جانوروں کی خوراک: جنوبی افریقہ میں مکھیوں کو پالتو جانوروں کی خوراک کے لیے استعمال کرنے کا منفرد تجربہ

پالتو جانوروں کے کھانے میں پروٹین کے لیے کیڑوں کی مانگ بڑھ رہی ہے۔ فوٹوگرافر ٹومی ٹرینچارڈ نے جنوبی افریقہ کے شہر کیپ ٹاؤن میں مکھیوں کے ایک فارم کا دورہ کیا جس کے ذریعے اس مانگ کو پورا کیے جانے کی کافی امید ہے۔

تاہم شہر کے کنارے ایک صنعتی خطے پر سنہ 2018 میں شروع کیا گیا مالٹنٹو فارم اپنے روایتی دیہی فارم کی نسبت ابھی اس منزل سے کافی دور نظر آتا ہے۔

پھر بھی ہر مہینے یہ 10 ٹن سے زیادہ اعلیٰ معیار کی پروٹین سے بھرپور غذا تیار کرتا ہے، اس میں سے زیادہ حصہ بیرون ملک برآمد ہو رہا ہے۔

ڈین سمورین برگ کہتے ہیں کہ 'آپ کے ہاں خوراک کی کمی ہے، اور لوگ بھوک سے مر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ کو فضلہ جمع کر کے اسے ٹھکانے لگانے کا مسئلہ بھی درپیش ہے۔

’لہٰذا میں نے یہ دیکھنا شروع کیا کہ ہم اس سارے مسئلے میں توازن کیسے پیدا کر سکتے ہیں۔‘

Fly larvae

اس فارم کے بانی ڈین سمورین برگ بتاتے ہیں کہ انھیں یہ منصوبہ شروع کرنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی۔ وہ ایک سابق مینجمنٹ کنسلٹنٹ ہیں جنھوں نے کاروبار میں کل وقتی طور پر داخل ہونے سے پہلے سنہ 2016 میں اپنے باتھ روم میں مکھیوں کی خاص قسم، ’سیاہ سپاہی مکھیوں‘ کو پالنا شروع کیا تھا۔

کاربن کے نقصانات کے بارے میں حساس صارفین کے لیے مکھیاں پالنے کا یہ ماڈل پرکشش ہے۔

مکھی کے لاروا ہمارے کھانے کی ضائع شدہ اشیا پر پلتے ہیں۔ اس صورت میں بنیادی طور پر اس کے لیے شراب خانے کے اناج کو استعمال کیا جاتا ہے، یہ اسے اس معیار کے پروٹین میں تبدیل کر دیتے ہیں جسے فروخت کیا جا سکتا ہے اور ساتھ ساتھ بائی پروڈکٹ کے طور پر اس سے کھاد بھی بن جاتی ہے۔

یہ عمل پروٹین کی پیداوار کی دیگر اقسام کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم پانی اور کم زمین استعمال کرتا ہے اور اس سے بہت کم کاربن پیدا ہوتی ہے۔

Man pouring bugs on to a conveyor belt

برطانیہ اور جرمنی کے محققین کو سنہ 2020 کی ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ پالتو جانوروں کی خوراک کی عالمی مارکیٹ فلپائن یا موزمبیق کے کُل اخراج کی جتنی کاربن ڈائی آکسائیڈ کا فضا میں اخراج کرتی ہے۔

دنیا میں بڑے پیمانے پر سستے پروٹین مہیا کرنے والی سویا یا ماہی گیری کی عالمی صنعتوں کا براہ راست مقابلہ کرنے کے بجائے مالٹنٹو فارم ایسی مصنوعات پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو پالتو جانوروں کے کھانے کے ذائقے یا غذائیت کی خصوصیات اور ضروریات کو پورا کرتی ہیں۔

Woman looking at trays of fly larvae

سمورین برگ کا کہنا ہے کہ 'کیڑوں کی حیثیت ایک پروٹین کے ذریعے سے کہیں زیادہ اہم ہے۔

'اور دنیا میں کوئی دوسری فصل نہیں ہے جو آپ کو ایک جگہ سے سالانہ 52 فصلیں دے سکے۔'

تیزی سے پھیلنے والے مالٹنٹو فارم کو کیڑوں کی زندگی کے مختلف مراحل کے مطابق حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔

ان کا پیوپا فارم کے گراؤنڈ فلور پر ایک تاریک کمرے میں اپنی تبدیلی کے عمل سے گزرتا ہے اس سے پہلے کہ انھیں اوپر کی طرف ایک بریڈنگ انکلوژر میں منتقل کیا جائے، جہاں وائلٹ روشنی کے نیچے بالغ مکھیاں میش پنجروں میں انڈے دیتی ہیں۔

Flies in a mesh

ممکنہ صارفین کی تعداد بڑھانے کے ذمہ دار ڈومینک مالان کہتے ہیں کہ 'یہ بنیادی طور پر فارم کا انجن روم ہے، یہاں درجہ حرارت اور نمی ان کی نشو و نما کو یقینی بنانے کے لیے سب سے اہم چیزیں ہیں۔'

اگلے دروازے پر نرسری میں انڈے 'نوزائیدہ' میں تبدیل ہوتے ہیں جو پلاسٹک کے چھوٹے کنٹینروں میں تقسیم ہوتے ہیں۔ یہ پھر مخصوص درجہ حرارت والے چیمبرز میں رکھے جاتے ہیں جہاں وہ غیر معمولی شرح سے نشو و نما پاتے ہیں۔

مسٹر مالان کہتے ہیں کہ 'ہم نے انھیں اعشاریہ پانچ گرام وزن کی حالت میں یہاں رکھا اور پھر یہ چھ دنوں کے بعد (اجتماعی طور پر) 4 کلو وزن تک بڑھ گئے۔

Flies on a yellow background

مکھیوں کے مکمل طور پر بڑھنے کے بعد کنٹینرز کو ایک مشین میں خالی کر دیا جاتا ہے جو انھیں 'فراس' سے مؤثر طریقے سے اڑاتی ہے جو کہ ایک قسم کی نامیاتی کھاد کے طور پر فروخت کی جائے گی۔ مالان کا کہنا ہے کہ دواسازی کی صنعت کو بھنگ کے شعبے کی اس بائی پراڈکٹ میں کافی دلچسپی رہی ہے۔

اس مقام سے مکھیوں کے لاروا کو کئی طریقوں سے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

بہت سے خشک ہو جاتے ہیں اور امریکہ میں پالتو مرغیوں کو کھلانے کے لیے برآمد کیے جاتے ہیں۔ باقیوں کو مؤثر طریقے سے کھردرا پاؤڈر بنا دیا جاتا ہے جسے ناروے کی ایک فرم کتوں کی غذا بنانے کے لیے استعمال کرتی ہے۔

دوسروں کو اب بھی ان کے تیل کے لیے پیسا جاتا ہے، یا مائع غذا میں تبدیل کرنے کے لیے ہائیڈرولائز کیا جاتا ہے۔

Hand holding fly larvae

کمرے کے کونے میں سفید بوریوں کی قطاریں خشک لاروا سے منھ تک بھری ہوئی ہیں۔

انسان کے لیے یہ کیڑے زیادہ اچھا ذائقہ نہیں رکھتے، ان میں ایک ایسا ذائقہ محسوس ہوتا ہے جو خراب اور پرانے اناج میں محسوس ہوتا ہے۔ لیکن مالان کہتے ہیں کہ یہ ذائقہ بلیوں اور کتوں کے لیے بہت زبردست ہوتا ہے۔

زرعی کاروبار کی ڈچ تحقیقی تنظیم رابرو ریسرچ کے مطابق پالتو جانوروں کی خوراک کے لیے کیڑوں سے پروٹین کی عالمی پیداوار دہائی کے اختتام تک پانچ لاکھ ٹن تک پہنچ سکتی ہے جو کہ آج بمشکل 10 ہزار ٹن ہے۔ اور یہ ایک ایسی صنعت ہے جو تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔

شہر کے ووڈ سٹاک علاقے کی ایک لیبارٹری میں فارم کے سائنسدان مسلسل لاروا کی مصنوعات کے ذائقے اور ان کے طبی فوائدکو بہتر بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔

اس کا انحصار لاروا کو دی جانے والی خوراک، وہ حالات جن میں وہ نشو و نما پاتے ہیں اور یہ بھی کہ یہ مصنوعات حتمی طور پر کس طرح تیار کی جاتی ہے، ان سب پر ہوگا۔

Woman pouring mixture into a bottle

ڈاکٹر لیہ بیسا، جو پی ایچ ڈی کے ساتھ فوڈ سائنسدان ہیں، وہ مکھیوں کے لاروا کو انسانی استعمال کے لیے گوشت کے متبادل کے طور پر استعمال کرنے کی حامی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ 'اس (مکھیوں کا لاروا) کا دراصل کئی طرح سے استعمال کیا جا سکتا ہے۔‘

’اس کے کئی قسم کے استعمال کے حوالے سے سمجھا جا سکتا ہے۔‘

تازہ ترین مصنوعات جس پر ڈاکٹر بیسا کام کر رہی ہے وہ ایسی چیز ہے جسے پالتو جانوروں کے کھانے میں شامل کیا گیا ہے تاکہ ان کے ذائقہ اور غذائیت کے فوائد کو بہتر بنایا جا سکے۔

مالٹنٹو فارم میں شامل ہونے سے پہلے وہ ایک کمپنی شروع کرنے کے بعد جنوبی افریقہ کے میڈیا میں شہ سرخیوں کا حصہ بنی تھیں جب کیڑوں پر مبنی آئس کریم کی فروخت کی خبریں شائع ہوئی تھیں۔

Flies near a light

سنہ 2013 کی ایک رپورٹ میں اقوام متحدہ کی فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن نے کہا کہ کیڑے کھانے سے دنیا بھر میں خوراک کی کمی کو دور کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم باوجود اس کے کہ کئی ممالک کیڑوں سے بنے ناشتے کو مقبول غذا کے طور پر تناول کرتے ہیں، مگر مغربی اقوام ان کیڑوں کو اپنی غذا کا حصہ بنانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

ڈاکٹر بیسا کا خیال ہے کہ فی الحال کیڑوں کا بڑے پیمانے پر استعمال زیادہ تر پالتو جانوروں تک محدود رہنے کا امکان زیادہ ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ 'ہم ابھی اس مقام تک نہیں پہنچے ہیں۔' یہ کہنے کے بعد وہ محتاط انداز سے مزید کہتی ہیں کہ 'اس وقت انسانوں کے مقابلے میں کتوں کو کیڑوں سے بنی غذا کھلانا کافی آسان ہے۔'

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: