ثبات ایک تغیرکوہے زمانے میں

گزرتے وقت کے سا تھ سا تھ صرف افراد کے مزاج میں ہی تبدیلی نہیں آتی، اقوام کے رویے اور پسند، نا پسند بھی بدلتی رہتی ہے۔ اسی لیے تو ثقا فت کو ئی جامد چیز نہیں ہے۔ زندہ قو مو ں کے طرز زندگی میں تغیر لا زمی امر ہے۔ رہن سہن میں ارتقا ء نا قا بل مفر عمل ہے۔ جا پا نی لو گو ں کی ایک خا ص با ت یہ ہے کہ یہ نئی چیز اپنا نے میں ذرا بھی نہیں ہچکچا تے۔ روایت پسندی، سا دگی اور جدت پر ستی کا ایسا خو بصور ت امتزاج میں نے تو اس جہا ن کے کسی اور خطے کے لو گو ں میں نہیں پا یا۔جا پا نی رسم الخط کا بڑا حصہ صدیو ں پہلے چین سے درا ٓمد کیا گیا اور اسے جو ں کا تو ں اپنا لیا گیا۔کھا نے کے میز پر نظر ڈالیں تو بیرو نی مما لک سے آنے والی کئی اشیا ئے خو ردنی ایسی ہیں جو اب یہا ں کے روایتی کھا نو ں کا حصہ بن چکی ہیں۔ غیر ملکی ریستو رانو ں کا میں نے قصداً ذکر نہیں کیا، ورنہ شا ید ہی دنیا کا کو ئی قا بل ذکر ملک ایسا ہو گا جس کے روایتی کھا نو ں کا یہا ں ریستو ران مو جو د نہ ہو، اور مقا می با شندے اس پکوا ن کے گا ہک نہ ہو ں۔
کھا نے پینے کے ذوق میں ارتقا ء کی ایک تا زہ مثا ل کا فی کا بڑھتا ہوا استعما ل ہے۔ صدیو ں سے اس دیس میں سبز چا ئے اور بھنے چا ول سے کشید کردہ چا ئے روایتی مشروب ما نے جا تے ہیں۔ چا ئے بنا نے اور پیش کر نے کا فن یہا ں کے لو گو ں کو اتنا عزیز ہے کہ اس مو ضو ع پر ہزاروں کتا بیں لکھی جا چکی ہیں۔ با قا عدہ سکو ل کھلے ہو ئے ہیں جو فقط چائے بنا نے اور پیش کر نے کی تر بیت دیتے ہیں، ایسے سکو ل خوا تین میں خصو صا ً بہت مقبول ہیں۔چا ئے پینے کی پر تکلف تقریبا ت منعقد کی جا تی ہیں، ہم مشرب لو گ بعض اوقا ت سینکڑوں کلو میٹر کا سفر طے کر کے صر ف چا ئے کی پیا لی پینے کے واسطے اکٹھے ہو تے ہیں۔ ہلکی پھلکی گپ شب کر تے ہیں۔ گفتگو کا دائرہ عمو ما ًثقا فتی و معا شر تی مو ضو عا ت ہو تے ہیں، ثقیل گفتگو سے پر ہیز کیا جا تا ہے، اور بعض اوقا ت تو رسمی تعا رف ہی ہو پا تا ہے تو یہ تقریب اپنے اختتا م کو پہنچ جاتی ہے، اس مو ضو ع پر الگ سے کبھی مضمو ن لکھو ں گا مگر آج کا فی کی بڑھتی ہو ئی عوامی مقبو لیت اور ترویج پر با ت کر نا چا ہتا ہو ں۔
آج کے اخبا ر کی خبر ہے کہ امریکہ سے تعلق رکھنے والا، عا لمی سطح پر سب سے مقبول اور بڑا کا فی ہا ؤ س چین، سٹا ر بکس، جاپا ن میں ایک کا روبا ری ڈیل کر نے جا رہا ہے جس کی ما لیت پا کستا نی روپے میں ایک سو ارب بنتی ہے۔ تفصیل کچھ یو ں کے کہ اس عا لم رنگ و بو کی سب سے بڑ ی کا فی شا پ کمپنی جس کی جا پا ن میں ایک ہزار سے زیا دہ شا خیں ہیں، دیگر ملٹی نیشل کمپنیو ں کی طرح اس کے بھی با زار میں حصص فرو خت ہو تے ہیں، ا س وقت سٹا ر بکس کی انتظا میہ کے پا س جا پا ن میں اس کے کا روبا ر کے انتا لیس فیصد حصص کی ملکیت ہے۔خبر کے مطا بق کمپنی نے اپنے بقیہ اکسٹھ فیصد حصص ایک سو ار ب روپے میں خریدنے پر آما دگی ظا ہر کر دی ہے۔ اس خبر سے ایک مو ٹی سی با ت تو سمجھ میں آجاتی ہے کہ سٹا ربکس کا فی شا پ کی جا پا ن میں مجمو عی ما لیت دو سو ارب روپے کے آس پا س تو کہیں ہو گی، گو کہ آجکل مقبو لیت کی دو ڑ میں یہ قدرے آگے دکھا ئی دیتا ہے مگر پھر بھی بنیا دی حقیقت تو یہی ہے کہ سٹا ر بکس جا پا ن میں پا ئی جا نے والی بہت سا ری کا فی شا پ کمپنیو ں میں سے ایک ہے۔ اس سے آپ ملک میں کا فی پینے والو ں کی مجمو عی تعداد اور مقدار کا شا ید اندازہ لگا سکیں۔ ذرا ٹھہر یے!!یہ تو صر ف کا فی بنا کر بیچنے والی دکا نو ں کا ذکر ہوا ہے، گھر اور دفا تر میں کا فی کا استعما ل ایک طرف رہا، یا د دلا تا چلو ں کہ جا پا ن میں دنیا کے کسی بھی ملک سے زیا دہ وینڈنگ مشین پا ئی جا تی ہیں، وینڈنگ مشین کو ”بر قی دکا ندا ر“کہہ لیں یا ”آلہء فرو خت“کیو نکہ ابھی تک اس لفظ کا اردو تر جمہ نہیں ہوا ہے،اور اداراہ مقتدرہ قومی زبا ن کے خا تمے کے بعد اس کا امکا ن بھی معدوم ہے، اس لیے ہم اب اپنی پسند کا ترجمہ کر نے میں آزاد ہیں۔ بہر حال ان کی تعداد جا پا ن میں پچا س لا کھ سے زائد ہے، اور ان پر روز مرہ ضروریات کی بہت سا ری چیزیں دستیا ب ہیں، ادھر سکہ مشین کے اندر ڈالا، ادھر سا ما ن مشین سے با ہر آگیا۔ ایسی مشینو ں پر نو ے فیصد قریبا ً مشروبا ت اور ٹکٹ فرو خت ہو تے ہیں۔ مشروبا ت میں سب سے زیا دہ فروخت ہو نے والا مشروب اگر بلیک کا فی نہیں بھی، دودھ ملی، شکر والی، ٹھنڈی، گر م کا فی کی تعداد جمع کر لیں تو بلا شبہ سب سے زیا دہ فرو خت ہو تی ہے۔ آپ کو یہ پڑھ کر یقینی طور پر حیرت ہو گی، اگر میں بتا دو ں کہ اربوں ڈالر سا لا نہ کی فرو خت کا حامل کا فی کا مشرو ب کچھ سا ل پہلے تک جا پا ن میں اجنبی اور پر دیسی سمجھا جا تا تھا۔ اس سلسلے میں آپکو ایک وا قع سنا تا ہو ں جس سے شا ید مشرو بی ذو ق کی تبدیلی کا اندا زہ ہو سکے گا۔
یہ تذکرہ بے محل نہ ہو گا کہ ٹو کیو نہ صر ف کر ہ ء ارض پر واقع سب سے گنجا ن آبا د شہر ہے، بلکہ اس دیس کی آبا دی کا کم و بیش پا نچوا ں حصہ اس شہر اور اس کے مضا فا ت میں رہا ئش پذیر ہے، ”گریٹر ٹو کیو“کہلا نے والے اس نگر کے ڈاؤن ٹا ؤن بھی کو ئی سا ت بنتے ہیں، جو شا ید ہی دنیا کے کسی اور شہر کے ہو ں گے، کا رو با ری ڈا ؤن ٹا ؤن ”شن جیکو“کہلا تا ہے، اس کی را تیں بھی روشن ہو تی ہیں، وقت کا تعین یہا ں ٹر یفک کے بہا ؤ اور لو گو ں کی آمد و رفت دیکھ کر نہیں کیا جا سکتا، دن اور رات کا فیصلہ گھڑی کی سو ئیا ں اور آسما ن کی سفیدی و سیا ہی فقط کر سکتی ہے۔ اسے ریڈ لا ئیٹ ڈسٹرکٹ سمجھتے ہیں۔
نو ے کی دہا ئی کے ابتدا ئی سا لو ں کا ذکر ہے، آسٹر یلیا سے میرے بڑے بھا ئی سے ملنے ان کے ایک دو ست یہا ں آئے ہو ئے تھے۔ را ت کے کھا نے کے بعد اس دوست نے کا فی پینے کی فر ما ئش کر دی، ہما را مرکز ی دفتر بھی ٹو کیو کے مذکو رہ با لا علا قے میں وا قع ہے، بھائی جا ن آسڑیلیا سے آئے مہما ن کو لیکر کا فی ہا ؤ س کی تلا ش میں نکلے، بعد از تلا ش بسیا ر پو رے ”شن جیکو“میں ایک کا فی شا پ نظر آئی، اس نے بھی کا فی کے فی کپ کا تین ہزار روپیہ وصو ل کیا، آج اسی علا قے میں بلا مبا لغہ سینکڑوں کا فی ہا ؤس ہو ں گے، کا فی کا وہی کپ آجکل دو،چا ر سو روپے سے زیا دہ کا نہیں ہے اور وینڈنگ مشین میں تو کا فی کا کین ہویا پھرکوئی دوسرامشروب ایک سو بیس ین کے سکے ڈالنے سے نکل آتا ہے۔
امریکی ریا ست سیا ٹل سے شروع ہو نیو الی سٹا ر بکس کا فی شاپ جا پا ن میں خاصی تاخیر سے پہنچی تھی۔ پہلی شا خ کا افتتا ح کہیں 1996ء میں ہوا تھا۔ اب اس کے چیف فنا نشنل آفیسر نے سر ما یہ کا ری کا نفرنس سے خطا ب میں کہا ہے ہما ری خوا ہش ہو گی کہ جا پا ن میں بڑھو تری کے زبردست مو اقع سے فا ئدہ اٹھا یا جا ئے کیو نکہ ایسی ما رکیٹ کا فی کے لیے اورکو ئی دوسری نہیں ہے۔
ایتھو پیا کے قبا ئلی چرو ا ہے نے صدیوں پہلے یہ محسو س کیا تھا کہ اس کے ریوڑبھیڑ، بکر یا ں جب کا فی کے دانے کھا تی ہیں تو مستی و سرور میں آکر اٹکھیلیاں کر نے لگتی ہیں، اس نے ایک دن تجسس سے مغلو ب ہو کر کا فی کے کچھ بیج کھا ئے تو خو د بھی اپنے بدن میں چستی سی محسو س کی، با ت قبیلے کے با قی لو گو ں تک پہنچنے کے بعد دیگر قبا ئل تک بھی پہنچ گئی،نتیجتاً جلدہی کا فی افریقی قبا ئل کی پہلے غذا کا حصہ اور پھر محبو ب مشرو ب بن گیا، فرانسیسی ایتھو پیا پر قبضہ کر نے کے بعد کا فی کو یور پ لیکر چلے گئے، کا فی کو بھو ن کر پیسنا اور پھر پینا یو رپی لو گو ں نے شروع کیا تھا۔ کا پے چینو کا فی کے سا تھ تو خیر ہم مسلما نو ں کی ایک تا ریخی نسبت ہے۔ جب سپین میں مسلما ن شکست کھا کر بھا گ گئے تو اپنے پیچھے کا فی کی بو ریا ں چھو ڑ گئے تھے، عیسا ئی جنرل نے اس کا فی کو پسوا یا اور گرم دودھ میں ملا کر اپنے فو جیو ں کو فتح کے خصو صی مشروب کے طور پر پیش کیا، فو جیو ں نے اسے مشن جا ن کر جشن فتح بر پا کیا۔ اس فا تح سپاہ سا لا ر کا نام جنرل کا پے چینو تھا، دو دھ ملی کا فی کا نام بعد ازاں اسی سے منسو ب ہو گیا۔ افریقی چرواہے کی اس دریا فت نے با قی عا لم فتح کر نے کے بعد گزشتہ چند سا لو ں میں یہاں بھی کامیا بی کے ایسے جھنڈے گا ڑے ہیں، کہ اب جا پا ن جیسے روایتی مشرقی ملک میں بھی کا فی کے بغیر رو زمرہ زندگی کا تصور محا ل ہے۔