جاپان میں پانچ لاکھ پاؤنڈ کی اڑنے والی موٹر سائیکل کی نقاب کشائی

ایک نئی جاپانی کمپنی کو امید ہے کہ وہ کاروں کے شوقین لوگوں کو قائل کر لیں گے کہ وہ کار کی جگہ چھ لاکھ 80 ہزار ڈالر کی اڑنے والی موٹر سائیکل لے لیں۔

ہوا میں ہیلی کاپٹر کی طرح معلق رہنے کی صلاحیت سے لیس یہ ’ہوور بائیک‘ جاپان کی اے ایل آئی ٹیکنالوجیز نامی کمپنی نے بنائی ہے اور اس کے محدود پیمانے پر بنائے جانے والے ماڈل ’ایکس ٹروسیمو‘ کی نقاب کشائی 27 اکتوبر کو کی گئی۔

ٹوکیو میں قائم اس نئی کمپنی کو ٹیکنالوجی کی دنیا کی مشہور کمپنی مِٹسبوشی اور جاپانی فٹبالر کیسوکے ہونڈا کی حمایت حاصل ہے۔

اے ایل آئی ٹیکنالوجیز کا کہنا ہے کہ ان کی یہ جدید ترین موٹرسائیکل ایک مرتنہ چارج کرنے سے 40 منٹ تک 100 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے اڑ سکتی ہے۔

کمپنی کا ارادہ ہے کہ وہ 2022 کے وسط تک اس ماڈل کی 300 کلوگرام وزنی 200 موٹر سائیکل بنا لے گی۔

اس موٹر سائیکل پر ایک شخص ہی سوار ہو سکتا ہے اور اس میں موٹر سائیکلوں والے روایتی انجن کے علاوہ بیٹری سے چلنے والی چار موٹریں لگی ہوئی ہیں۔

کمپنی کے چیف ایگزیکٹِو ڈیسوکے کٹانو کا کہنا ہے کہ ’اب تک ہمارے پاس دو ہی طریقے تھے، زمین پر حرکت کر لیں یا آسمان پر چڑھ جائیں، (لیکن) ہمیں امید ہے کہ ہم حرکت کرنے کا ایک نیا طریقہ متعارف کرا رہے ہیں۔‘

ٹوکیو کے ایک کروڑ 50 لاکھ رہائشیوں کے لیے ایک بڑا مسئلہ سڑکوں پر بھیڑ ہے۔

جدید ترین سہولتوں سے لیس یہ دارالحکومت دنیا کا گنجان ترین بڑا شہر ہے۔

لیکن موجودہ قوانین کے تحت ہوور بائیک کو جاپان کی مصروف سڑکوں کے اوپر نہیں اڑایا جا سکتا، تاہم مسٹر کٹانو کو امید ہے کہ مشکل مقامات تک رسائی کے لیے امدادی اداروں کے کارکن یہ موٹر سائیکل استعمال کریں گے۔

’سائنس فِکشن‘

ٹیکنالوجی کے مختلف شعبوں میں قانوی مشاورت فراہم کرنے والی برطانوی کمپنی پِنسینٹ میسنز سے منسلک بین گارڈنر کا کہنا تھا کہ ایسی گاڑیاں جو کبھی بہت دُور کی بات لگتی تھیں وہ اب ہر آنے والے سال میں حقیقت بنتی جا رہی ہیں۔

’ہمیں بھی امید کرنی چاہیے کہ آخر کار یہ (اُڑنے والی موٹر سائیکل) یہاں برطانیہ میں بھی آ جائے گی۔‘

موجودہ قوانین کے تحت برطانیہ میں بھی اس ہوور بائیک کو سڑکوں پر آنے کی اجازت نہیں ہو گی، لیکن گارڈنر کہتے ہیں کہ ’حالیہ برسوں میں نئی نئی ٹیکنالوجیز پر جس قدر زور دیا جا رہا ہے، اس سے تبدیلی کے اشارے مل رہے ہیں۔‘

’ڈرائیور بغیر کاروں، خودکار روبوٹس، ڈرونز جیسی جدید ٹیکنالوجیز کی حالیہ بھرمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہمارے پاس نئی اقسام کے ذرائع آمد رفت کا ایک نمونہ آ گیا ہے جس کی مدد سے ہم ان چیزوں کو سائنس فِکشن سے اب حقیقی دنیا میں لا سکتے ہیں۔‘

نئے نئے منصوبوں میں سرمایہ کاری والے کاروباری افراد، فضائی کمپنیاں اور حتیٰ کہ اُوبر جیسی کمپنیاں ہوا میں اڑنے والی گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی صنعت سے بہت امیدیں لگائے بیٹھی ہیں اور ماہرین کہتے ہیں کہ سنہ 2040 تک اڑنے والی گاڑیوں کی صنعت کی کل مالیت ڈیڑھ کھرب ڈالر تک پہنچ جائے گی۔