تونسہ میں لگی ہوئی سرکس کے وسیع تر اثرات

ہم جنوبی پنجاب والے دو طرف طعنہ بازی کی زد میں ہیں۔ ایک تو یہ کہ جنوبی پنجاب سے باہر کے لوگ ہمیں وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے وسیب کا سمجھتے ہوئے نالائقی اور نااہلی کے طعنے مارتے ہیں۔ دوسرا یہ کہ جنوبی پنجاب پر خرچ ہونے والے بے تحاشا فنڈز کی افواہوں پر ہمیں ان کی بلاوجہ طعن و تشنیع سننا پڑتی ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ادھر جنوبی پنجاب میں بھی ٹکے کا کام نہیں ہوا۔ یعنی ہمیں بدنامی بھی مل رہی ہے اور فائدہ بھی کوئی نہیں ہو رہا۔ نہ ادھر کوئی ترقیاتی کام ہو رہا ہے اور نہ ہی کوئی نیک نامی مل رہی ہے۔
منیب لاہور سے ہر چوتھے دن بزدار صاحب کی ''گڈ گورننس‘‘ اور اعلیٰ انتظامی صلاحیتوں کے ترانے گاتا ہے اور فون پر ہماراتوا لگاتا ہے وہ باقی لاہوریوں کے برعکس مجھے یہ نہیں کہتا کہ آپ کے جنوبی پنجاب کے وزیراعلیٰ نے تو آپ کے علاقے میں بڑا ترقیاتی کام کیا ہے یا بڑا پیسہ خرچ کیا ہے بلکہ وہ تو مجھے ہمیشہ یہ طعنہ مارتا ہے کہ آپ لوگ پہلے ''تخت لاہور‘‘ کے پنجابی حکمرانوں سے ہمہ وقت شاکی رہتے تھے کہ انہوں نے آپ کے وسیب کیلئے کچھ نہیں کیا۔ اب آپ نے جسے لاہور بھیجا ہے اس نے کون سا آپ کے علاقے کی ترقی کیلئے تیر مار لیا ہے؟ اب کون سا جنوبی پنجاب میں کوئی بہتری آ گئی ہے؟ کون سا آپ کے شہر میں کوئی دوسری سڑک بن گئی ہے۔
اس دوسری سڑک کا طعنہ بھی بڑا عجیب ہے۔ گزشتہ پونے تین سال میں ملتان شہر کے اندر صرف ایک سڑک جو مبلغ ڈیڑھ کلو میٹر لمبی ہے ا پ گریڈ ہوئی ہے بلکہ اپ گریڈ بھی کیا ہوئی ہے صرف پرانی سڑک پر روڑا ڈال کر اسفالٹ کی تہہ بچھا دی گئی ہے اور بس۔ اس سڑک کی قسمت بھی یوں جاگی کہ اس سڑک پر وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار صاحب کے ایک نہایت ہی عزیز دوست کا گھر ہے۔ بزدار صاحب اپنے اس دوست کے گھر تعزیت کیلئے تشریف لائے تو ان کے دوست نے سڑک کی حالت زار پر روشنی ڈالی۔ بزدار صاحب خود بھی اس سڑک کی حالت سے بخوبی آگاہ تھے کہ ادھر آتے جاتے رہتے تھے لہٰذا یاد دہانی کروانے پر ان کو خیال آیا کہ واقعی یہ سڑک تو بہت خراب ہے سو انہوں نے ڈیڑھ کلو میٹر پر مشتمل زکریا ٹاؤن والی سڑک کا میک اپ کروا دیا۔ یہ اور بات ہے کہ یہ سستا میک اپ چند ماہ میں ہی اترنا شروع ہو گیا ہے اور سیوریج لائن کے مین ہولز کے ڈھکن ٹوٹنا شروع ہو چکے ہیں یہ وہ واحد سڑک ہے جس نے ہم اہلِ ملتان کو یہ کہنے کے قابل نہیں رہنے دیا کہ ہمارے شہر میں کوئی ترقیاتی کام نہیں ہوا۔
سیاسی عروج و زوال بھی کیا عبرتناک چیز ہے جس سے کوئی عبرت حاصل نہیں کرتا۔ کل تک بزدار صاحب ملتان آتے تھے تو ان کے کلاس فیلوز بھی ان کو خاص نہیں لیتے تھے اور کل جب وہ اقتدار میں نہیں ہوں گے تو مجید امجد کے اس شعر کی تفسیر ہوں گے۔
میں روز ادھر سے گزرتا ہوں کون دیکھتا ہے
میں جب ا دھر سے نہ گزروں گا کون دیکھے گا
تاہم فی الحال اس درمیانی وقفے میں یہ عالم ہے کہ بزدار صاحب کا دورہ ملتان و جنوبی پنجاب اور کچھ کرے یا نہ کرے کسی نہ کسی سرکاری افسر کا سر ضرور لے جاتا ہے۔ دو ماہ قبل ملتان تشریف لائے تو ایک ایم ایس رگڑا گیا۔ اسی طرح میرے پیارے وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار مورخہ سات فروری کو ڈیرہ غازیخان آئے اور انہوں نے ڈیرہ غازیخان کیلئے چودہ ارب روپے کا ترقیاتی پیکیج اناؤنس کر دیا۔ بقول ایک دوست کے پیکیج اناؤنس کرنے میں کون سے پیسے لگتے ہیں؟ تاہم اس اناؤنس کردہ چودہ ارب روپے کے پیکیج پر تو اعلان سے پہلے ہی پیسے لگ گئے۔ یہ پیسے اس اشتہار پر لگے تھے جو وزیراعلیٰ کی ڈیرہ غازیخان آمد والے دن ادھر کے اخبارات میں شائع ہوا تھا۔ وزیراعلیٰ کی محکمہ اطلاعات کو سخت ہدایت ہے کہ وہ ان کے دورہ جنوبی پنجاب کے دوران اس روز کے تمام اخبارات‘ ان کے دورہ سے متعلق خبروں کے تراشے اور اشتہارات کی کٹنگ علی الصبح ان کی خدمت میں پیش کریں۔ ان کی اس ہدایت پر سختی سے عمل ہوتا رہا تاوقتیکہ ڈیرہ غازیخان کا دورہ آن پڑا۔ ڈیرہ غازیخان کے ڈویژنل انفارمیشن آفس کا ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز علی الصبح اپنی اس ڈیوٹی کو سرانجام دینے کیلئے ان کی رہائش گاہ واقع مونڈ کا روڈ ڈیرہ غازی خان پہنچ گیا جہاں وزیراعلیٰ صاحب قیام پذیر تھے۔ یہ ڈائریکٹر ایک سینئرافسر ہے اور ا گلے سال اپنی سروس پوری کر کے ریٹائر ہونے والا ہے۔ اس نے اخبارات کا پلندہ‘ خبروں کے تراشے اور اشتہار کی کٹنگ کی فائل وزیراعلیٰ صاحب تک پہنچانے کی کوشش کی مگر سکیورٹی والے بادشاہ ہوتے ہیں انہیں براہ راست تو وزیر اعلیٰ صاحب کے حضور پیش ہونے کہ اجازت نہ ملی تاہم سکیورٹی انچارج نے ڈائریکٹر سے اخبارات اور فائل پکڑ لی اور اسے کہا کہ وہ بے فکر ہو جائے یہ چیزیں وزیراعلیٰ تک پہنچ جائیں گی۔ اب درمیان میں کیا ہوا؟ یہ تو معلوم نہیں‘ تاہم اخبارات اور فائل عثمان بزدار صاحب تک تاخیر سے پہنچیں اور علم و ادب اور لکھنے پڑھنے کے عاشق عثمان بزدار کو اس سستی اور کاہلی پر شدید غصہ آیا اور انہوں نے اس سرکاری افسرکو اس کی علم دشمنی پر مبنی حرکت پر سبق سکھانے کا ارادہ ظاہر کر دیا۔
اگلے سال ریٹائر ہونے والے افسر کی اگلے گریڈ میں ترقی کی فائل لاہور میں پڑی تھی۔ پریشان حال اور بے گناہ جرم میں رگڑے جانے سے قبل اس نے ملتان کے ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز سجاد جہانیہ سے رابطہ کیا کہ وہ اس کی بے گناہی وزیراعلیٰ تک پہنچا دیں۔ سجاد جہانیہ وزیراعلیٰ عثمان بزدار کا ایف ایس سی کا کلاس فیلو اور بہاء الدین زکریا یونیورسٹی میں سیشن فیلو تھا۔ اس نے زمانہ طالب علمی کے تعلقات کی روشنی میں سفارش کی کوشش کی تاہم میرٹ اور قاعدے ضابطے کے پابند وزیراعلیٰ نے نہ صرف یہ کہ اگلے روز ملتان میں سجاد جہانیہ کو گھنٹہ بھر باہر کھڑا رکھنے کے بعد ملنے سے انکار کر دیا بلکہ اگلے روز اسے بھی معطل کر کے او ایس ڈی بنا دیا۔ انصاف کی پھرتیوں کا یہ عالم تھا کہ انہیں دو دن پرانی تاریخ میں معطل فرمایا۔
اب تازہ ترین واردات یہ ہے کہ بزدار صاحب مورخہ سات مارچ کو ملتان کے دورے پر تشریف لائے اور ملتان پبلک سکول روڈ پر واقع اپنے گھر میں ٹھہرے۔ جب وہ گھر جا رہے تھے تو مظفر گڑھ میں اپنی زمین پر قبضے کے بعد وزیراعلیٰ سے انصاف کے طالب چند لوگوں نے شکایت کی غرض سے ان کا راستہ روک لیا۔ پروٹوکول کے انکاری اور دورہ تونسہ کے دوران چشمے سے پانی پینے کی تصویر لگوانے والے درویش صفت وزیراعلیٰ نے راستہ روکنے جیسی گستاخی پر ملتان کے ڈپٹی کمشنر عامر خٹک اور سی پی او ملتان محبوب رشید کو معطل کر دیا۔ معطلی میں ایسی پھرتی دکھائی کہ ان کے چارج کسی کے حوالے کرنے کی زحمت بھی گوارا نہ کی۔
منیب نے لاہور سے فون کر کے پوچھا کہ ان دنوں وزیراعلیٰ نے کوئی اچھا کام بھی کیا ہے؟ میں نے کہا :وزیراعلیٰ اتنے بھی ناکام نہیں جتنا آپ خیال کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنے ایک دوست کو جسے پہلے انہوں نے تین جامعات کی سنڈیکیٹ کا رکن بنایا تھا اب انہیں گریڈ اٹھارہ سے اٹھا کر سیدھا زکریا یونیورسٹی میں گریڈ اکیس میں پروفیسر لگوا دیا ہے اور دوسرا اہم کام یہ کیا ہے کہ تونسہ میں عوام کی تفریح اور فلاح و بہبود کی خاطر ملک کی ایک مشہور سرکس کو رعایتی نرخوں پر ٹکٹ دینے کی ہدایت کرتے ہوئے اپنے شہر میں سرکس لگوا دی ہے۔ منیب ہنسا اور کہنے لگا: آپ تو خیر سے صرف تونسہ کی بات کر رہے ہو‘ انہوں نے تو پورے پنجاب کو سرکس میں تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔ اب ایسی شرپسندانہ بات کا کیا جواب دیا جا سکتا ہے ؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *