تین پارلیمانی کمیٹیوں کو آج جی ایچ کیو میں بریفنگ دی جائے گی

اسلام آباد: ملک کی فوجی قیادت آج داخلی و خارجی سیکیورٹی صورت حال بشمول کشمیر پر 3 پارلیمانی کمیٹیوں کو جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) میں بریفنگ دے گی۔

 رپورٹ کے مطابق جو کمیٹیاں بریفنگ کے لیے جی ایچ کیو جائیں گی ان میں پارلیمانی کمیٹی برائے کشمیر، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع شامل ہیں۔

یہ طالبان کے افغانستان کا کنٹرول سنبھالنے اور داعش کے خطرناک دہشت گرد حملے کے بعد فوجی قیادت کی جانب سے پارلیمینٹیرینز کو دی جانے والی پہلی سیکیورٹی بریفنگ ہے۔

افغانستان کے علاوہ پارلیمینٹیرینز کو مقبوضہ جموں کشمیر کی صورتحال پر بھی بریفنگ دی جائے گی۔

ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ توقع ہے کہ پارلیمینٹیرینز جی ایچ کیو میں 5 سے 6 گھنٹے گزاریں گے اس دوران ان کی چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ 2 گھنٹے کی ملاقات بھی ہوگی۔

بریفنگ ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز (ڈی جی ایم او) دیں گے۔

دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سینیٹر رضا ربانی نے مطالبہ کیا کہ جی ایچ کیو کے بجائے بریفنگ پارلیمنٹ ہاؤس میں ہونی چاہیے۔

یہاں یہ بات مدِ نظر رہے کہ سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی رہنماؤں کو اس طرح کی ایک بریفنگ یکم جولائی کو پارلیمنٹ ہاؤس میں دی گئی تھی جو فوجی اور انٹیلیجنس رہنماؤں نے قومی مفاد کے معاملات پر تقسیمی سیاست دور کرنے کے لیے بلائی تھی۔

ساتھ ہی انہوں نے خبردار کیا تھا کہ اسٹریٹجک چیلنجز اور خارجہ تعلقات میں متعلقہ پالیسی کی تبدیلی ملک کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔

گزشتہ بریفنگ انٹرسروسز انٹیلیجنس (آئی ایس آئی) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے پارلیمانی رہنماؤں بشمول قائد حزب اختلاف شہباز شریف کو علاقائی ماحول اور ممکنہ خطرات، غیر ملکی افواج کے افغانستان سے انخلا کے بعد ابھرتی ہوئی صورتحال اور امن مذاکرات میں جمود، مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی پیش رفت اور چین کو روکنے کی امریکی کوششوں پر دی گئی تھی۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی اجلاس میں شرکت کی تھی اور پارلیمینٹیرینز کے سوالات کے جوابات دیے تھے۔

سیاسی قیادت کو بتایا گیا تھا کہ صورتحال کے پیشِ نظر قومی مفاد کے امور پر اتفاق رائے برقرار رکھنا ضروری ہے اور سیاست کو گورننس اور اس سے متعلق سیاسی معاملات تک ہی محدود رہنا چاہیے۔

خیال رہے کہ 15 اگست کو کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد سے اپوزیشن جماعتیں حکومت سے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے اور اسے علاقائی صورتحال بریفنگ دینے اور ان چیلنجز پر قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کا مطالبہ کررہی تھیں جن کا ملک کو سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

تینوں کمیٹیوں کے اہم اراکین میں سینیٹ کے قائد ایوان ڈاکٹر شہزاد وسیم کے علاوہ پی ٹی آئی کے فیصل جاوید، محسن عزیز، میجر (ر) طاہر صدیق جبکہ مسلم لیگ (ن) کے اعظم نذیر تارڑ، خرم دستگیر، شیخ روحیل اصغر، برجیس طاہر اور ریاض حسین پیر زادہ کے علاوہ پیپلز پارٹی کے راجا پرویز اشرف، شیری رحمٰن اور آفتاب شعبان میرانی شامل ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *