ثابت کرو کہ تم وجود رکھتے ہو

فلسفے کا استاد کمرے میں داخل ہوا اور اپنے شاگردوں سے بولا ’’آج میرا آخری لیکچر ہے، آج میں تم سے ایک سوال پوچھوں گا، اِس سوال کے جواب سے مجھے اندازہ ہوگا کہ میں نے جو فلسفہ پڑھایا وہ کس حد تک تم لوگوں کوسمجھ آیا‘‘۔ 

یہ کہہ کر استاد نے اپنی کرسی اٹھائی اور شاگردوں کے سامنے اسے اُلٹ کر رکھتے ہوئے کہا ’’ثابت کرو کہ یہ کرسی وجود نہیں رکھتی‘‘ شاگردوں نے حیرت سے سوال سنا اور پھر جواب لکھنے میں جُت گئے، البتہ ایک شاگرد نے چند لمحوں میں ہی جواب لکھ کر استاد کے حوالے کر دیا، نتیجہ آیا تو اُس کے نمبر سب سے زیادہ تھے، اُس شاگرد نے جواب میں فقط اتنا لکھا تھا کہ ’’کون سی کُرسی؟‘‘

رات کو اگر آپ فلسفے کی کوئی دقیق کتاب پڑھ کر سوئے ہوں تو صبح اسی قسم کے لطیفے دماغ میں آتے ہیں۔ اِن فلسفیوں کو اور تو کوئی کام نہیں تھا صبح شام یہی سوچا کرتے تھے کہ فلاں چیز وجود رکھتی ہے یا نہیں، ایک صاحب تو یہ سوچ سوچ کر ایسے پاگل ہوئے کہ خود اپنے ہی وجود پر سوال اٹھا دیا اور پھر ایسا جواب دیا جو فلسفے کی تاریخ کا سب سے مشہور قول بن گیا ’’I think therefore I am۔ ‘‘ڈیکارٹ۔ 

پس منظر اس جملے کا وہ پرانی بحث تھی جو اکثر فلسفیوں کے درمیان ہوتی ہے کہ کسی بھی چیز کے وجود کو کیسے ثابت کیا جائے کیونکہ ہو سکتا ہے جسے ہم حقیقت سمجھ رہے ہوں وہ محض کوئی خواب ہو، بقول غالبؔ ’’تھا خواب میں خیال کو تجھ سے معاملہ، جب آنکھ کھل گئی نہ زیاں تھا نا سود تھا‘‘ (اِس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ رات کوسوتے میں... خیر چھوڑیں)۔ 

ڈیکارٹ کا بھی یہ کہنا تھا کہ اِس بات کا تعین کیسے ہو کہ جو کچھ ہم اپنے اردگرد دیکھتے ہیں آیا وہ خواب ہے یا حقیقت کیونکہ ہمارے حواس ہمیں کسی بھی چیز کی مکمل اور درست تصویر پیش نہیں کر سکتے، مثلاً ایک شخص اگر اپنے گھر میں کرسی پر نیم دراز ہوکر آتشدان کے پاس بیٹھا ہے تو کیا ثبوت ہے کہ ایسا شخص خواب نہیں دیکھ رہا کیونکہ جب ہم خواب دیکھتے ہیں تو اُن پر بھی حقیقت کا ہی گمان ہوتا ہے۔ 

ڈیکارٹ نے کہا کہ اس معمے میں کم از کم ایک بات طے ہے کہ ہم سوچ رہے ہیں کہ یہ خواب ہے یا حقیقت لہٰذا ہماری سوچ اِس بات کا ثبوت ہے کہ ہم وجود رکھتے ہیں۔ ڈیکارٹ کی خاص بات یہ تھی کہ وہ انسان کی اُس صلاحیت کا قائل تھا جو منطقی انداز میں سوچ کو ابھارتی ہے، اس کا ماننا تھا کہ دنیا میں جو خرابی نظر آتی ہے وہ دراصل ہماری غیر منطقی سوچ، زندگی کے بارے میں مبہم تصورات اور ذہنی الجھنوں کی وجہ سے ہے چنانچہ ڈیکارٹ کے فلسفے کا مقصد انسانی ذہن کو درست انداز میں سوچ کیلئے تیار کرنا ہے۔ 

ڈیکارٹ کا طریقہ کار بظاہر بہت سادہ ہے، وہ کہتا ہے کہ بنیادی سوالوں کے جواب تلاش کرنے کیلئے ضروری ہے کہ آپ گمبھیر اور پُرپیچ مسائل کو چھوٹے چھوٹے سادہ ٹکڑوں میں تقسیم کر دیں اور پھر اِن ٹکروں کو سادہ سوالات میں تبدیل کرکے جواب تلاش کرنے کی کوشش کریں، ڈیکارٹ اسے Method of Doubts (روش شک و تردید) کہتا ہے مثلاً جب ہم اِس معمے کو حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ زندگی کا مطلب کیا ہے تو ہم اِس بڑے اور پیچیدہ سوال کو چھوٹے چھوٹے سادہ سوالات میں توڑ نہیں پاتے اور یوں بنیادی سوال وہیں کھڑا رہتا ہے۔

ڈیکارٹ سیبوں سے بھری ایک ٹوکری کی مثال دیتا ہے جس میں اچھے اور خراب دونوں قسم کے سیب ہیں اور کہتا ہے کہ بطور فلسفی کسی گتھی کو سلجھانا ایسے ہی ہے جیسے اِس ٹوکری کا مکمل معائنہ کرکے اِس میں سے اچھے اور خراب سیب چھانٹی کرکے علیحدہ کرنا، یعنی منطقی اعتبار سے درست بات کو تسلیم کرنا اور کمزور دلیل کو رد کرکے ٹوکری سے باہر پھینکنا!

سچائی تک پہنچنے کیلئے ڈیکارٹ ایک دوسرا طریقہ بھی بتاتا ہے جو کافی حد تک انقلابی ہے، وہ کہتا ہے کہ کسی بات کو درست تسلیم کرنے کا پیمانہ یہ نہیں ہونا چاہیے کہ صدیوں سے لوگ اُس بات پر اعتقاد رکھتے چلے آرہے ہیں اور کوئی بھی بات محض اِس لیے سچ نہیں ہو سکتی کہ حاکم وقت یا اتھارٹی اس بات کو درست مانتی ہے بلکہ ہر نظریے کو انفرادی تجربے اور عقل کی کسوٹی پر پرکھ کر آگے بڑھنا چاہیے۔ 

ڈیکارٹ نے یہ صرف کہا نہیں بلکہ اِس پر عمل بھی کرکے دکھایا، اُس نے اپنے ذہن سے تعصبات اور پہلے سے منجمد خیال کو اکھاڑ پھینکا اور زندگی میں عملی تجربات شروع کیے، رختِ سفر باندھا اور ہر مزاج کے انسانوں سے ملا، ان کے خیالات اور افکار سمجھنے کی کوشش کی اور پھر اپنے آپ کو مختلف قسم کی صورتحال میں ڈال کر ذاتی تجربات بھی کیے، کسی فلسفی کا یوں عملاً اپنے نظریات کو پرکھنا خاصا حیران کُن ہے۔ 

ایک دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ جب ڈیکارٹ کے دوست اسے ملنے کیلئے صبح گھر آتے تو وہ ڈیکارٹ کو بستر پر لیٹا ہوا دیکھ کر حیران ہو جاتے کہ یہ عملی فلسفی اب تک بستر سے ہی نہیں اٹھا، اُس کے دوست پوچھتے کہ وہ بستر میں کیا کر رہا ہے تو ڈیکارٹ اطمینان سے جواب دیتا ’’میں سوچ رہا ہوں‘‘۔

کسی بھی فلسفی کی طرح ڈیکارٹ کا فلسفہ سمجھنا بھی کوئی آسان کام نہیں کیونکہ فلسفیوں کا یہی تو خاصا ہے کہ وہ سادہ سی بات کو مشکل بنا کر پیش کریں، اپنے سارتر صاحب نے بھی یہی کام کیا، وجودیت کا ایسا دقیق فلسفہ لکھا کہ بندہ سر پکڑ کر بیٹھ جاتا ہے کہ آنجناب کہنا کیا چاہتے ہیں۔ 

ڈیکارٹ کی مگر یہ بات مجھے پسند آئی کہ صبح دیر تک بستر میں گھسے رہنا اور دنیا کی بےثباتی پر غور کرنا ہی دراصل ایک سچے فلسفی کی نشانی ہے۔ 

میں تو کہتا ہوں کہ بستر سے نکل کر بھی کچھ کام کرنے کی ضرورت نہیں، بندہ روغنی کلچوں کے ساتھ مغز کا ناشتہ کرتے ہوئے بھی فلسفیانہ گتھیاں سلجھا سکتا ہے، ڈیکارٹ نے تو کہا تھا نا کہ میں سوچتا ہوں اسی لیے وجود رکھتا ہوں، میں کہتا ہوں کہ میں کھاتا ہوں اسی لیے وجود رکھتا ہوں۔ 

بس یہی فرق ہے سترہویں صدی کے فرانسیسی فلسفی اور اکیسویں صدی کے پاکستانی ’’دانشور‘‘ میں، جس دن ہم سوچنا شروع کردیں اس دن ہمارا وجود بھی کوئی معنی رکھے گا!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *