تیسرا ٹیسٹ: آسٹریلیا کے دو وکٹوں کے نقصان پر 70 رنز

آسٹریلیا نے پاکستان کے خلاف تیسرے ٹیسٹ میچ کی پہلی اننگز میں عثمان خواجہ اور اسٹیو اسمتھ کی شراکت کی بدولت دو وکٹوں کے نقصان پر 70رنز بنا لیے ہیں۔

لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے جا رہے سیریز کے تیسرے اور آخری ٹیسٹ میچ میں آسٹریلیا کے کپتان پیٹ کمنز نے ٹاس کا سکا اپنی ٹیم کے حق میں پلٹنے کے بعد پہلے بلے بازوں کو آزمانے کا فیصلہ کیا ہے۔

آسٹریلیا نے اننگز کا آغاز کیا تو اننگز کے تیسرے ہی اوور میں شاہین شاہ آفریدی کی گیند وکٹوں کے عین سامنے ڈیوڈ وارنر کے پیڈ پر لگی اور وہ آؤٹ قرار دیے گئے۔

ابھی آسٹریلین ٹیم اس نقصان سے سنبھلی بھی نہ تھی کہ ایک گیند بعد ہی مارنس لبوشین کھاتا کھولے بغیر ہی شاہین کی دوسری وکٹ بن گئے۔

8رنز پر دو اہم وکٹیں گرنے کے بعد عثمان خواجہ کا ساتھ دینے اسٹیو اسمتھ آئے اور دونوں نے بتدریج اسکور کو آگے بڑھانا شروع کیا۔

اسکور 41 تک پہنچا ہی تھا کہ نعمان علی کو باؤلنگ کے لیے لایا گیا اور ان کی دوسری گیند پر گیند عثمان خواجہ کے بلے کا باہری کنارہ لیتی ہوئی سلپ میں کھڑے بابر اعظم کے پاس گئی لیکن وہ کیچ نہ تھام سکے۔

اگلی ہی گیند پر پاکستان کو ایک اور وکٹ لینے کا موقع ملا لیکن اس مرتبہ نعمان اپنی ہی گیند پر اسمتھ کا کیچ نہ لے سکے۔

مارچ 2009 میں پاکستان اور سری لنکا کے درمیان کھیلے جا رہے ٹیسٹ میچ کے دوران تیسرے دن کے کھیل کے لیے اسٹیڈیم آنے والی سری لنکن ٹیم پر لاہور میں دہشت گردوں نے حملہ کیا تھا جس کے بعد میچ منسوخ کردیا گیا تھا۔

اس حملے میں چند سری لنکن کھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ میچ آفیشلز بھی زخمی ہوئے تھے لیکن اس کے بعد پاکستان پر انٹرنیشنل کرکٹ کے دروازے بند ہو گئے تھے اور تقریباً ایک دہائی تک پاکستان کسی بڑی ٹیم کی اپنی سرزمین پر میزبانی سے محروم رہا تھا۔

پاکستان نے اس تمام عرصے کے دوران اپنی تمام ہوم سیریز نیوٹرل مقامات بالخصوص متحدہ عرب امارات میں کھیلیں تاہم سیکیورٹی صورتحال میں بہتری، پاکستان کرکٹ بورڈ کی کوششوں اور پاکستان سپر لیگ کے ملک میں کامیاب انعقاد سے ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ مکمل طور پر بحال ہو گئی۔

واضح رہے کہ پاکستان اور آسٹریلیا کے سیریز کے ابتدائی دونوں ٹیسٹ میچ ڈرا ہو گئے تھے۔

میچ کے لیے دونوں ٹیمیں ان کھلاڑیوں پر مشتمل ہیں۔

پاکستان: بابر اعظم(کپتان)، عبداللہ شفیق، امام الحق، اظہر علی، فواد عالم، محمد رضوان، نعمان علی، ساجد خان، نسیم شاہ، شاہین شاہ آفریدی اور حسن علی۔

آسٹریلیا: پیٹ کمنز(کپتان)، ڈیوڈ وارنر، عثمان خواجہ، مارنس لبوشین، اسٹیو اسمتھ، ٹریوس ہیڈ، کیمرون گرین، ایلکس کیری، مچل اسٹارک، نیتھن لائن اور مچل سویپسن۔