برآمد ہوتا ہے۔ اگر فیصلے خاردار باڑ سے پرے ناقابل رسائی اندھیرے میں ہو رہے ہوں تو غربت، محرومی، ناانصافی اور مایوسی کی دھوپ میں جلنے والوں سے یہ توقع کیسے رکھی جائے کہ وہ قوم کے قافلے میں ایک جیسے ولولے سے قدم ملا کر چلیں گے۔

کالم کا دامن کوتاہ ہے۔ آئیے اب کچھ متعین اشارے ہو جائیں۔ کچلاک سے اغوا ہونے والے عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما عبیداللہ کاسی کی تشدد زدہ لاش مل گئی ہے۔ بغیر ثبوت کے الزام تراشی مناسب نہیں لیکن واضح رہے کہ ان معاملات میں ریاست کی حساسیت اور ردعمل کی سنجیدگی بہت کچھ کہے دیتی ہے۔ رحیم یار خان میں ہندو مندر کی بےحرمتی پر محترم چیف جسٹس نے از خود نوٹس لیا ہے۔ خدا انہیں جزائے خیر دے مگر صاحبو، ہم نے اجتماعی طور پر جو فکری سانچہ مرتب کیا ہے۔ اسے واقعاتی تفصیل سے زیادہ پالیسی کی سطح پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ہم نے اپنے ملک کو عمودی اور افقی سطح پر ان گنت لکیروں میں بانٹ دیا ہے۔ پیوستہ مفادات کو اپنے تسلسل کے لئے ایک منقسم قوم راس آتی ہے لیکن بٹی ہوئی قوم کوئی ہدف اور کوئی نصب العین حاصل نہیں کر سکتی۔ کیا اب ہماری قیادت کی ذہنی سطح اس قدر کمزور ہو گئی ہے کہ معید یوسف نے فائننشل ٹائمز سے گفتگو میں فون کال کا گلہ شروع کر دیا۔ اب کہتے ہیں کہ میں نے ایسا نہیں کہا۔ بھائی، یہ قومی وقار کا معاملہ ہے۔ اگر اخبار نے واقعی غلط بیانی کی ہے تو ہتکِ عزت کا مقدمہ فوراً دائر کیجئے۔ براڈ شیٹ میں ہم نے کافی جرمانہ ادا کیا ہے۔ کچھ تو واپسی کی سبیل ہو۔ برطانوی ویزے میں توسیع کے لئے نواز شریف کی درخواست مسترد ہونے پر حکمراں لشکر کا اظہارِ مسرت قبل از وقت ہے۔ ہزار بادہ ناخوردہ در رگ تاک است۔ خدا نہ کرے کہ نواز شریف کے وکلا کو غیرملکی عدالت کے سامنے کچھ ناخوشگوار حقائق بیان کرنے کی ضرورت پیش آئے۔ اگر بیرونی دنیا میں قومی احترام کی بازیافت مطلوب ہے تو از راہِ کرم اس ملک کے 22 کروڑ شہریوں کے لئے عزت نفس کا انتظام کیجئے۔ عرضِ مدعا یہ کہ قوم کے پائیں باغ سے غیرضروری اور ناقابلِ رسائی پتھر ہٹائے جائیں اور ہوائے دل کے لئے کھڑکیاں کھولی جائیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: