جانوروں کی سمگلنگ سے متعلق پانچ عجیب و غریب واقعات

جرمنی میں ایئرپورٹ پر کسٹمز افسران نے حال ہی میں 26 ایسے نایاب ریپٹائلز یعنی رینگنے والے جانوروں کی میکسیکو سے سمگنلگ کو ناکام بنایا ہے۔

دنیا بھر میں سمگلنگ کے واقعات سے متعلق خبریں تو روز ہی اخبارات کی زینت بنتی ہیں لیکن ان میں سے کچھ خبریں ایسی بھی ہوتی ہیں جو آپ کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیتی ہیں کہ 'اسے بھی سمگل کیا جا سکتا ہے۔'

دنیا بھر میں ایئرپورٹس، بندرگاہوں اور زمینی سرحدوں پر سمگلنگ کی روک تھام کے لیے کسٹمز حکام سامان کی مختلف آلات کے ذریعے تلاشی لیتے ہیں لیکن کئی سمگلر پھر بھی انھیں چکما دینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔

ایسا کئی مرتبہ ہو چکا ہے کہ نایاب جانوروں یا ان کی کھالوں کو سمگل کرنے کی کوشش کی گئی ہے کیونکہ یہ خاصی خطیر رقم میں فروخت ہو جاتے ہیں۔

ایسے کئی انوکھے اور منفرد واقعات ماضی میں بھی ہو چکے ہیں تو آئیے نظر ڈالتے ہیں سمگل ہونے والی پانچ عجیب و غریب اشیا پر۔

چھپکلی

جرمنی میں ریپٹائلز (رینگنے والے جانوروں) کی میکسیکو سے سمگلنگ

نومبر میں جرمنی میں ایئرپورٹ پر کسٹمز افسران نے 26 ایسے نایاب ریپٹائلز یعنی رینگنے والے جانوروں کی میکسیکو سے سمگنلگ کو ناکام بنایا ہے۔

ان رینگنے والے جانوروں میں 10 مردہ حالت میں کھلونوں اور ٹافیوں کے لفافوں میں پائے گئے۔

کھلونے

کولون بون ایئرپورٹ کے کسٹمز حکام کی جانب سے سامنے آنے والے بیان کے مطابق ان میں سے مردہ حالت میں پائے جانے والے جانوروں میں سے اکثر کی ہلاکت دم گھٹنے سے ہوئی جنھیں کپڑے کی گڑیاؤں میں سیا گیا تھا۔

ان میں معدومیت کا شکار جانور جیسے ہورنڈ چھپکلی، ایلیگیٹر چھپکلی، اور باکس کچھوے شامل ہیں اور انھیں جرمنی میں موجود تاجروں کے پاس جانا تھا۔

شیر

امریکہ میں شیر کے بچے کو سمگل کرنے کی کوشش

تین برس قبل امریکی ریاست کیلی فورنیا میں ایک نوجوان کو شیر کے ایک بچے کو میکسیکو سے امریکہ میں سمگل کرنے کے جرم میں گرفتار کیا گیا ہے۔

لوئس کو اوٹے میسا کی سرحد پر علی الصبح سرحد کراس کرتے وقت پکڑا گيا تھا۔

امریکہ میں محکمہ 'وائلڈ لائف سروس' کے حکام نے اس بنگالی نسل کے شیر کے بچے کو اپنی تحویل میں لے لیا تھا۔

تمام نسل کے شیر قانونی طور محفوظ نسل کے جانوروں کی فہرست میں شامل ہیں اورایسے کسی بھی جانور کو امریکہ میں لانے کے لیے اجازت لینا ضروری ہوتا ہے۔

طوطے بوتل

پلاسٹک کی بوتلوں سے نایاب طوطے برآمد

گذشتہ ماہ انڈونیشیا کے مشرقی علاقے پاپوا میں بندرگاہ پر کھڑے ایک بحری جہاز سے پلاسٹک کی بوتلوں میں بند درجنوں سمگل شدہ طوطے ملے ہیں۔

پولیس کا کہنا تھا کہ عملے نے ایک بڑے ڈبے سے آوازیں آنے کے بعد 64 زندہ جبکہ 10 مردہ طوطوں کو برآمد کیا ہے جنھیں پلاسٹک کی بوتلوں میں بند کیا گیا تھا۔

براعظم ایشیا میں پرندوں کی نسل کی معدومیت کا سب سے زیادہ خطرہ انڈونیشیا میں ہے اور یہاں پی پرندوں کی غیر قانونی تجارت بھی سب سے زیادہ ہے۔

پرندوں کو ملک کے اندر پرندوں کے بازاروں میں بیچا جاتا ہے یا انھیں بیرون ملک سمگل کیا جاتا ہے۔

باز

بیس کروڑ روپے مالیت کے باز سمگل کرنے کی کوشش

رواں برس اکتوبر میں پاکستان میں حکام نے معدومیت کا شکار ہونے والے باز پرندوں کو ملک سے باہر سمگل کرنے کی ایک کوشش ناکام بنا دی ہے۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ سمگل کیے جانے کی اس کوشش میں جن پرندوں کو ملک سے باہر لے جایا جا رہا تھا ان کی بلیک مارکیٹ میں قیمت 20 کروڑ روپے کے لگ بھگ تھی۔

پاکستان کسٹمز کے کلیکٹر محمد ساقف کا کہنا ہے کہ یہ پرندے ناپید ہونے والے جانور کی دہرست میں شامل ہیں اور انھیں افغانستان سے 'عرب ممالک' میں لے جایا جا رہا تھا۔

مشرق وسطیٰ کے متعدد ممالک میں پرندوں کی مدد سے شکار کھیلنا مقبول ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق 74 بازوں کو پکڑا گیا ہے تاہم اے ایف پی کے مطابق پکڑے گئے بازوں کی تعداد 75 ہے اور ان کے ساتھ ایک تلور بھی تھا۔ تلور ایک صحرائی پرندا ہے جس کا شکار شمالی افریقہ میں کیا جاتا ہے۔

گدھے کی کھالیں

کراچی سے گدھوں کی چار ہزار کھالیں چین سمگل کرنے کی کوشش

تین برس قبل کراچی میں کسٹم حکام نے شہر میں کی جانے والی ایک کارروائی کے دوران گدھوں کی چار ہزار کھالیں قبضے میں لی تھیں۔

حکام کا کہنا تھا کہ ان کھالوں کو غیر قانونی طور پر چین بھیجا جانا تھا۔

خیال رہے کہ چین میں گدھوں کی کھال کا کاروبار خاصا منافع بخش سمجھا جاتا ہے۔ چین میں ان کھالوں کو مختلف قسم کی کریمیں بنانے میں استعمال کیا جاتا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: