جام کمال کے استعفیٰ نہ دینے پر بلوچستان کابینہ کے تین ارکان اور دو مشیر مستعفی

وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال کی جانب سے حکمران اتحاد کے ناراض اراکین کی جانب سے دی جانے والی ڈیڈ لائن کو نظر انداز کرنے اور استعفیٰ نہ دینے کے بعد ان کی کابینہ کے تین ارکان اور دو مشیر مستعفی ہو گئے ہیں۔

وزیر اعلیٰ کا استعفیٰ نہ آنے پر ناراض وزیر اسد بلوچ نے کہا ہے کہ ناراض اراکین نے وزیر اعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا فیصلہ کیا ہے۔

ناراض اراکین نے منگل کے روز وزیر اعلیٰ کو مستعفی ہونے کے لیے 6 اکتوبر کی شام تک ڈید لائن دی تھی تاہم حکومت بلوچستان کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے کہا کہ وزیر اعلیٰ جام کمال خان استعفیٰ نہیں دیں گے۔

اپنے ایک ٹویٹ میں ترجمان نے کہا کہ وزیر اعلیٰ جام کمال خان کو اکثریتی اراکین کی حمایت حاصل ہے اس لیے وہ استعفیٰ نہیں دیں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’ناراض دوستوں کو منانے کی کوششیں جاری رہیں گی اور ان کی شکایات اور تحفظات دور کیے جائیں گے۔‘

وزیر اعلیٰ کا استعفیٰ نہ آنے پر جب بی بی سی نے ناراض صوبائی وزیر اسد بلوچ سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے وزیر اعلیٰ کو ایک باعزت راستہ دینے کا فیصلہ کیا تھا لیکن وزیر اعلیٰ نے کہا ہے کہ وہ استعفیٰ نہیں دیں گے۔‘

انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کا استعفیٰ نہ آنے کے بعد ناراض اراکین نے ان کے خلاف اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد لانے کا فیصلہ کیا ہے جوکہ ایک دو روز میں اسمبلی میں جمع کیا جائے گا۔

وزیراعلیٰ کے مستعفی نہ ہونے پر ناراض گروپ میں شامل وزراء، مشیروں اور پارلیمانی سیکریٹریز نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا ہے ۔

وزیراعلیٰ سے حکمران اتحاد میں ناراض گروپ میں تین وزیر، دو مشیر اور چار پارلیمانی سیکریٹریز شامل ہیں جنہوں نے رات گئے گورنر ہاﺅس جاکر اپنے استعفے گورنر بلوچستان کے حوالے کیے۔

ان میں وزیر خزانہ ظہور احمد بلیدی، وزیر خوراک عبدالرحمان کھیتران، وزیر سماجی بہبود اسد بلوچ ، وزیراعلیٰ کے مشیر برائے محنت و افرادی قوت محمد خان لہڑی، مشیر برائے ماہی گیری حاجی اکبر آسکانی، پارلیمانی سیکریٹری اطلاعات بشری رند اور پارلیمانی سیکریٹری معدنیات سکندر عمرانی شامل تھے۔

ظہور بلیدی نے اس سلسلے میں ٹوئٹر پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ '40 حکومتی ارکان میں سے 15 اراکینِ اسمبلی، وزرا اور مشیروں کی جانب سے بیڈ گورننس کی بنیاد پر حکومت سے راہیں الگ کرنے کے بعد جام کمال کی حکومت آئینی جواز کھو چکی ہے۔'

ایک ناراض وزیر سردار عبد الرحمان کھیتران کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ کا استعفیٰ نہ آنے کے بعد ان کے پاس انھیں ہٹانے کے لیے کئی آپشن ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ کی جانب سے ناراض اراکین کو منانے کی بات کی جارہی ہے لیکن ناراض اراکین ان کو وزیر اعلیٰ تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں ۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ بلوچستان اسمبلی میں وزیراعلیٰ کو اکثریت حاصل نہیں رہی جس کے باعث ان کو آسانی کے ساتھ عہدے سے ہٹایا جاسکتا ہے ۔

اس سے قبل منگل کو بلوچستان کے وزیر اعلیٰ جام کمال کے خلاف حکومتی اتحاد میں شامل ناراض اراکین نے اعلانیہ طور پر اپنی عددی طاقت کا مظاہرہ کیا تھا۔

ناراض اراکین کا دعویٰ تھا کہ حکومتی اتحاد میں ان کی مجموعی تعداد 14 سے 15 ہے جبکہ بلوچستان اسمبلی میں حزب اختلاف کے اراکین کی تعداد 23 ہے۔

تجزیہ کاروں کی یہ رائے ہے کہ بلوچستان اسمبلی میں اگر وزیر اعلیٰ کے خلاف کوئی تحریک آئی تو ناراض اراکین اور حزب اختلاف کی مشترکہ حمایت سے اس کے کامیابی امکانات ہیں۔

گذشتہ ماہ وزیر اعلیٰ جام کمال خان کے خلاف حزب اختلاف کی تحریک عدم اعتماد بعض تیکنیکی وجوہات کی بنیاد پر بلوچستان اسمبلی پیش تو نہیں ہو سکی لیکن اب تجزیہ کاروں کے مطابق ان کی اپنی جماعت بلوچستان عوامی پارٹی اور اتحادی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ناراض اراکین کی اعلانیہ بغاوت اور ان سے براہ راست استعفے نے ان کے لیے حزب اختلاف کی تحریک عدم اعتماد کے مقابلے میں ایک بڑی مشکل کھڑی کر دی ہے۔

کھل کر میدان میں آنے کے بعد ناراض اراکین نے وزیر اعلیٰ کو چھ اکتوبر(آج) شام پانچ بجے تک استعفیٰ دینے کی مہلت دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر انھوں نے استعفیٰ نہیں دیا تو وہ اپنے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔

تاہم حکومت بلوچستان کے ترجمان لیاقت شاہوانی کا کہنا ہے کہ حکومتی اتحاد میں اکثریت وزیر اعلیٰ جام کمال کے ساتھ ہے۔

وزیراعلیٰ جام کمال کے خلاف کسی تحریک کے آنے کی صورت میں اس کامیابی کے امکانات کے بارے تجزیہ کاروں کی رائے جاننے سے پہلے تذکرہ کُھل کر سامنے آنے والے ناراض اراکین کا۔

ناراض اراکین کا تعلق کن جماعتوں سے ہے؟

اکثریتی پارٹی ہونے کے باعث بلوچستان میں مخلوط حکومت بلوچستان عوامی پارٹی کی قیادت میں قائم ہے۔

اس حکومت میں جو دیگر جماعتیں شامل ہیں ان میں تحریک انصاف، عوامی نیشنل پارٹی، ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی، بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی اور جمہوری وطن پارٹی شامل ہیں۔

پہلی مرتبہ وزیر اعلیٰ سے استعفیٰ کا مطالبہ کرنے کے لیے جو ناراض اراکین پریس کانفرنس کرنے کے لیے آئے ان کی تعداد 11 تھی۔

ان میں سے زیادہ تر کا تعلق بلوچستان عوامی پارٹی سے تھا تاہم دو اراکین کا تعلق اتحادی جماعتوں سے تھا جن میں بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی کے اسد بلوچ اور تحریک انصاف کے نصیب اللہ مری شامل تھے۔

ناراض اراکین کے گروپ کے دو اہم رہنما سپیکر بلوچستان اسمبلی عبد القدوس بزنجو اور سردار محمد صالح بھوتانی شہر سے باہر ہونے کی وجہ سے پریس کانفرنس میں موجود نہیں تھے۔

ناراض اراکین نے کیا کہا؟

بلوچستان اسمبلی

پریس کانفرنس میں بلوچستان عوامی پارٹی سے تعلق رکھنے والے وزیر خزانہ میر ظہور بلیدی نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پر بلوچستان عوامی پارٹی کے گیارہ اراکین کے علاوہ اتحادی جماعتوں کے بعض اراکین نے عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کی وجہ بلوچستان میں بڑھتی ہوئی بے چینی، خراب طرز حکومت اور ترقیاتی کاموں کا نہ ہونا ہے۔

’اس وقت بلوچستان عوامی پارٹی کے اراکین کے دو دھڑے ہیں۔ جام صاحب کے حامیوں اور ہمارے درمیان بات چیت ہوئی۔ ہم نے انھیں دو ہفتے کا ٹائم دیا تاکہ عدم اعتماد کی تحریک کے ذریعے نکالے جانے کی بجائے وہ خود بلوچستان کے عوام اور اراکین کی خواہش کو مدنظر رکھ کر استعفیٰ دیں۔‘

انھوں نے کہا کہ بجائے استعفیٰ دینے کے سوشل میڈیا پر یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ ہمارے گروپ کے کچھ لوگ ٹوٹ گئے ہیں لیکن آج ہم آپ کے سامنے کھڑے ہیں۔

’ہماری تعداد 14 سے 15 ہے ۔ ہم وزیراعلیٰ کو گزارش کرتے ہیں کہ ان کے لیے باعزت طریقہ یہی ہے کہ وہ خود اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں تاکہ بلوچستان عوامی پارٹی کے اراکین مل بیٹھ کر نئے قائد ایوان منتخب کریں۔‘

بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی کے پارلیمانی رہنما اسد بلوچ نے کہا کہ وزیر اعلیٰ جام کمال کے غلط طرز عمل کی وجہ سے سب کچھ رک گیا ہے۔

’آج طلبا، اساتذہ ، ڈاکٹر سمیت زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد میں بے چینی ہے اور وہ احتجاج پر مجبور ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اگر جام کمال خان نے استعفیٰ نہیں دیا تو ہم چھ اکتوبر کی شام ایک بڑا اعلان کریں گے جس میں عدم اعتماد کی تحریک کا اعلان بھی شامل ہو سکتا ہے۔‘

بلوچستان عوامی پارٹی سے تعلق رکھنے والے وزیر خوراک سردار عبد الرحمان کھیتران نے کہا کہ وزیر اعلیٰ ہر ایک کے گھر پر دو دو دفعہ گئے اور انھیں منانے کی کوشش کی لیکن ہم اپنے موقف پر قائم ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے بار بار وزیر اعلیٰ کو کہا کہ سب کچھ رک گیا ہے اس لیے استعفیٰ دیں۔ ’اب بھی ان کے پاس وقت ہے کہ وہ بلوچستان اور پارٹی پر رحم کھاتے ہوئے مستعفی ہو جائیں۔‘

ناراض اراکین نے وزیر اعلیٰ کو مستعفی ہونے کے لیے دو ہفتے کی مہلت کیوں دی تھی؟

اگرچہ وزیر اعلیٰ بلوچستان کے خلاف ان کی اپنی جماعت اور اتحادی جماعتوں کے بعض اراکین طویل عرصے سے ناراض تھے لیکن ستمبر کی وسط میں جب حزب اختلاف کی جانب سے وزیر اعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی تو وزیر اعلیٰ سے ناراض اراکین کا ایک گروپ بھی سامنے آ گیا۔

دنیا نیوز کے بیوروچیف عرفان سعید کے مطابق ناراض اراکین کی جانب سے حمایت کی یقین دہانی پر ہی حزب اختلاف نے تحریک عدم اعتماد پیش کی تھی کیونکہ اپنی عددی طاقت کی بنیاد پر تحریک عدم اعتماد کو منظور کروانا حزب اختلاف کے لیے ممکن نہیں تھا۔

انھوں نے بتایا کہ چیئرمین سینیٹ اور بلوچستان عوامی پارٹی کے بعض دیگر اراکین نے ناراض اراکین سے مذاکرات کیے لیکن وہ جام کمال کے ساتھ چلنے پر کسی طرح آمادہ نہیں ہوئے۔

بلوچستان

ان کا کہنا تھا کہ ’اگرچہ ناراض اراکین کو دوبارہ جام کمال کی حمایت پر آمادہ نہیں کرایا جا سکا تاہم انھیں بعض حکومتی شخصیات کی جانب سے یہ کہا گیا کہ وہ حزب اختلاف کی تحریک عدم اعتماد کی حمایت نہیں کریں کیونکہ اس سے حزب اختلاف کو شہ ملے گی اورانھیں ملک میں مسائل کھڑے کرنے کے لیے حوصلہ ملے گا۔‘

اگرچہ حزب اختلاف کی جانب سے لائی جانے والی تحریک عدم اعتماد گورنر سیکریٹریٹ کی جانب سے لگائے جانے والے اعتراضات کے باعث پیش نہیں کی جا سکی تاہم عرفان سعید کے مطابق ناراض اراکین نے حزب اختلاف کی تحریک عدم اعتماد کی حمایت نہ کرنے کے لیے یہ شرط رکھ دی تھی کہ وزیر اعلیٰ پندرہ دن تک خود مستعفی ہو جائیں۔

تاہم وزیر اعلیٰ اس مہلت کے دوران مستعفی تو نہیں ہوئے لیکن انھوں نے ناراض اراکین کو منانے کی کوشش کرنے کے علاوہ اسلام آباد میں اہم حکومتی شخصیات سے ملاقاتیں کیں۔

وزیر اعلیٰ نے اسلام آباد میں گذشتہ ایک سے ڈیڑھ ہفتے کے دوران جن اہم حکومتی شخصیات سے ملاقاتیں کیں ان میں وزیر اعظم عمران خان کے علاوہ فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ بھی شامل تھے تاہم وزیر اعلیٰ نے ضلع لسبیلہ کے علاقے حب میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ضروری نہیں ہے کہ فوج کے سربراہ کے ساتھ سیاسی معاملات پر ہی بات چیت ہوئی ہو۔

وزیر اعلیٰ دو اور تین اکتوبر کو کوئٹہ میں متعدد ناراض اراکین کے گھروں پر گئے اور ان سے ان کے تحفظات پر بات کی۔

ان ملاقاتوں کے بعد وزیر اعلیٰ نے جو ٹویٹ کیا اس کے مطابق ان کے چھ ناراض اراکین سے بہت اچھے ماحول میں بات ہوئی اور کہا کہ ’انشا اللہ سب حل ہو جائے گا۔‘

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ’کچھ افراد مزید اختلافات پیدا کرنا چاہتے تھے۔۔۔ لیکن ہم سب نے ایک دوسرے کے لیے بڑی ذمہ داری اور احترام کا مظاہرہ کیا ہے۔‘

حکومت بلوچستان کے ترجمان لیاقت شاہوانی کا کہنا ہے کہ بلوچستان حکومت میں شامل اراکین کی مجموعی تعداد 41 ہے جن میں سے 27 وزیر اعلیٰ کے ساتھ ہیں۔

سما ٹی وی کو ایک انٹرویو میں لیاقت شاہوانی کا کہنا تھا کہ ہمارے جو ناراض دوست ہیں ان کی پریس کانفرنس میں 11 لوگ تھے۔

’ناراض رفقا نے یہ دعویٰ کیا کہ تین اور لوگ بھی ان کے ساتھ ہیں تو یہ تعداد 14 بنتی ہے۔ اس لحاظ سے وہ اقلیت میں ہیں جبکہ حکومتی اتحاد کی اکثریت وزیر اعلیٰ کے ساتھ ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ جمہوریت میں اقلیت اکثریت کے تابع ہوتی ہے تو جو جمہوری کلچر ہے اس میں وہ اپنے دوستوں کو یاد دلاتے ہیں کہ وہ اکثریت کے ساتھ مل جائیں۔

بلوچستان اسمبلی میں حکومت اور حزب اختلاف کے اراکین کی تعداد کتنی ہے؟

بلوچستان اسمبلی کے اراکین کی مجموعی تعداد 65 ہے جن میں سے حکومتی اتحاد میں شامل جماعتوں کے اراکین کی تعداد 41 ہے۔

پیپلز پارٹی میں حال ہی شامل ہونے والے نواز لیگ کے منحرف رکن اسمبلی نواب ثنا اللہ زہری کا وزیر اعلیٰ کے خلاف کسی تحریک کی حمایت کرنے یا نہ کرنے حوالے سے موقف تاحال سامنے نہیں آیا ہے۔

جمعیت علمائے اسلام، بلوچستان نیشنل پارٹی اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی پر مشتمل متحدہ حزب اختلاف کے اراکین کی تعداد 23 ہے جن میں آزاد حیثیت سے کامیاب ہونے والے نواب محمد اسلم خان رئیسانی بھی شامل ہیں۔

65 اراکین کے ایوان میں وزیر اعلیٰ کو ہٹانے کے لیے سادہ اکثریت کی ضرورت ہوتی ہے جس کی تعداد 33 بنتی ہے۔

دنیا ٹی وی کے بیوروچیف عرفان سعید کے مطابق بلوچستان اسمبلی میں حزب اختلاف کے اراکین کی تعداد 23 ہے جبکہ ناراض اراکین کا دعویٰ ہے کہ ان کی تعداد 14 سے 15 ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ناراض اراکین کی یہ تعداد برقرار رہتی ہے تو وزیر اعلیٰ کے خلاف نئے سرے سے تحریک عدم اعتماد یا ناراض اراکین کی جانب سے اعتماد کا ووٹ لینے لیے قرارداد لانے کی صورت میں اس کی حمایت کے لیے ناراض اراکین اور حزب اختلاف کے اراکین کی مجموعی تعداد 37 سے 38 بنتی ہے جو کہ سادہ اکثریت سے زیادہ ہے۔

سینیئر تجزیہ کار شہزادہ ذوالفقار کا کہنا ہے کہ ناراض اراکین کا دعویٰ ہے کہ وزیر اعلیٰ کے پاس ایوان میں اکثریت نہیں ہے لیکن انھیں یہ بات ایوان کے اندر ثابت کرنی پڑے گی۔

انھوں نے کہا کہ جہاں تک حکومتی اتحاد میں اکثریت کی بات ہے 41 کے مقابلے میں ناراض اراکین کی تعداد 15 ہے۔

عمران خان، جام کمال خان
،تصویر کا کیپشنجام کمال نے گذشتہ دنوں اسلام آباد میں وزیر اعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے بھی ملاقاتیں کی ہیں

ان کا کہنا تھا کہ ’وزیر اعلیٰ یہ سمجھتے ہیں کہ حکومتی اتحاد میں شامل اراکین کی اکثریت ان کے ساتھ ہے اس بنیاد پر ممکن ہے کہ وہ استعفیٰ نہ دیں۔ ایسی صورتحال میں ناراض اراکین کو ایوان میں یہ ثابت کرنا پڑے گا کہ وزیر اعلیٰ نے اکثریت کا اعتماد کھو دیا ہے۔‘

تجزیہ کار رضا الرحمان نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کے ناراض اراکین سے ملاقاتوں کے حوالے سے سوشل میڈیا پر بعض ناراض اراکین کو منانے کا جو تاثر دیا جاتا رہا ہے، ناراض اراکین نے سامنے آنے کے بعد اس تاثر کو مسترد کیا۔

’جام صاحب کو کہا جارہا تھا کہ وہ لوگوں کے گھر جائیں اور ان سے ملیں۔ وہ گئے بھی لیکن ایسا لگتا ہے کہ وہ ناراض اراکین کو منانے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ناراض اراکین کھل کر میدان میں آ گئے ہیں اور انھوں نے بتایا کہ وہ اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں اور آج کی پریس کانفرنس میں انھوں نے اپنی عددی طاقت کو بھی دکھا دیا۔

انھوں نے بتایا کہ ناراض اراکین کی تعداد پندرہ، سولہ ہو گئی ہے جبکہ ان کی تعداد میں مزید اضافہ ہونے کا امکان بھی ہے جس کی بنیاد پر انھوں نے وزیر اعلیٰ کو عہدہ چھوڑنے کے لیے باقاعدہ ڈیڈ لائن دی۔

رضا الرحمان کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد بھی لائی جا سکتی ہے تاہم یہ آپشن بھی زیرغور ہے کہ ناراض اراکین کوئی قرارداد لائیں اور وزیر اعلیٰ کو کہیں کہ وہ ایوان سے اعتماد کا ووٹ لیں۔

رضا الرحمان کے مطابق ناراض اراکین اپنے موقف پر جس طرح قائم اور ڈٹے ہوئے ہیں اس کے پیش نظر یہ بھی ممکن ہے کہ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے وزیراعلی جام کمال اسمبلی میں اپنے خلاف کسی تحریک کے آنے سے پہلے ہی استعفیٰ دے دیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: