توند نکلنے سے پریشان ہیں؟ تو اس کی وجہ آپ کی یہ عام غلطی ہے

اگر جسمانی وزن میں مسلسل اضافے یا توند نکلنے سے پریشان ہیں تو ہوسکتا ہے کہ اس کی وجہ آپ کی نیند ہو۔

جی ہاں کم نیند اور غذاؤں تک رسائی سے لوگ زیادہ کیلوریز بدن کا حصہ بناتے ہیں جس کا نتیجہ چربی کے اجتماع بالخصوص توند کی چربی میں اضافے کی شکل میں نکلتا ہے۔

یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

مایو کلینک کی تحقیق میں ثابت کیا گیا کہ نیند کی کمی سے پیٹ اور کمر کے ارگرد چربی کی مقدار میں 9 فیصد جبکہ ورسیکل فیٹ میں 11 فیصد اضافہ ہوجاتا ہے۔تحریر جاری ہے‎

ورسیکل فیٹ طبی زبان میں ایسی چربی کو کہا جاتا ہے جو جگر اور شکم کے دیگر اعضا پر اکٹھی ہوجاتی ہے یہاں تک کہ دبلے پتلے افراد میں بھی یہ چربی جمع ہوسکتی ہے جس سے طبی مسائل کا خطرہ بڑھتا ہے۔

نیند کی کمی اکثر کسی فرد کا اپنا ہی انتخاب ہوتا ہے اور یہ رجحان موجودہ عہد میں کافی عام ہوچکا ہے، صرف امریکا میں ہی ایک تہائی بالغ افراد مناسب وقت تک نیند کو ممکن نہیں بناپاتے۔

اب وجہ چاہے جو بھی ہو مگر بیدار رہنے کے اضافی وقت کے دوران وہ جسمانی سرگرمیوں کی بجائے اضافی خوراک کو جزوبدن بناتے ہیں۔

محققین نے بتایا کہ نتائج سے ثابت ہوتا ہے کہ نیند کا کم دورانیہ ہو تو اآپ چاہے جوان، صحت مند اور دبلے پتلے ہی کیوں نہ ہوں، زیادہ کیلوریز کے استعمال کا باعث بنتا ہے، جس سے وزن میں تو معمولی اضافہ ہوتا ہے مگر توند کی چربی میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عام طور پر چربی کا اجتماع جلد کے اندر ہوتا ہے مگر ایسا نظر آتا ہے کہ کم وقت تک سونا چربی کو زیادہ خطرناک حصوں میں منتقل کردیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اہم دریافت یہ ہے کہ بعد میں اضافی نیند سے کیلوریز کا استعمال کم ہوجاتا ہے اور جسمانی وزن بھی گھٹ جاتا ہے مگر توند کی چربی کا ذخیرہ بڑھتا رہتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس سے عندیہ ملتا ہے کہ ماضی میں یند کی کمی سے چربی کے ذخیرے کا کوئی ایسا میکنزم متحرک ہوجاتا ہے جس کا ابھی تک ہمیں علم نہیں اور مختصر وقت تک مناسب نیند سے اس عمل کو ریورس نہیں کیا جاسکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ طویل المعیاد بنیادوں پر ناکافی نیند موٹاپے، دل کی شریانوں اور میٹابولک امراض کا باعث بن سکتی ہے۔

اس تحقیق میں 12 صحت مند افراد کو شامل کیا گیا تھا جن کا جسمانی وزن مناسب تھا اور ان کو 2 گروپس میں تقسیم کیا گیا اور 2 بار 21 دن کے سیشنز کا حصہ بنایا گیا۔

پہلی بار ان کو معمول کے دورانیے تک نیند کی اجازت دی گئی جبکہ دوسری بار نیند کا دورانیہ کم کردیا گیا، ہر سیشن کے درمیان 3 ماہ کا وقفہ دیا گیا۔

اس دوران ہر گروپ کو غذا تک مفت رسائی دی گئی، جبکہ ان کے جسمانی وزن اور دیگر پیمانوں کی بھی جانچ پڑتال کی گئی جس کے بعد اوپر درج نتائج سامنے آئے۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل آف دی امریکن کالج آف کارڈیالوجی میں شائع ہوئے۔

اس سے قبل ستمبر 2021 میں بھی ایک تحقیق میں 20 ہزار کے قریب افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کرنے پر دریافت کیا گیا کہ نیند کی کمی کے شکار دن بھر میں غذائی اشیا سے ضرورت سے زیادہ کیلوریز جزوبدن بنالیتے ہیں۔

تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ اکثر افراد رات کو مشروبات اور غذاؤں کا استعمال کرتے ہیں، یعنی رات گئے تک جاگتے رہتے ہیں اور موٹاپے کا باعث بننے والے رویوں کو بھی اپنا لیتے ہیں جیسے جسمانی طور پر کم متحرک رہنا، اسکرین کے سامنے زیادہ وقت گزارنا، ہلکی پھلکی اشیا کو کھانا وغیرہ۔

محققین نے بتایا کہ ہم جانتے ہیں کہ نیند کی کمی موٹاپے سے منسلک ہے مگر یہ زیادہ واضح نہیں کہ ایسا کیوں ہوتا ہے۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل آف دی اکیڈمی آف نیوٹریشن میں شائع ہوئے۔

اس سے قبل ستمبر 2019 میں امریکا کی پینسلوانیا اسٹیٹ اسٹیٹ یونیورسٹی کی تحقیق میں بھی بتایا گیا تھا کہ نیند کی کمی کا ایک بڑا نقصان موٹاپے کی شکل میں بھی نکل سکتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ نیند کی کمی کے شکار افراد میں ضرورت سے زیادہ کھانے کی خواہش پیدا ہوتی ہے اور جسم کھانے سے ملنے والی اضافی توانائی کو چربی کی شکل میں ذخیرہ کرنے لگتا ہے۔

محققین کے مطابق ویسے تو ماضی کے سخت دور میں یہ اچھا میکنزم تھا کہ سخت حالات کے لیے جسم توانائی کو محفوظ کرے، مگر آج کے ترقی یافتہ دنیا میں یہ اچھا نہیں کیونکہ اب لوگ زیادہ تر بیٹھے رہتے ہیں جبکہ زیادہ کیلوریز والی غذائیں بغیر کوئی محنت کیے کم داموں میں دستیاب ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ نیند کی کمی کے شکار افراد جب زیادہ کیلوریز والی غذا کھاتے ہیں تو جسم میں انسولین کی سطح میں اضافہ ہوتا ہے اور غذا میں موجود چکنائی جسم میں ذخیرہ ہونے لگتی ہے جو کہ جسمانی وزن میں اضافے اور توند کا باعث بنتا ہے۔