Site icon Dunya Pakistan

تھری ڈی ٹیکنالوجی سے تیار کردہ ’پوڈ‘ جو اپنی زندگی خود ختم کرنے میں مدد دے گا، استعمال اگلے سال سوئٹزرلینڈ میں شروع ہو گا

جدید ’تھری ڈی‘ ٹیکنالوجی سے اپنی زندگی خود ختم کرنے میں معاونت کرنے والا ’پوڈ‘ تیار کرنے والی کمپنی نے کہا ہے کہ اسے پوری امید ہے کہ اس ’پوڈ‘ کا استعمال اگلے سال سے سوئٹزرلینڈ میں شروع ہو جائے گا۔

سارکو نامی کمپنی نے ایک سوئس قانون دان کی خدمات حاصل کیں جن سے یہ قانونی مشورہ حاصل کیا گیا کہ اس مشین کا استعمال ملک کے کسی قانون سے متصادم تو نہیں۔

لیکن بہت سے دیگر قانونی ماہرین نے قانون کی اس تشریح سے اتفاق نہیں کیا۔

اپنی زندگی ختم کرنے میں مدد کرنے والے ایک ادارے ’ڈگنیتاس‘ نے کہا ہے کہ اس پوڈ کو زیادہ پذیرائی حاصل نہیں ہو گی۔

خود کشی میں مدد یا کسی کی معاونت سے اپنی جان خود ختم کرنے پر آمادہ شخص کو ایسے ذرائع مہیا کیے جاتے ہیں کہ وہ اپنی جان خود لے سکے اور سوئٹزلینڈ کے قانون میں اس کی اجازت ہے۔ سنہ 2020 میں اس طرح ایک ہزار تین سو افراد اپنی زندگیوں کا خاتمہ کر چکے ہیں۔

قانونی بحث

سوئٹزرلینڈ میں جو طریقہ رائج ہے اس میں مرنے کی خواہش رکھنے والے کو ایسے محلول دیے جاتے ہیں جن کے پینے سے اس کی زندگی ختم ہو جاتی ہے لیکن اس کے برعکس ’پوڈ‘ جو کہیں بھی لے جایا جا سکتا ہے اس میں نائٹروجن گیس بھر دی جاتی ہے اور آکسیجن کی مقدار تیزی سے گھٹا دی جاتی ہے۔

اس طریقہ سے انسان پہلے بے ہوش ہو جاتا ہے اور اندازً دس منٹ میں دم توڑ دیتا ہے۔

اس پوڈ کو اندر سے چلایا جا سکتا ہے جبکہ اس میں ایک ایمرجنسی بٹن بھی لگا ہوا ہے جس کو دبانے سے اس سے باہر نکلا جا سکتا ہے۔

یونیورسٹی آف سینٹ گیلن میں قانون کے پروفیسر ڈینیل ہورلیمین سے سارکو کمپنی نے اس بارے میں قانونی رائے لی تھی کہ پوڈ کا استعمال سوئٹزر لینڈ کے قوانین کے خلاف تو نہیں۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی دانست میں یہ پوڈ کسی طبی آلے کے زمرے میں نہیں آتا اس لیے اس کا شمار سوئس تھیروپیٹک مصنوعات کے قانون میں نہیں ہوتا۔

یونیورسٹی آف زورخ میں ڈاکٹر، قانون دان اور پورفیسر کرسٹن نوئل ونگر کا کہنا ہے کہ طبی آلات کے بارے میں ضواط موجود ہیں کیونکہ انھیں دیگر مصنوعات کے مقابلے میں زیادہ محفوظ ہونا چاہیے لیکن کس چیز کے صحت کے لیے فائدہ مند نہ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ حفاظت کے اضافی ضابطوں کے تحت نہیں آتی۔

ڈگنیتاس نے بی بی سی کو بتایا کہ 35 سال سے دو سوئس ایگزٹ گروپس اور 23 سال سے ڈگنیتاس سوئٹزرلینڈ میں رائج طریقہ کار، جس میں تربیت یافتہ عملے اور طبی ماہرین کی مدد اور موجودگی میں اپنی جان ختم کر لی جاتی ہے‘ لوگوں کی مدد کر رہے ہیں۔

ڈگنیتاس کے مطابق ’پیشہ وار افراد کی معاونت کے مروجہ طریقہ کار کی روشنی میں اس کا تصور کرنا کہ ٹیکنالوجی کیپسول سے اپنی زندگی ختم کرنے کے طریقے کو زیادہ پذیرائی حاصل ہو گی، بہت مشکل ہے۔‘

اگر اس مشین کے استعمال کی اجازت دے دی جاتی ہے تو اس کو روایتی طریقے سے فروخت کے لیے پیش نہیں کیا جائے گا۔

اس کیپسول کے خالق ڈاکٹر فلپ نیتشے نے کہا کہ اگر اس مشین کے استعمال کی اجازت دے دی جاتی ہے تو ان کا ارادہ ہے کہ وہ اس کا ڈیزائن کسی کے لیے بھی ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے ڈال دیں گے تاکہ یہ مشین سب کو مفت دستیاب ہو۔

انھوں نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ ان کا مقصد مرنے کے عمل کو غیر طبی بنا دینا ہے اور مرنے والے کو یہ اختیار دینا ہے کہ وہ خود اس بارے میں فیصلہ کرے کہ اسے کونسا طریقہ اختیار کرنا ہے۔

ڈاکٹر فلپ نیتشے ایک عرصے سے اپنی جان خود لینے کے حق کے لیے کوشاں رہے ہیں اور اسی وجہ سے وہ ’مسٹر ڈیتھ‘ کے نام سے مشہور ہو گئے ہیں۔

اس وقت سارکو پوڈ کے دو نمونے موجود ہیں اور ایک تیسرے نموے پر ہالینڈ میں کام ہو رہا ہے۔

ڈاکٹر نیشتے پر ماضی میں اس حوالے سے تنقید ہوتی رہی ہے اور کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ان کا یہ جدید ڈیزائن کا کیپسول موت کو پرکشش بنانے کی کوشش ہے۔

Exit mobile version