جب ایک پرانے ٹی وی نے پورے علاقے کا انٹرنیٹ بند کر دیا

برطانیہ کے ایک گاؤں میں 18 ماہ تک جاری رہنے والے انٹرنیٹ کے مسئلے کا آخر کار انجینیئرز نے حل تلاش کر لیا ہے۔

اس علاقے میں گذشتہ 18 ماہ سے عین صبح سات بجے انٹرنیٹ کی رفتار انتہائی کم ہو جاتی جس سے لوگوں کو آن لائن آنے میں خاصی دشواری کا سامنا کرنا پڑتا۔

انجینیئرز نے ویلز کے گاؤں ایبرہوسن میں تاریں بھی بدلیں لیکن اس کے باوجود یہ مسئلہ حل نہیں ہوا۔ پھر انھوں نے علاقے میں ایک مانیٹرنگ ڈیوائس لگا دی اور مسئلے کی جڑ تک پہنچ گئے۔

انجینیئرز کو پتا چلا کہ یہ مسئلہ دراصل علاقے کے ایک رہائشی کے پرانے ٹی وی کے آن کرنے اور اس سے پیدا ہونے والی برقی شعاعوں کی مداخلت سے ہوتا ہے۔

ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی اوپن ریچ کے مطابق اس ٹی وی کے مالک جو اپنی شناخت ظاہر نہیں کرنا چاہتے، یہ جان کر بہت شرمندہ ہوئے کہ ان کا پرانا ٹی وی اس مسئلے کی وجہ تھا۔‘

انجینیئر مائیکل جونز نے ہمیں بتایا: ’وہ فوراً ہی اس ٹی وی کو بند کرنے اور دوبارہ استعمال نہ کرنے پر رضامند ہو گئے۔‘

انٹرنیٹ

انجینیئرز نے مسئلے کی نشاندہی اور کسی قسم کے برقی شور کا سراغ لگانے کے لیے سپیکٹرم اینالائزر نامی مانیٹر تھامے گاؤں کا دورہ کیا۔ سپیکٹرم اینالائزر مانیٹر مختلف قسم کے سگنلز کا سراغ لگا سکتا ہے۔

مائیکل جونز کہتے ہیں ’صبح عین سات بجتے ہی انٹرنیٹ بند ہو جاتا۔‘

’ہماری ڈیوائس نے گاؤں میں بڑی مقدار میں برقی مداخلت ریکارڈ کی اور یہ بات سامنے آئی کہ ہر صبح سات بجے جب ایک رہائشی اپنے پرانے ٹی وی کو آن کرتے تو پورے علاقے میں انٹرنیٹ بند ہو جاتا۔‘

یہ ٹی وی سنگل ہائی لیول امپلس نائز( SHINE) نامی شعاعوں کا اخراج کر رہا تھا جو دوسرے آلات میں برقی مداخلت کی وجہ بنتا ہے۔

مائیکل جونز کے مطابق اس مسئلے کی نشاندہی کے بعد انٹرنیٹ کی رفتار دوبارہ کم نہیں ہوئی۔

مزید کن وجوہات سے انٹرنیٹ مسائل ہو سکتے ہیں؟

اوپن ریچ کی چیف انجینیئر سوزین روتھرفورڈ نے کہا ہے کہ کوئی بھی ایسی چیز جس میں برقی رو کے اجزاۓ ترکیبی ہوں، آؤٹ ڈور لائٹس سے لے کر مائیکروویو تک، ممکنہ طور پر براڈ بینڈ کنکیشن کو متاثر کر سکتی ہے۔

انھوں نے کہا: ’ہم صرف یہی مشورہ دیں گے برقی آلات مناسب طریقے سے تصدیق شدہ ہوں اور برطانوی معیار پر پورا اترتے ہوں۔‘

’اور اگر کوئی نقص ہو تو سروسز فراہم کرنے والے سے فوری رابطہ کریں تاکہ ہم اس پر چھان بین کر سکیں۔‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *