جام کمال: وزیر اعلیٰ بلوچستان نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے وزیر اعلیٰ میر جام کمال خان نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

گورنر ہاؤس بلوچستان نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وزیر اعلیٰ جام کمال نے اپنا استعفیٰ پیش کیا ہے۔

یاد رہے کہ جام کمال کے خلاف بلوچستان اسمبلی میں تحریکِ عدم اعتماد پیش کی گئی تھی جس پر پیر کو رائے شماری ہونا تھی۔

اپوزیشن سمیت بی اے پی کے ناراض اراکین کی جانب سے مسلسل وزیراعلیٰ جام کمال سے استعفے کا مطالبہ کیا جارہا تھا۔

اتوار کی شام ٹوئٹر پر اپنے پیغام جام کمال نے لکھا: ’بہت سی سوچی سمجھی سیاسی رکاوٹوں کے باوجود میں نے بلوچستان کی مجموعی حکمرانی اور ترقی کے لیے اپنا وقت اور توانائی کو ایک سمت رکھا۔‘

انھوں نے مزید لکھا: ’انشااللہ احترام کے ساتھ چھوڑنا چاہوں گا اور خراب حکمرانی کی تشکیل کے ساتھ ساتھ ان کے مالیاتی ایجنڈے کا حصہ نہیں بنا چا ہوں گا۔‘

اس سے قبل اتوار کو ہی ٹوئٹر پر اپنے ایک اور پیغام میں جام کمال نے وزیر اعظم عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے ان سے درخواست کی کہ وہ اپنے وفاقی ارکان سے کہیں کہ وہ بلوچستان کے داخلی معاملات میں دخل اندازی نہ کریں اور تحریکِ انصاف کی صوبائی قیادت کو اپنا کردار ذمہ داری سے ادا کرنے دیں۔

استعفیٰ

سنیچر کی شب جام کمال کے مستعفی ہونے کی افواہیں بھی گردش کر رہی تھیں جن کی تردید انھوں نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کی تھی۔

اپنے پیغامات میں تحریکِ عدم اعتماد کے بارے میں ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’اقتدار اور لالچ کے بھوکے اپنا یہ شوق بھی پورا کر لیں‘۔

انھوں نے یہ کہا تھا کہ آنے والے دنوں میں صوبے کو جو بھی نقصان ہو گا اس کے ذمہ دار بلوچستان عوامی پارٹی کا ناراض گروپ، پی ڈی ایم اور بلوچستان عوامی پارٹی اور پاکستان تحریکِ انصاف کے وفاق میں موجود ’چند سمجھدار اور ذمے دار لوگ‘ ہوں گے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’اگر پی ڈی ایم جیت جاتا ہے اور ناراض ارکان کے ساتھ حکومت بناتا ہے تو ہم اپوزیشن میں بھی بیٹھنے کو تیار ہیں۔‘

اس سے قبل بلوچستان اسمبلی کے جن چار اراکین کو ’لاپتہ‘ قرار دیا جا رہا تھا وہ جمعے کو اسلام آباد میں منظر عام پر آ گئے تھے اور انھوں نے رات گئے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ وہ بدستور وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال کے مخالف گروپ کے رہنما عبدالقدوس بزنجو کے ساتھ ہیں۔

سنیچر کو یہ ارکان اسلام آباد سے کوئٹہ میں میر عبدالقدوس کے گھر پہنچے ہیں، جہاں وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال کے مخالف باقی دیگر اراکین بھی بڑی تعداد میں ٹھہرے ہوئے ہیں۔

یاد رہے کہ ان چار اراکین میں سے تین خواتین اراکین ہیں۔ یہ چاروں اراکین حکومتی اتحاد میں ناراض گروپ کا حصہ تھے اور وزیر اعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر انھوں نے اپنے دستخط بھی کر رکھے ہیں۔

جام کمال

20 اکتوبر کو جب وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی تو یہ اراکین اجلاس میں نہیں آئے، جس پر تحریک عدم اعتماد کے حامی اراکین نے اسمبلی گیٹ پر دھرنا دے دیا اور یہ الزام عائد کیا کہ صوبائی حکومت نے ان کو ’لاپتہ‘ کیا۔

تاہم وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال نے اس الزام کی تردید کی تھی۔ اسلام آباد میں منظر عام پر آنے والے اراکین میں بشریٰ رند، مہ جبین شیران، لیلیٰ ترین اور حاجی اکبر آسکانی شامل ہیں۔

واضح رہے کہ بلوچستان کی مخلوط حکومت چھ جماعتوں پر مشتمل ہے لیکن ان تمام اراکین کا تعلق وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال کی اپنی جماعت بلوچستان عوامی پارٹی سے ہے۔ ان میں اکبر آسکانی کے علاوہ باقی تمام اراکین پہلی مرتبہ خواتین کی مخصوص نشستوں پر رکن منتخب ہوئی تھیں۔

لیلیٰ ترین، اکبر آسکانی، بشریٰ رند

منظر عام پر آنے کے بعد ان اراکین نے کیا کہا؟

یہ امر باعث حیرت ہے کہ چاروں اراکین نے جو بیانات دیے ہیں وہ معمولی فرق کے ساتھ ایک ہی طرح کے ہیں۔ اکبرآسکانی نے کہا کہ کچھ لوگوں نے افواہیں پھیلائیں جن کی وہ تردید کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ خیرخیریت سے ہیں اپنے کام کے سلسلے میں اسلام آباد آئے تھے۔ ان کے مطابق ’میں اس روز اسمبلی اس لیے نہیں پہنچ سکا کیونکہ میں اسلام آباد آیا تھا۔ میں اپنے دوستوں اور میر قدوس بزنجو کے ساتھ ہوں۔‘

مہ جبین شیران نے کہا کہ ’میں کچھ مصروفیات کی وجہ سے اسلام آباد میں ہوں۔ ہم اپنے گروپ کے ساتھ ہیں اور ساتھ رہیں گے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ وہ مصروفیت کی وجہ سے اس روز اسمبلی نہیں پہنچ سکی تھیں۔

بشریٰ رند نے کہا کہ جیسا کہ ’میں نے ٹویٹ کی تھی کہ میں بیمار ہوں اور علاج کے سلسلے میں اسلام آباد آئی ہوں۔میرے گردے کے کچھ ٹیسٹ تھے جو الحمد اللہ ہو گئے اب میں بہتر محسوس کر رہی ہوں۔ آپ سب لوگوں نے میرے لیے دعائیں کریں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ہم کل بھی اس گروپ کا حصہ تھے اور آج بھی ہیں اور آخری وقت تک ان کی آواز ہیں اور ان کا ساتھ دیں گے۔‘

’لاپتہ‘ ارکان میں سے چوتھی رکن لیلیٰ ترین کا بھی کہنا تھا کہ ’میں کچھ مصروفیات کی وجہ سے اسلام آباد آئی تھی، جس وجہ سے اس روز اجلاس میں شرکت نہیں کر سکی۔‘

چاروں اراکین نے کہا کہ وہ سینیچر کو کوئٹہ جائیں گے اور عبد القدوس بزنجو کے گروپ کا حصہ بنیں گے۔

عبدالقدوس بزنجو
،تصویر کا کیپشنبلوچستان عوامی پارٹی کے ناراض ارکان عبدلقدوس بزنجو کے ہمراہ کلی الماس میں ایک گھر میں منتقل ہو گئے تھے۔

یاد رہے کہ حکمراں جماعت بلوچستان عوامی پارٹی سے تعلق رکھنے والے ناراض رکن لالہ رشید بلوچ نے 20 اکتوبر کو بلوچستان اسمبلی اجلاس میں شرکت کے لیے تاخیر سے پہنچنے پر وضاحت میں کہا تھا کہ ’میں ایک مولوی کے پاس دم کروانے گیا تھا جس کی وجہ سے مجھے اجلاس میں آنے میں تاخیر ہوئی۔‘

اسمبلی کے مرکزی دروازے پر میڈیا کے نمائندوں نے ان سے پوچھا گیا کہ وہ کیوں تاخیر سے آئے تو انھوں نے بات کرنے سے گریز کیا تاہم جاتے ہوئے یہ کہا کہ ’طبیعت خراب تھی میں دم کروانے گیا تھا۔‘

جبکہ بشریٰ رند نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ان کی طبیعت ناساز ہے اور وہ علاج کی غرض سے اسلام آباد میں ہیں۔

تحریک عدم اعتماد کے حامی اراکین کی قدوس بزنجو کے گھر پر ڈیرے

جب 20 اکتوبر کو ان اراکین نے اسمبلی گیٹ پر دھرنا دیا تھا تو پھر وہاں سے یہ تمام ارکان عبدلقدوس بزنجو کے ہمراہ کلی الماس میں ایک گھر میں منتقل ہو گئے تھے۔

بلوچستان اسمبلی کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ 30 سے زائد اراکین اپنے گھروں کی بجائے کسی اور گھر میں منتقل ہوئے۔ اس گھر میں ان کی رہائش اور کھانے پینے کے انتظامات ہیں۔

بلوچستان عوامی پارٹی کے نئے پارلیمانی رہنما میر ظہور بلیدی نے کلی الماس میں تحریک عدم اعتماد کے حامی اراکین کو اکٹھا کرنے کی ایک وجہ یہ بتائی کہ وہ اس لیے یہاں اکھٹے ہوئے کہ کہیں ان چار اراکین کی طرح کسی اور رکن کو ’لاپتہ‘ نہ کیا جائے۔

انھوں نے بتایا کہ چونکہ سپیکر عبدالقدوس بزنجو اسمبلی کے کسٹوڈین ہیں اس لیے تحریک عدم اعتماد کے حامی اراکین ان کے ساتھ رہائش پزیر ہیں۔

وزیراعلیٰ سے ناراض اراکین نے جہاں ان چار اراکین کو ’لاپتہ‘ کرنے کا الزام عائد کیا وہاں انھوں نے یہ بھی الزام عائد کیا ناراض اراکین پر دباﺅ ڈالنے کے لیے ان کے رشتہ داروں پر جعلی مقدمات قائم کیے جا رہے ہیں۔

منظرعام پر آنے والے اراکین کون ہیں؟

اسلام آباد میں منظر عام پر آنے والے اراکین میں بشریٰ رند، مہ جبین شیران ، لیلیٰ ترین اور حاجی اکبر آسکانی شامل ہیں۔ ان تمام اراکین کا تعلق وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال کی اپنی جماعت بلوچستان عوامی پارٹی سے ہے۔

ان میں اکبر آسکانی کے سوا باقی تمام اراکین پہلی مرتبہ خواتین کی مخصوص نشستوں پر رکن بنی تھیں۔ اکبر آسکانی بلوچستان اسمبلی کی نشست پی بی 48 کیچ سے منتخب ہوئے اور وہ جام کمال کی کابینہ میں مشیر برائے ماہی گیری تھے لیکن انھوں نے وزیر اعلیٰ سے ناراضگی کی بنیاد پر استعفیٰ دیا تھا۔

بشریٰ رند اور مہ جبین شیران پارلیمانی سیکریٹریز تھیں۔ انھوں نے بھی وزیر اعلیٰ جام کمال سے ناراضگی کی وجہ سے اپنے عہدوں سے استعفے گورنر بلوچستان کے حوالے کیے تھے۔ بشریٰ رند ناراض اراکین کے گروپ میں شامل ہونے سے پہلے وزیراعلیٰ کی پارلیمانی سیکریٹری برائے اطلاعات مقرر تھیں۔

چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی اور وزیر دفاع پرویزخٹک کی کوئٹہ آمد

وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان سے حکومتی اتحاد میں بڑی تعداد میں اراکین کی بغاوت اور اس کے نتیجے میں ان کے خلاف تحریک عدم پیش ہونے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر فریقین سے بات چیت کے لیے جمعہ کے روز چیئرمین سینٹ میر صادق سنجرانی اور وزیر دفاع پرویز خٹک کوئٹہ پہنچے ہیں۔

گورنر بلوچستان سید ظہور آغا کے علاوہ بعض دیگر شخصیات سے صوبائی حکومتی بحران سے متعلق بات کی۔ رات گئے تک جاری رہنے والی ان کی ملاقاتوں کی تفصیلات سے میڈیا کو آگاہ نہیں کیا گیا۔

جام کمال

کیا چاراراکین کے منظر عام پر آنے کے بعد وزیر اعلیٰ جام کمال کی مشکلات میں اضافہ ہوگا؟

بلوچستان اسمبلی کے کل 65 اراکین میں سے تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے سادہ اکثریت سے 33 اراکین کی حمایت درکار ہے۔

بلوچستان عوامی پارٹی اور دیگر اتحادی جماعتوں میں وزیر اعلیٰ جام کمال کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے اراکین کی تعداد 16سے زائد ہے جبکہ متحدہ حزب اختلاف نے بھی تحریک عدم اعتماد کی حمایت کا اعلان کر رکھا ہے۔

بلوچستان اسمبلی میں متحدہ حزب اختلاف کے اراکین کی تعداد 23 بنتی ہے جبکہ قائد حزب اختلاف ملک سکندر ایڈووکیٹ کا دعویٰ ہے کہ نواز لیگ کے منحرف رکن نواب ثناءاللہ زہری بھی تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے ان کے ساتھ ہیں۔

بلوچستان عوامی پارٹی کے ترجمان سردار عبدالرحمان کھیتران کا دعویٰ ہے کہ تحریک عدم اعتماد کو 38 سے زائد اراکین کی حمایت حاصل ہے۔

سینیئر تجزیہ کار رضا الرحمان کا کہنا ہے کہ ’بظاہر تحریک عدم اعتماد کے حامی اراکین کی تعداد زیادہ ہے جس کے پیش نظر اس کے کامیابی کے امکانات زیادہ ہیں۔‘

اگرچہ تحریک عدم اعتماد پر رائے شماری کے لیے 25 اکتوبر مقررکی گئی ہے لیکن رضا الرحمان کا کہنا ہے کہ ’رائے شماری سے پہلے وزیر اعلیٰ جام کمال کے استعفیٰ کے امکانات کو مسترد نہیں کیا جاسکتا ہے۔‘

تاہم 20 اکتوبر کو وزیراعلیٰ جام کمال خان نے اسمبلی سے خطاب کے دوران کہا تھا کہ وہ مستعفی نہیں ہوں گے بلکہ تحریک عدم اعتماد کا مقابلہ کریں گے۔

جام کمال کے خلاف ایک اور بغاوت؟

بلوچستان عوامی پارٹی میں موجود ناراض اراکین نے میر ظہور بلیدی کو بلوچستان عوامی پارٹی کا پارلیمانی رہنما بنا دیا ہے۔ انھوں نے سپیکر بلوچستان اسمبلی میر عبد القدوس بزنجو کو اس سلسلے میں باقاعدہ درخواست بھی دی کہ جام کمال کی بجائے ظہور بلیدی ان کے پارلیمانی رہنما ہیں۔

ایک بیان کے مطابق میر ظہور بلیدی کی صدارت میں ناراض اراکین کا اجلاس بھی ہوا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اجلاس میں ظہور بلیدی نے بلوچستان عوامی پارٹی کے اراکین کو ہدایت کی کہ تحریک عدم اعتماد پر جام کمال کے خلاف ووٹ دیں اور جام کمال کے خلاف ووٹ نہ دینے والے اراکین کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: