تھوڑی سی ویکسین کا سوال ہے بابا

کبھی کبھی تو یوں لگتا ہے کہ منیر نیازی کے بقول واقعی ہمارے ملک پر کسی آسیب کا سایہ ہے۔ شاعر نے کہا تھا کہ بظاہر حرکت تیز تر نظر آتی ہے اور سفر بہت آہستہ آہستہ کٹ رہا ہے لیکن ہماری حالت کچھ اس سے بھی ذیادہ خراب ہو چکی ہے۔ ہم نہ تو حرکت کر رہے ہیں، نہ سفر۔ بس ایک ہی جگہ کھڑے گلا پھاڑ پھاڑ کر ایک دوسرے کو گالیاں دینے، ایک دوسرے پر الزام دھرنے اور ایک دوسرے کو چور، ڈاکو قرار دینے میں لگے ہیں۔ اس سے کچھ اور ہو نہ ہو، دنیا کو یہ پیغام ضرور جا رہا ہے کہ پاکستان کے سارے سیاستدان چور، ڈاکو، اور لٹیرے ہیں۔ اپوزیشن کے پاس تو شاید کرنے کا کوئی کام نہیں ہوتا سو وہ حکومت وقت پر جائز ناجائز تنقید کرتی رہتی ہے۔ لیکن حکومتوں کے بیسیوں کام ہوتے ہیں۔ بہت سی ذمہ داریاں ہوتی ہیں۔ عوام کی ان سے توقعات جڑی ہوتی ہیں۔ اگر کوئی حکومت بھی عوام کی فلاح و بہبود اور ملک و قوم کے مفادات کے بجائے گالی گلوچ ہی کو ترجیح بنالے تو پھر جو کچھ ہو گا، وہ ہمیں اپنے چاروں طرف دکھائی دے رہا ہے۔
کاوڈ 19، یا کرونا کے حملے ابھی تک جاری ہیں۔ اب تو کوئی خاندان ایسا نہیں جس کا کوئی نہ کوئی فرد اس موذی مرض کا شکار نہ ہوا ہو۔ اللہ کا شکر ہے کہ ہمارے وطن عزیز میں اس مہلک وائرس کی تباہ کاریاں بہت کم ہیں۔ حالانکہ ہمارا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جو احتیاط نامی کسی چیز سے واقف نہیں۔ اس کے باوجود وبا کے اثرات کا محدود رہنا اللہ کا کرم ہی ہے۔ اب دنیا میں کئی طرح کی ویکسینیں تیار کر لی گئی ہیں۔ان ویکسینوں کی مطلوبہ خوراک لینے کے بعد توقع یہ کی جا رہی ہے کہ وائرس حملہ آور ہو بھی تو انسان مہلک اثرات سے محفوظ رہے گا۔ میڈیا میں اس طرح کی خبریں مسلسل آرہی ہیں کہ دنیا کے مختلف ممالک تیزی کیساتھ اپنے عوام کو اس مرض سے محفوظ رکھنے کیلئے ویکسین تیار کر رہے ہیں یا اس کے حصول کیلئے ہاتھ پاوں مار رہے ہیں۔گزشتہ روز ہی ایک سینئر مبصر ٹیلی ویژن پروگرام میں بتا رہے تھے کہ اسرائیل کے وزیر اعظم نے ایک ملک سے ویکسین حاصل کرنے کیلئے ذاتی طور پر درجنوں فون کئے اور پنجابی زبان میں مسلسل " ترلے" کرتے رہے۔ اسی پروگرام میں ایک وفاقی وزیر نے انکشاف کیا کہ پاکستان چین کی تیار کردہ ویکسین کی گیارہ لاکھ خوراکیں حاصل کرنے کا پروگرام بنا چکا ہے اور توقع ہے کہ فروری میں ہم ویکسی نیشن شروع کر سکیں گے۔
نہایت دکھ ہوتا ہے کہ ہماری بے نیازی کا عالم کیا ہے؟ عوام کی زندگیوں کی کیا قیمت اور اہمیت ہے؟ ہم اٹھتے بیٹھتے بھارت کو اپنا سب سے بڑا دشمن قرار دیتے ہیں۔ اس میں کوئی شک بھی نہیں۔ بھارت ہمارے وجود کے درپے ہے۔ ہمارے خلاف جنگیں لڑ چکا ہے۔ ہمارے ملک کو دو لخت کر چکا ہے۔ آج بھی وہ ملک میں انتشار اور عدم استحکام پیدا کرنے کی سازشوں میں مصروف ہے۔ لیکن ان سب باتوں کے باوجود چند حقیقتیں اور بھی ہیں۔ سب سے بڑی یہ کہ وہ ہمارا ہمسایہ ہے۔ جنوبی ایشیا ہی کا حصہ ہے۔ ہمارے ساتھ ہی آزاد ہوا۔ ہمارے جیسی مشکلات اور مسائل کا شکار تھا۔ تو کیا مناسب نہ ہو گا ایک نظر اپنے پڑوسی دشمن بھارت پر بھی ڈالی جائے کہ وہ کرونا سے محفوظ رکھنے والی ویکسین اپنے عوام کو مہیا کرنے کیلئے کیا کر رہا ہے؟
بھارت نے ویکسین کی شروعات ہی میں فیصلہ کر لیا کہ وہ آسٹرازی نیکا اور آکسفورڈ یونیورسٹی کی تیار کرہ ویکسین کاوی شیلڈ (COVISHIELD) بنانے کا لائسنس حاصل کر کے مقامی طور پر ویکسین تیار کرئے گا۔چنانچہ مغربی بھارت کے شہر پونا میں قائم "سیرم انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا " نے یہ لائسنس حاصل کر لیا۔ فوری طور پر اس منصوبے میں 20 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی۔ بھارت کی سرکاری ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کی منظوری کے بعد ویکسین کی تیاری کا کام شروع ہو گیا۔یہ خبر ہم پاکستانیوں کیلئے حیرت یا شاید تھوڑی سی ندامت کا باعث بھی ہو کہ اس وقت بھارت کا یہ دوا ساز ادارہ، دنیا میں سب سے ذیادہ ویکسین بنانے والا ادارہ ہے۔ بلکہ 2020 میں بھارت دنیا میں سب سے ذیادہ ویکسین تیار کرنے والا ملک بن چکا تھا۔ پونا کا سیرم انسٹی ٹیوٹ ایک ماہ میں کئی لاکھ خوراکیں تیار کر رہا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ بہت جلد وہ ایک کروڑ ماہانہ کی صلاحیت حاصل کرنے جا رہا ہے۔ سیرم انسٹی ٹیوٹ کی انتظامیہ کہتی ہے کہ یہ مقدار سالانہ ڈیڑھ ارب خوراکوں تک بڑھائی جا سکے گی۔ انسٹی ٹیوٹ پہلے ہی بیس لاکھ خوراکیں آزمائشی (testing) طور پر فراہم کر چکاہے۔

ایک اور بھارتی کمپنی "بھارت بائیو ٹیک" بھی کاواکسن (COVAXIN) ویکسین کی تیاری میں مگن ہے۔ یہ ویکسین انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ (ICMR) کے اشتراک سے تیار کی گئی ہے۔ اسکی تیار کردہ ویکسین کو ڈرگ کنٹرول اتھارٹی کی منظوری کے بعد جولائی 2020 سے آزمائشی طور پر لگانا شروع کر دیاگیا۔ 1996 میں بھارتی شہر حیدر آباد میں قائم ہونے والی یہ دوا ساز فیکٹری 30 کروڑ خوراکیں سالانہ تیار کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ بھارت بائیو ٹیک کا دعوی ہے کہ اس کی ویکسین دو سال سے 12 سال کی عمر کے بچوں کو بھی لگائی جا سکتی ہے۔ بھارتی حکومت سنجیدگی سے غور کر رہی ہے کہ تمام بچوں کیلئے یہ ویکسین مہیا ہو جائے۔ ان دونوں ویکسین ساز فیکٹریوں کی مجموعی پیداوار کا تخمینہ بتاتا ہے کہ اس وقت بھارت، کرونا ویکسین تیار کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ البتہ 2021 میں امریکہ کو بھارت پر سبقت حاصل ہو جائے گی جو سالانہ چار ارب 81 کروڑ خوراکیں تیار کرئے گا۔ بھارت دوسرے نمبر پر رہے گا جسکی پیداوار تین ارب ساٹھ کروڑ خوراکیں ہو گی۔ چین تین ارب دس کروڑ کے ساتھ تیسرے نمبر پر آجائے گا۔ ان ممالک کے بعد برطانیہ اور روس کا نمبر آئے گا۔
بھارت میں کل یعنی 16 جنوری سے ملک بھر میں ویکسی نیشن کا آغاز ہو رہا ہے۔ پہلے مرحلے کیلئے سیرم انسٹی ٹیوٹ ایک کروڑ دس لاکھ اور بھارت بائیو ٹیک 55 لاکھ خوراکیں فراہم کر چکا ہے۔ سیرم انسٹی ٹیوٹ نے بھارتی حکومت کو پہلی دس کروڑ خوراکیں صرف دو سو روپیہ فی خوراک فروخت کرنے کا معاہدہ کیا ہے۔ دونوں بھارتی کمپنیوں کا کہنا ہے کہ ان کے پاس سات کروڑ خوراکوں کا سٹاک پہلے سے موجود ہے۔ بھارت دنیا کو ویکسین برآمد کرنے والا ملک بھی بن چکا ہے۔ صرف سیرم انسٹی ٹیوٹ کو برازیل، مراکش، سعودی عرب، بنگلہ دیش، میانمار، جنوبی افریقہ سے کروڑوں ویکسین خوراکوں کے آرڈر موصول ہو چکے ہیں۔بنگلہ دیش بھارت سے چھ مرحلوں میں تین کروڑ خوراکیں درآمد کرنے کا معاہدہ کر چکا ہے۔ 50 لاکھ خوراکوں کی پہلی کھیپ اسی ماہ آرہی ہے۔ بنگلہ دیش جرمنی اور بعض دیگر ذرائع سے بھی ویکسین حاصل کرنے کی سر توڑ کوششیں کر رہا ہے۔ بھارت کی کل آبادی ایک ارب بتیس کروڑ ہے جسکے لئے وافر ویکسین ملک کے اندر ہی موجود ہے۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے بڑے فخر سے کہا کہ "ویکسین کیلئے دنیا ہماری طرف دیکھ رہی ہے"۔
ہم کس طرف دیکھ رہے ہیں؟ کچھ پتہ نہیں۔ اپنے ملک کے اندر ویکسین تیار کرنا تو کجا، ہمیں گیارہ لاکھ خوراکوں کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ ابھی تک قوم کو کچھ پتہ نہیں کہ دنیا کا کوئی حاتم طائی اپنے ہاں سے بچی کچھی خوراکیں ہمیں عطیہ کرئے گا۔ شاید ہمیں اس کیلئے بھی ملکوں ملکوں آواز لگانا پڑے "تھوڑی سی ویکسین کا سوال ہے بابا"

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *